کراچی: مون سون بارشوں کے پیش نظر عمارتوں سے بل بورڈز ہٹا دیے گئے

اگست 2020 میں شاہراہ فیصل پر گورنر ہاؤس کے نزدیک میٹروپول چورنگی پر بل بورڈ گرنے سے دو موٹرسائیکل سوار شدید زخمی ہوگئے تھے جس کے بعد سپریم کورٹ نے شہر سے تمام ہورڈنگز ہٹانے کا حکم دیا تھا۔

ضلع ایسٹ کے تمام علاقوں بالخصوص پی ای سی ایچ ایس میں شاہراہ فیصل پر سے تمام بل بورڈز ہٹا دیے گئے ہیں (تصاویر: ڈی ایم سی ایسٹ)

شہر قائد کے ضلع شرقی میں تیز سمندری ہواؤں اور مون سون بارشوں سے قبل عمارتوں پر سے بل بورڈز ہٹا دیے گئے، ڈی ایم سی ایسٹ کے مطابق بل بورڈز مون سون سیزن ختم ہونے تک ہٹے رہیں گے۔

ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن (ڈی ایم سی) ایسٹ کے ایڈمنسٹریٹر رحمت اللہ شیخ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ضلع شرقی میں تقریبا 100 سے 200 کے قریب بل اشتہاری بل بورڈز ہیں۔ ان میں سے 50 سے 60 بڑے بل بورڈز ہیں جو عمارتوں کی چھتوں پر نصب ہیں۔ ہم نے مون سون بارشوں سے قبل لوگوں کی حفاظت کے لیے تقریبا تمام بل بورڈز ہٹا دیے ہیں۔‘

انہوں نے کہا ’یہ پہلی بار ہے کہ مون سون بارشوں اور تیز سمندری ہواؤں کے پیش نظر کراچی کے ایک ضلعے سے تمام بل بورڈز ہٹائے جا رہے ہیں۔ وہ بل بورڈ جو عمارتوں کی دیواروں پر نصب ہیں ان پر سے ہم نے اشتہارت کے پینافلیکس ہٹا دیے ہیں کیوں کہ پینافلیکس کے وزن سے بل بورڈ گرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔‘

’اس کے علاوہ وہ ہورڈنگز یا بل بورڈز کو جو کہ خراب حال ہیں یا کافی بڑے ہیں اور عمارتوں کے اوپر نصب ہیں، انہیں ہم پوری طرح سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کام ہم نے شروع کردیا ہے اور بارشوں سے قبل اسے مکمل کردیا جائے گا۔‘

’ضلع ایسٹ کے تقریبا تمام علاقے بالخصوص پی ای سی ایچ ایس میں شاہراہ فیصل پر سے ہم نے تمام بل بورڈز ہٹائے ہیں۔ اس سے قبل مون سون بارشوں میں شاہراہ فیصل پر بل بورڈ گرنے سے کچھ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ تاہم اس بار ایسا نہیں ہوگا۔ محکمہ موسمیات جب تک مون سون سیزن ختم ہونے کی تصدیق نہیں کرے گا بل بورڈز نہیں لگیں گے۔‘

اگست 2020 میں شاہراہ فیصل پر گورنر ہاؤس کے نزدیک میٹروپول چورنگی پر بل بورڈ گرنے سے دو موٹرسائیکل سوار شدید زخمی ہوگئے تھے۔ اس حادثے کے باعث ان میں سے ایک 65 سالہ شخص کے سر پر گہری چوٹ آئی تھی اور تین انگلیاں بھی ٹوٹ گئی تھیں۔ اس واقعے کے بعد ضلعی انتظاميہ نے عمارت سے گرنے والے بورڈ کے آدھے حصے کو بھی ہٹا ديا تھا۔

اس کے بعد سپریم کورٹ نے شہر سے تمام ہورڈنگز ہٹانے کا حکم دے دیا تھا۔ اس سے قبل 2016 میں بھی مون سون بارشوں کے دوران کراچی کے علاقے کالا پل پر ایک بل بورڈ گر گیا تھا تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

ڈائریکٹر اشتہارات ضلع شرقی حمدان ڈی خان نے مون سون بارشوں سے قبل ضلعے سے بل بورڈز ہٹانے کے معاملے پر تمام اشتہاری ایجنسیوں کو خط جاری کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کے مطابق یکم تا پانچ جولائی کے درمیان کراچی میں تیز بارشوں اور دھول مٹی کے طوفان کا اندیشہ ہے۔‘

خط کے مطابق ’بارشوں سے قبل اقدامات کے تحت اشتہاری ایجنسیاں ضلع شرقی میں تمام عمارتوں کی چھتوں پر لگے بل بورڈز، پینلز، سکرینز اور پیسٹنگز ہٹا دیں۔ تعاون نہ کرنے پر کسی حادثے کی صورت میں ایجنسیاں خود ذمہ دار ہوں گی۔‘

اگست 2020 میں موٹر سائیکل سواروں پر بل بورڈ گرنے کے معاملے پر اس وقت کے چیف جسٹس گلزار احمد نے کراچی میں ازخود نوٹس لیتے ہوئے پورے شہر سے بل بورڈز ہٹانے کا فیصلہ سنایا تھا۔ سماعت کے دوران انہوں نے ریمارکس دیے تھے کہ ’پورے شہر میں ہر جگہ آپ کو بل بورڈ نظر آئیں گے۔ اگر یہ بل بورڈز کسی پر گر گئے تو بہت نقصان ہوگا۔ کراچی کی عمارتوں پر اتنے بل بورڈز لگے ہوئے ہیں کہ کھڑکیاں بند ہوگئی ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا تھا کہ ’مکانوں پر اشتہارات اور بل بورڈ کی وجہ سے ہوا ہی بند ہوگئی ہے۔ یہ تو قانون کے خلاف ورزی ہے، حکومت نام کی کوئی چیز نہیں، ہر بندہ خود مارشل لا بنا بیٹھا ہے، سندھ حکومت کی رٹ کہاں پر ہے؟‘

چیف جسٹس نے استفسار کیا تھا کہ بل بورڈ کس نے لگایا تھا؟ اس پر ایس ایس پی ساؤتھ نے بتایا کہ دو ملزمان نامزد اشرف موتی والا اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ان کی تلاش جاری ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ کیا وہ سمندر کے نیچے چلے گئے ہیں؟ ’عدالت میں فضول باتیں مت کرو، جاؤ اور ان کو آدھے گھنٹے میں ڈھونڈ کر لاؤ۔‘

یاد رہے کہ 2018 میں بھی سپریم کورٹ نے کراچی میں فٹ پاتھوں اور گرین بیلٹس پر لگائے گئے غیر قانونی سائن بورڈز اور ہورڈنگز کو ہٹانے کا حکم دیا تھا۔ تاہم اس حکم کے باوجود بھی شہر میں بڑی تعداد میں بل بورڈز نظر آتے ہیں۔

اس حوالے سے اس وقت کے کمشنر کراچی کے احمر پاشا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ انہوں نے بارش کے دوران شہری پر بل بورڈ گرنے کے حادثے کے بعد حادثے کے دن سات اگست 2020 کو ہی کراچی سے تمام بل بورڈز ہٹانے کا نوٹیفیکشن جاری کر دیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان