تحریک انصاف کا ’اسلامی کے بعد فلسطینی ٹچ‘

اب ایک مرتبہ پھر تحریک انصاف ہی سابق امام مسجد اقصیٰ کے ایک خط کو عمران خان کے حق میں گواہی کے طور پر پیش کرنے کا ’اعزاز‘ حاصل کر رہی ہے، تاکہ ’اسلامی ٹچ‘ کے ساتھ جاری اپنے کاروبارِ سیاست کو مزید فائدہ پہنچا سکیں۔

مسجد اقصیٰ کے خطیب عكرمه سعید صبري نے پی ٹی آئی چیئرمین کے نام اپنے خط میں لکھا کہ ’ہم بیت المقدس میں ہیں لیکن ہمارے دل آپ کے اور پاکستانی قوم کے ساتھ ہیں۔‘(فوٹو: انادولو نیوز ایجنسی)

ایک فلسطینی عالم دین عکرمہ سعید صبری کا ایک مبینہ خط آج کل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور عمران خان کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر بڑے زور وشور کے ساتھ وائرل کر رکھا ہے، جس میں وہ پنجاب میں حالیہ ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کی جیت پر عمران خان کو مبارک باد دی رہے ہیں۔ 

عکرمہ سعید صبری، جن سے یہ خط منسوب ہے، 1994 سے 2006 تک مسجد اقصیٰ کے امام کے منصب پر فائز رہے۔ فلسطینی رہنما یاسر عرفات نے انہیں مسجد اقصیٰ کا امام مقرر کیا تھا۔

سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور وبین المذاہب ہم آہنگی نور الحق قادری کے ساتھ گذشتہ برس بھی عکرمہ سعید صبری کو ایک ویڈیو پیغام میں تبادلہ خیال کرتے دیکھا گیا تھا۔ 

اب ایک مرتبہ پھر تحریک انصاف ہی سابق امام مسجد اقصیٰ کے ایک خط کو عمران خان کے حق میں گواہی کے طور پر پیش کرنے کا ’اعزاز‘ حاصل کر رہی ہے، تاکہ ’اسلامی ٹچ‘ کے ساتھ جاری اپنی سیاست کو مزید فائدہ پہنچا سکیں۔

یہ تسلیم کہ ملک میں عمران خان بلاشبہ ایک مقبول سیاسی رہنما کے طور پر موجود ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس میں ان کی کسی کارکردگی یا شخصی خوبی کا زیادہ دخل نہیں ہے جسے عام لفظوں میں اور انفرادی سطح پر اخلاق یا کردار سے یاد کیا جاتا ہے۔ لیکن جس طرح انہوں نے حکومت سے نکلنے کے بعد عوامی سطح پر اب تک مقبولیت پائی ہے اور ضمنی انتخاب جیتا ہے، اس کا اعتراف کیا جانا چاہیے۔

ان کی انتخابی حکمت عملی، انتخابی مہم کے دوران انتھک انداز میں کام کرنا ان کے کام آیا۔ مزید یہ کہ انہوں نے تحریک عدم اعتماد کے دنوں میں کہا تھا کہ اگر انہیں حکومت سے نکالا گیا تو وہ زیادہ ’خطرناک‘ ثابت ہوں گے، وہ اس میں کافی حد تک درست ثابت ہوئے۔

لیکن ان کی سیاست اور سیاسی حکمت عملی میں بعض چیزیں ایسی ہیں کہ ان کو نظر انداز کر کے ان کی عوامی مقبولیت کے بہاؤ کے ساتھ بہا نہیں جا سکتا۔ اگر عوامی لہر کو دیکھ کر کوئی آنکھیں بند کرے گا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے قوم اور خصوصاً نئی نسل کے ساتھ دیانت داری نہیں برتی۔ 

ایک چیز جسے مشہور زمانہ سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے ’اسلامی ٹچ‘ کا نام دے کر سب کو پی ٹی آئی کی سیاست کا واضح حلیہ بتا دیا ہے۔ اس پر غور کیا جائے تو پی ٹی آئی ایک لبرل بلکہ بعض سطحوں پر عمومی سماجی وسیاسی اخلاق کی پروا نہ کرنے والی جماعت ہے۔ یہ اس کے باوجود ہے کہ عمران خان اور ان کی پارٹی میں اعلیٰ مناصب پر موجود ان کے مشیران ومعاونین اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا ایک خاص نظریاتی پس منظر ہے۔ 

اس حقیقت کے باوجود عمران خان نے اپنی پارٹی کو اپنی خواہشات کے تکمیلی جذبے کے تابع رکھنے کی کوشش کی۔ ان کے حامیوں اور حامیات نے بھی خود کو ایک ’الٹرا ماڈ‘ گروہ کے طور پر ہی ثابت کیا ہے۔ اس پس منظر میں یہ اتفاق نہیں کہ اس جماعت میں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہیں جو پارٹی کے عمومی کلچر کے بارے میں مختلف رائے رکھتا ہو۔ اگر کوئی ایسا دعویٰ رکھتا بھی ہے تو اس پر واضح انداز میں بات کرنے کی ہمت سے محروم ہے۔

اس طرح عمران خان اور ان کی جماعت میں شاید ہی کوئی فرد ہو جو دین کی تفہیم رکھتا ہو۔ مگر ان میں ہر کوئی دینی اصطلاحات، شعائر اور مقامات مقدسہ کو اپنی سیاسی خوانچے میں شامل کرنے پر ضرور مائل رہتا ہے۔

اسی نظریہ ضرورت کے تحت پی ٹی آئی اور عمران خان نے گاہے بگاہے مولانا طارق جمیل کو اپنے ساتھ رکھنے کا بھی تاثر دیا۔ اسی شاید ضرورتِ سیاست کے تحت تسبیح کا ہاتھ میں موجود رکھنا دکھائی دیتا رہا۔ جیسا کہ ماضی میں مرحومہ بےنظیر بھٹو بھی تسبیح کا خوب استعمال کرتی رہیں۔ عمران خان کے اسی مقصد کی خاطر درباروں پر ننگے پاؤں جانے اور بہشتی دروازے سے گزرنے کی تشہیر کی گئی۔ 

ایاک نعبد و ایاک نستعین کی دعائیہ آیات کا استعمال، امر بالمعروف کی دینی اصطلاح کا زبانی اور تقریری استعمال اور سب سے بڑھ کر ریاست مدینہ کے چرچے کیے گئے۔

یہ بات بلاخوف تردید کہی جا سکتی ہے اگر پی ٹی آئی کا قبلہ سیاست واقعی دین کی طرف ہوتا تو اس کے لوگوں کے لب ولہجے، لوگوں کی اٹھک بیٹھک، رہن سہن، چال چلن اور عمومی زندگی میں بھی کوئی اثر اگر پہلے نہیں تھا تو کم از کم اب ہی نظر آنا شروع ہو جاتا۔ 

ان دینی نظریات کے ساتھ ان کی فطری اتحادی جماعت اسلامی یا اس طرح کی کوئی دوسری جماعت ہوتی۔ یہ اس کو ساتھ ملا کر یا اس کے ساتھ مل کر چلنے کے لیے پریشان نظر آتے۔ علمائے دین سے اپنی سیاست میں پہلے سے موجود آلائشوں کو دور کرنے کی سعی کرتے۔ مگر ایسا کچھ ریکارڈ پر نہیں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس لیے خدشہ ہے کہ جو نوجوان پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ اور ریاست مدینہ کے خوبصورت نعروں پر اس جماعت کے قریب آتے ہیں، انہیں کل کلاں مایوسی ہو سکتی ہے۔ 

بدقسمتی سے پی ٹی آئی نے تو جس دین کو اپنے کاروبارِ سیاست کے فروغ کے لیے استعمال کرنے کا راستہ لیا ہے اس پر کچھ خرچہ کیا ہے نہ سعی وقربانی دی۔ مفت میں ہی دینی سیاست کے شہسوار بن رہے ہیں۔ 

معروف ہے کہ بعض شہروں میں ایسے حاجیوں کی کمی نہیں جن کے حج کا اول وآخر مقصد اپنے نام کے ساتھ لفظ حاجی کا اضافہ کر کے سادہ لوح گاہکوں کی سادگی سے فائدہ اٹھانا اور اپنی بکری بڑھانا ہوتا ہے۔ 

پی ٹی آئی کی سیاسی اصطلاحات کے سائے میں پناہ لینے کی مثال فیصل آباد میں کپڑے کا کاروبار کرنے والے ایسے ہی بعض حضرات کی طرح ہے۔ 

قبلہ عمران خان اور ان کی پی ٹی آئی بھی اپنی سیاسی بِکری بڑھانے کے لیے دین کا استعمال اسی انداز سے کر رہی ہے۔

فلسطین کے ایک عالم دین کے خط کا التزام و اہتمام کے ساتھ حاصل کرنا اور اسے سوشل میڈیا پر وائرل کرنا اسی ضرورت کے پیش نظر ہے۔

سوشل میڈیا پر سابق امام مسجد اقصیٰ عکرمہ سعید صبری کے حوالے سے ایک خط کو بنیاد بنا کر کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے پنجاب میں 20 حلقوں کے ضمنی انتخاب کے دوران 15 نشستیں جیتنے پر عمران خان کو مبارک باد دی ہے۔ 

دلچسپ بات یہ ہے کہ جب عمران خان اور ان کی جماعت باضابطہ دینی جماعتوں کے مقابلے میں خود کو سب سے زیادہ بڑی دینی شناخت کی حامل بنا کر پیش کر رہی ہے اور اس چیز سے قطع نظر رہتے ہوئے کہ دینی قیادت، دینی جماعت کا معیار انفرادی واجتماعی زندگی میں کیا ہوتا ہے یا توقع کیا جاتا ہے۔ 

پی ٹی آئی نے ایک دینی شخصیت کے خط کا سہارا لیا ہے۔ دین کا اپنی اغراض کے لیے یہ استعمال اتنا گمراہ کن، بے رحمانہ اور اندھا دھند کیا جا رہا ہے کہ عکرمہ سعید صبری جس مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب رہے ہیں، اس کی تصویر کی بجائے قبہ الصخرہ (پہاڑی کے گنبد) کی تصویر دکھائی جا رہی ہے۔ 

مسجدِ اقصیٰ اور گنبدِ صخرہ میں کیا فرق ہے؟ تفصیل اس ویڈیو میں دیکھیے

 

اسرائیل بھی عالمی ذرائع ابلاغ میں اسی قبہ الصخرہ کی تصویر کی اشاعت کا خصوصی اہتمام کر کے انتہا پسندوں یہودیوں کی تختہ مشق بننے والی مسجد قبلی (قبلہ اول) کے حوالے سے سب اچھا کی خبریں جاری کرواتا ہے۔ 

قبلہ اول کے کانسی رنگ گبند کے سائے تلے اسرائیل فوجی خون کی ہولی کھیلتے ہیں، مگر مغربی میڈیا الحرم القدسی کے صحن میں واقع قبہ الصخرہ میں فلسطینیوں کو برف کے گولوں سے کھیلتے دکھا کر سب اچھا کا تاثر دیتا ہے۔ 

اسی ایجنڈے کی تکمیل کی ناکام کوشش حال ہی میں اسرائیل کا دورہ کرنے والے پاکستانی پاسپورٹ کے حامل کچھ دانشور وصحافی بھی کر چکے ہیں۔

عکرمہ سعید صبری ایک عرصے سے مسجد اقصیٰ میں امامت کی ذمہ داری سے الگ ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا میں پی ٹی آئی کی طرف سے زوردار طریقے سے وائرل  کیے گئے اس خط میں ان کے دستخط بھی موجود نہیں ہیں۔ بہتر ہوتا کہ ایک مسلمان سیاسی رہنما کے طور پر عمران خان اور ایک سیاسی جماعت کے طور پر پی ٹی آئی کبھی کچھ کردار ادا کرتی بھی نظر آتی۔ 

حالانکہ مصدقہ اطلاعات یہ ہیں کہ ان کی جماعت نے اور انہوں نے فلسطینیوں کے لیے کلمہ خیر بھی کم ہی کہا ہے، حتیٰ کہ حکومت میں رہتے ہوئے کبھی بھی ایسا کچھ پی ٹی آئی اور عمران خان کے دفتر عمل میں نہیں ہے۔ 

پی ٹی آئی دور حکومت میں تو کسی فلسطنی رہنما کے ساتھ ملاقات بھی ریکارڈ پر نہیں کہ عمران خان یا ان کی حکومت نے کسی فلسطینی رہنما سے کوئی ملاقات کی ہو، یا پاکستان کی دعوت دی ہو۔ 

یہ تک نہ کیا جا سکا کہ کسی فلسطینی شخصیت کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی ہو یا اس کے آنے پر والہانہ استقبال کی نوبت آئی ہو، ایسے امام کعبہ کا جس طرح ماضی میں کئی پاکستانی شخصیات کرتی رہیں ہیں۔ یادش بخیر چوہدری شجاعت حسین نے فوجی آمر پرویز مشرف کے وزیر داخلہ کے طور پر ایک پر آشوب زمانے میں ایسی کوشش کی تھی۔

رہے عمران خان تو انہوں نے تو اہل کشمیر کا سفیر بننے کا دعویٰ بھی کیا تھا، مگر پھر شاید بھول گئے۔ آج تک دوبارہ اس دعوے کی لاج رکھنے کا نہیں سوچا۔ سچی بات یہ ہے کہ کشمیری عوام ان کے دورِ حکومت میں کہیں زیادہ نقصان اٹھا چکے ہیں۔ 

کشمیریوں کی تحریک کو مشرف دور سے لے کر آج تک جو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے یا کشمیریوں کے لیے سب سے تکلیف دہ مراحل آئے ہیں تو مشرف دور کے بعد انہی کے دور میں آئے۔ 

اتفاق سے آج شہباز دور میں بھی اسی کا تسلسل موجود ہے۔ اس لیے پارٹی کو اسلامی ٹچ دینے کے لیے فلسطینی مزاحمت کاروں کے روحانی پیشواؤں اور پشتی بانوں کا استعمال بڑی ہی بے رحمانہ حرکت لگتی ہے۔ جو بائیڈن کے دورے کے بعد تو وہ زیادہ مشکل میں آ رہے ہیں۔ 

فلسطینی ہر پاکستانی کو محبت اور عزت کے حوالے سے جانتے ہیں۔ اگر عمران خان یا ان جیسی کسی دوسری جماعت نے ان کا نام اپنی پاور پالیٹکس کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا تو یہ فلسطینیوں کے ساتھ بڑی زیادتی ہو گی۔

پی ٹی آئی کی وجہ سے پہلے ہی ریاست مدینہ کی قابلِ احترام اصطلاح متنازع بنائی جا رہی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ دین کے معاملات کا یہ استعمال نہ کیا جائے۔ 

دینی جماعتیں اگر ایسا کریں تو بھی اس کا کچھ جواز ہو گا۔ ان کا اپنا ایک پس منظر ہے، ایک تاریخ ہے اور ان کے قائدین کا شخصی واجتماعی کردار بھی گواہ ہے۔ کم از کم پی ٹی آئی اس کے لیے کوالیفائی نہیں کرتی۔ 

حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کی پارٹی کا دین کے حوالے سے سیاست کرنا اور جمعیت علمائے اسلام ف کے امیر کا پی ٹی آئی کے سربراہ کے لہجے اور انداز میں سیاست کرنا دونوں قبول نہیں۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی رائے پر منبی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا لازمی نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ