کیریکٹر کیا ہے؟ جھوٹ کا دوسرا نام؟

آپ جو کچھ سوچتے ہیں، اکیلے میں کرتے ہیں، کسی کی پروا کیے بغیر کرنا چاہتے ہیں، کیا وہ آپ کا کردار کہلا سکتا ہے؟ ظاہری بات ہے نہیں، ایسا ہوتا تو دنیا میں اٹھانوے فیصد لوگ ’بدکردار‘ کہلاتے اور باقی دو پرسنٹ دور کہیں جزیروں پہ سب سے الگ رہ رہے ہوتے!

کیریکٹر کیا ہے؟ جھوٹ کا دوسرا نام؟ کوئی بھی انسان زندگی بھر جس طریقے سے اٹھتا بیٹھتا ہے، کھاتا ہے، دوسروں سے بات چیت کرتا ہے، جیسا دکھائی دیتا ہے، وہ کردار کہلاتا ہے اس بندے کا۔

اسی کیریکٹر سازی کی دوڑ میں بھاگتے بھاگتے ہم لوگ اکثر وہ جملہ بھی سنتے ہیں کہ ’لوگ کیا کہیں گے۔‘

جتنا جس کے لیے ممکن ہوتا ہے یہ والے سوال سے بچنے کے لیے ہر ایسا کام کرتا ہے جو دوسرے لوگوں کے لیے ہضم کرنا آسان ہو ۔۔۔ لیکن کب تک، انسان ہے تو لڑکھڑائے گا۔۔۔ تب پہلا خوفزدہ خیال اسے ’کردار‘ پہ خرابی کے ٹھپے کا آتا ہے۔

آپ جو کچھ سوچتے ہیں، اکیلے میں کرتے ہیں، کسی کی پروا کیے بغیر کرنا چاہتے ہیں، کیا وہ آپ کا کردار کہلا سکتا ہے؟ ظاہری بات ہے کہ نہیں، ایسا ہوتا تو دنیا میں اٹھانوے فیصد لوگ ’بدکردار‘ کہلاتے اور جو باقی دو فیصد ہوتے وہ دور کہیں جزیروں پہ سب سے الگ رہ رہے ہوتے!

ہم کہہ سکتے ہیں کہ مارکیٹ میں اپنے آپ کو ایک خوبصورت ریپر میں لپیٹ کے پیش کرنا اور اس کی بنیاد پہ انعام حاصل کرنا ’اچھا کیریکٹر‘ کہلاتا ہے۔ یہاں مارکیٹ سے مراد معاشرہ سمجھ لیں، ریپر سے مراد وہ سب کچھ ہے جو آپ لوگوں کے خوف سے کرتے ہیں اور انعام آف کورس ’اچھا کردار۔‘

کردار کا خوف ایک ایسی خطرناک چیز ہے جو ساری زندگی ہمیں اپنے پیچھے دوڑاتی ہے اور کسی نامعلوم لمحے، کوئی ایک حد پھلانگنے کے جرم میں ہماری پہنچ سے بہت دور چلی جاتی ہے۔ اس چھلانگ کے بعد بندہ پھر سے اپنی کردار سازی میں لگ جاتا ہے، جسے عرف عام میں معافی تلافی کہا جا سکتا ہے۔

ماڈرن دنیا میں رہتے ہم لوگ اپنے تین کرداروں کو برقرار رکھنے کے چکر میں ہلکان ہوتے ہیں اور مستقل ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ایک سوشل میڈیا کردار، دوسرا وہ کردار جو ہمارے آس پاس لوگوں کے سامنے ہم نے پلیٹ میں رکھنا ہوتا ہے اور تیسرا جو اصل میں ہم لوگ ہوتے ہیں، جس سے شاید ہمارے انتہائی قریبی دو چار لوگ واقف ہوتے ہیں۔

ایک انسان جب ترازو اٹھاتا ہے تو دوسرے بندے کا یہی ’کردار‘ اس کے پاس سب سے پہلی چیز ہوتا ہے کوئی حکم لگانے کے لیے۔ اسی ترازو کے فیصلے سے بچنے کے لیے ہر آدمی دوسروں کے سامنے قابل فروخت خصوصیات کا ڈھیر لگائے بیٹھا رہتا ہے۔

سوچیں دنیا کیسی ہوتی اگر یہ ’فیصلے‘ نہ ہوتے؟ اگر انسانوں کو گِنا یا تولا نہ جاتا بلکہ ہر ایک شخص ایک علیحدہ پیکج کے طور پر پہچانا جاتا؟ مثلاً ایک کام اگر عثمان اور فیصل کرتے ہیں تو کیا ضروری ہے وہی کام زبیر بھی کرے؟ زبیر لیکن اس لیے کرے گا کیونکہ عثمان اور فیصل نے اس کے لیے ’اچھے پن‘ کا ایک معیار سیٹ کر دیا ہے۔ پھرباقی سب ان تینوں کے پیچھے لگ کے وہی کام کریں گے اور اچھے پن کے نمبر بڑھاتے جائیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تو کردار وہ ڈھال ہے جس کے پیچھے اصل آدمی چھپ کر دوسروں کے تیروں اور تلوار کا مقابلہ کرتا ہے؟ برے وقت میں اسی کردار کی ضمانت بینک، پولیس اور عدالت تک قبول کرتے ہیں اور اسی بنیاد پر فیصلے دیے جاتے ہیں، یعنی معاشرتی حیوان کو سدھائے رکھنے کے لیے یہ ہنٹر خود ہم لوگوں نے ایجاد کیا۔

اچھے کیریکٹر کو برقرار رکھنے کے لیے ہم لوگ جھوٹ بولتے ہیں، حقائق چھپاتے ہیں، دوسرے کی ہاں میں ہاں ملا کر تیسرے کی برائی کرتے ہیں، سہمے ہوئے رہتے ہیں، دوسروں کی آہٹ سے چوکنے رہتے ہیں، سوچ تک پہ پہرے لگاتے ہیں اور کوئی دوسرا اگر کچھ ایسا کر دے، جو کرنے کی خواہش اصل میں ہمارے اندر بھی ہوتی ہے لیکن ہم خوف کے مارے کرتے نہیں، تو اس دوسرے کو بھی طعنوں کے چِھتر مار مار کے مار دیتے ہیں۔

لوگوں کے لیے آپ جتنے قابل قبول ہوں گے اتنا ہی آپ کو اچھا سمجھا جائے گا اور یہ سرٹیفیکیٹ کردار ہی عطا کرے گا۔

آپ کو پتہ ہے یہ سارے مسئلے کیوں ہوتے ہیں؟ کیوں کہ ہر وقت ہر آدمی اپنا ترازو ہاتھ میں لیے کھڑا ہوتا ہے۔ آج اگر آپ صرف دو دن کے لیے اپنا ترازو کہیں پھینک دیں اور سوچ لیں کہ دوسرے کو خواہ مخواہ جج نہیں کرنا تو کم از کم چھ سات لوگ اس بے وجہ تنقید سے بچ جائیں گے جو آپ کا اور ان کا، دونوں کا جینا حرام کیے ہوتی ہے۔

انسان فرشتہ بننے کے چکر میں ہلکان ہوتا ہے۔ اگر اسے تسلی ہو کہ انسان رہ جانے میں اس کا نقصان کوئی نہیں تو وہ نسبتاً سکون سے رہے گا۔ آپ کو بچپن کیوں پسند ہے اپنا؟ اکثر سارے بیٹھ کے اسے کیوں یاد کرتے ہیں؟ اس لیے کہ تب آپ کے پاس زندگی گزارنے کے لیے موجود پابندیوں کا سیٹ بہت چھوٹا سا تھا، بہت سے لوگوں کے ترازو کی پروا آپ کو نہیں تھی اور اگر کوئی خوف تھا بھی تو بس ماں باپ کا تھا اور ظاہری بات ہے وہ بخش بھی دیتے ہوتے تھے!

ترازو پھینکیں کیسے؟ دوسروں کو ایویں جج کرنا کیسے چھوڑیں؟ سوچیں کہ ایک کیمرہ لگا ہوا ہے چھت پر، جہاں پنکھا ہوتا ہے وہاں۔۔۔ اور ادھر سے آپ سارا منظر دیکھ رہے ہیں۔ آپ خاموشی سے دیکھ سکتے ہیں لیکن بول نہیں سکتے، ہاں، سوچ سکتے ہیں!

سوچیں، کیا آپ سامنے والے سے متاثر ہو رہے ہیں، گھبرا رہے ہیں، ویسا ہی کچھ کرنا چاہتے ہیں، جل رہے ہیں، غیر محفوظ ہو رہے ہیں یا پریشان ہیں کہ چل کیا رہا ہے؟

آپ کا ترازو اصل میں آپ کے محسوسات اور احساس کمتری یا برتری کے تحت چالو ہوتا ہے۔ خود فیصلہ کریں کہ آپ دوسروں کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت کس جذبے کا شکار ہیں اور اس بندے کی جگہ آپ ہوتے تو آپ کیا کرتے؟؟؟ فیصلے آسان ہو جائیں گے، خود آپ بھی سُکھی رہیں گے، شرط بس وہی ہے۔۔۔ پنکھے کی جگہ پر لگے کیمرے والا اینگل!

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ