بلوچستان: مون سون بارشوں میں چھ چھوٹے ڈیم متاثر  

ضلع پشین اور لورالائی میں دو ڈیم بارشوں کے دوران ٹوٹ گئے، جب کہ برشور میں ڈیم ٹوٹنے کے باعث کلی ملکیار اور دیگر علاقوں میں سیلابی ریلوں نے تباہی مچائی ہے۔

بلوچستان کے ضلع پشین میں بارشوں کے بعد بھر ہوا ڈیم۔ ضلعے میں سات جولائی 2022 کو ڈیم ٹوٹ گیا تھا (اے ایف پی)

پاکستان کے صوبے بلوچستان میں کئی ہفتوں سے جاری موسلا دھار مون سون بارشوں کے باعث متعدد ڈیموں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ محکمہ موسمیات کے مطابق جہاں اب تک بارشوں کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے وہیں مزید بارشوں کا امکان بھی ہے۔ 

قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے)کے ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے انچارج محمد یونس نے بتایا کہ ڈیموں کے حوالے سے صورت حال کو مانیٹر کیا جا رہا ہے اور نقصان کے باوجود ابھی حالات نارمل ہیں۔  

محمد یونس نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ گذشتہ بارشوں کے دوران صوبے میں چھ چھوٹے ڈیموں کو نقصان پہنچا تھا، جن میں دو قلعہ سیف اللہ اور دو حفاظتی بند کچی ہوشاب میں چمن توبہ اچکزئی میں ہیں اور ایک بند خوش دل خان، پشین میں ہے۔ 

یونس نے بتایا کہ ضلع کیچ میں میرانی ڈیم کے سپل وے سے پانی کا اخراج جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ محکمہ ایری گیشن اور متعلقہ ڈپٹی کمشنرز بھی صورت حال کو روزانہ چیک کر رہے ہیں۔  

انہوں نے بتایا کہ جن علاقوں میں خطرات ہیں، وہاں پر محکمہ ایری گیشن کا عملہ اور مشینری تعینات ہے جو اس پر کام کر رہے ہیں۔ 

ضلع پشین اور لورالائی میں دو ڈیم گذشتہ بارشوں کے دوران ٹوٹ گئے تھے، جن کے بارے میں جب یونس سے پوچھا گیا کہ یہ چھوٹے ڈیم تھے یا بڑے تو انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے ہم تصدیق کر رہے ہیں۔  

ادھر پشین میں مقامی افراد نے بتایا کہ برشور میں ڈیم ٹوٹنے کے باعث کلی ملکیار اور دیگر علاقوں میں سیلابی ریلوں نے تباہی مچائی تھی اور بڑی آبادی کو بےگھر کر دیا۔  

دوسری جانب ضلع لورالائی میں بھی شیر خان کڈی ڈیم میں شگاف پڑنے سے اس میں جمع شدہ تمام پانی بہہ گیا ہے۔ تاہم اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ 

لورالائی کے رہائشی اور علاقے کی تاریخ کا علم رکھنے والے نیک محمد کاکڑ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس ڈیم کے نیچے ماضی میں کاریز موجود تھے، جن کے بیٹھ جانے سے اس میں شگاف پڑ گیا۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق پشین میں تور مرغہ ڈیم ٹوٹ گیا ہے جبکہ ضلع کیچ میں دو حفاظتی بند متاثر ہوئے ہیں۔ قلعہ عبداللہ میں ایک ڈیم متاثر ہوا ہے اور باقی جگہوں پر صورت حال نارمل ہے۔  

حب ڈیم کی صورت حال

پروجیکٹ ڈائریکٹر حب ڈیم عبدالرحمن شیخ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈیم میں پانی کی گنجائش 339 فٹ ہے جبکہ اب تک اس میں پانی کی سطح 337.8 فٹ تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ڈیم مکمل بھر جانے پر سپل وے سے پانی کا اخراج شروع ہوگا۔ تمام چیزوں کو مانیٹر کررہے ہیں اور یہ پانی کراچی اور لسبیلہ کے لیے تین سال تک کافی ہوگا۔  

عبدالرحمٰن شیخ نے بتایا کہ ڈیم کے سپلوے سے آخری بار پانی کا اخراج 2020 میں ہوا تھا۔   

ادھر ڈیموں کے حوالے سے کام کرنے والے پرویز مندوخیل، جو بلوچستان کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے انفارمیشن فنانس سیکرٹری ہیں، نے کہا کہ صوبے میں حالیہ بارشوں کے باعث ایمرجنسی کی صورت حال ہے۔  

پرویز مندوخیل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جن علاقوں میں بارشیں کم ہوتی ہیں، وہاں ڈیموں کی ضرورت ناگزیر ہے۔ ڈیم دو قسم کے ہوتے ہیں۔ چیک ڈیم اور بڑے ذخیرہ کرنےوالے ڈیم۔ 

انہوں نے کہا کہ چیک ڈیم وہ ہوتے ہیں جو زیرزمین پانی کی سطح کو اوپر لانے کا کام کرتے ہیں، جس کے لیے بند باندھا جاتا ہے، جس میں بارش کا پانی جمع ہوتا ہے۔ جبکہ بڑے ڈیم زراعت کے لیے پانی فراہم کرتے ہیں۔  

پرویز کہتے ہیں کہ ڈیم ٹوٹنے کا پہلا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس میں جمع شدہ پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ راستے میں آنے والی تمام چیزوں کو بھی بہا کر لے جاتا ہے، جس میں فصلیں، باغات اور گھر وغیرہ تباہ ہو جاتے ہیں۔ 

ڈیم کی تعمیر کیا منافع بخش کاروبار ہے؟ 

ہم نے پرویز سے ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ یہاں پر ڈیم کی تعمیر کے لیے زمین پر کام آسان ہے کیونکہ مٹی کہیں اور سے لانی نہیں پڑتی ہے اور پتھر بھی مل جاتے ہیں۔

’اس وجہ سے لوگ اس کو فائدہ مند سمجھتے ہیں۔ لیکن اگر اس میں دوسری چیزوں کو ڈال دیں تو ٹھیکیدار کو اتنا فائدہ نہیں بلکہ محکمہ اور وزیر زیادہ کما لیتے ہیں۔‘ 

پرویز نے بتایا کہ بلوچستان میں اس وقت جو ڈیم ٹوٹے ہیں اس کے بارے میں معلومات سوشل میڈیا کے ذریعے موصول ہو رہی ہیں۔ حکومت کی طرف سے اعداد وشمار جاری نہیں ہو رہے ہیں، کیونکہ اگر یہ بات سامنے آتی ہے تو لوگ سوالات کریں گے کہ کیوں ٹوٹا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ پانی کے ذخائر اور ڈیم ٹوٹنے سے ہونے والے نقصان پر بھی سوال اٹھیں گے۔

بارشوں سے پانی کا ذخیرہ

محکمہ آبپاشی کے انجینیئر غلام سرور بنگلزئی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ محکمہ آبپاشی خضدار زون جس میں مستونگ، نوشکی، چاغی، خاران، واشک، قلات، سوراب اورخضدار شامل ہیں، میں 132 ڈیم تعمیر کیے گئے ہیں۔ 

انہوں نے بتایا کہ حالیہ بارشوں کے بعد 91 ڈیموں میں پانی ذخیرہ ہوچکا ہے اور ابھی مزید پانی کی گنجائش بھی موجود ہے۔

غلام سرور نے بتایا کہ ڈیموں کی نگرانی کا عمل جاری ہے، جن کا ڈپٹی کمشنر اور کمشنر کے ساتھ انجینیئر معائنہ کرتے رہتے ہیں اور ابھی تک تمام محفوظ ہیں۔  

اس سے قبل سیکرٹری ایری گیشن عبدالفتح بھنگر نے 10 جولائی کو ٹیم کے ہمراہ تحصیل دوبندی قلعہ عبداللہ کے ڈیم کا معائنہ کیا تھا۔  

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بارشوں کے پانی سے ڈیم کی باڈی کو نقصان پہنچا تاہم وہ خود ہی ٹھیک ہوگیا۔ اب اسے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان