جہاں جدت نے حدت میں اضافہ کیا

گاوں کے صحن اس چھاؤں کو یاد کرتے ہوں گے، روم کولر اور یو پی ایس کتنا ہی ساتھ دیں گھنے درختوں کی چھایا جتنا ساتھ نہیں دے سکتے۔ مگر کیا یہ ممکن ہے کہ اب یہ پہیہ دوبارہ اپنی چال الٹی چلے۔

شہتوت، بیری، کیکر اور نیم کے درختوں کی چھاؤں میں رکھی چارپائیاں کسی محل کے تخت سے ذیادہ آرام دہ تھیں۔ (اے ایف پی)

نیلا آسمان، صاف فضا، تازہ ہوا اور کھلے صحن میں قطار میں بچھی بان کی چارپائیاں۔ سورج جب پیٹھ پھیرنے لگتا تو صحن میں پانی کا چھڑکاؤ سارا منظر مہکا دیتا۔ مغرب کی نماز کے بعد کھانا اور پھر پورے خاندان نے صحن میں چھوٹی سی میز جسے ٹپائی کہتے تھے اس پر رکھے بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی پر ٹکٹکی لگا کر بیٹھ جانا۔ نو بجے کے بعد جیسے رات کے احترام میں ہر طرف گہری خاموشی چھا جاتی۔ صحن میں پڑی چارپائیوں پر بستر لگ جاتے۔ ہم آسمان پر ٹوٹے تاروں کو تلاش کرتے، دور تاروں جیسے لگتے جہازوں کو ڈھونڈتے اور امی کو کلمے یاد کر کے سناتے سو جاتے۔

یہ کسی ڈرامے کا منظر نہیں بلکہ گاؤں کی وہ زندگی تھی جس میں ہم نے بچپن اور لڑکپن گزارا۔ بہت سال تک ہمیں یہ غلط فہمی رہی کہ ٹی وی کی نشریات رات آٹھ بجے سے سوا نو بجے تک ہی ہوتی ہیں اور دوبارہ اس چودہ انچ کے ڈبے میں زندگی صبح کی نشریات کی صورت میں جاگتی۔

صحن کا ایک کونہ اوپن کچن، ڈرائنگ روم اور لاؤنج تینوں کا کام بھی دیتا۔ گرمیوں کی شاموں میں صحن کے کچے حصے پر پانی چھڑکنے سے شدید گرمی میں بھی ٹھنڈک کا احساس ہونے لگتا تھا۔ صحن کے ایک کونے میں شہتوت کے درخت کی چھاؤں کے نیچے گھڑے رکھے جاتے تھے۔ جن کا پانی ایک میٹھی مانوس مہک اور تراوٹ لیے ہوتا تھا۔ پودے اور درخت لگانا زندگی کے دیگر معمولات کا حصہ تھے۔ خواتین کچھ موسمی سبزیاں بھی گھر میں اگا لیتیں تھیں۔ رشتے داروں کے گھروں میں زیادہ تر چھتیں گارے اور مٹی کی تھیں تو ہر سال سارا خاندان ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے گارے کا نیا لیپ کرتا۔ حلوہ پکایا جاتا اور کسی جشن کے سے انداز میں گارے کی بالٹیاں رسی سے کھینچ کر چھتوں پر پہنچائی جاتیں۔ نیا گارا لگنے سے چھت نئے اور کمرے ٹھنڈے ہو جاتے۔ خاندان کے اکٹھ کے جشن کے مناظر گندم کی کٹائی اور مونگ پھلی کی چنائی پر بھی نظر آتے تھے۔ جب سارا خاندان ایک دوسرے کی مدد کرتا۔ ہماری زبان میں اس مدد کرنے والے کو ’لیترا‘ کہا جاتا تھا۔ ہمارے گھر کے نصف حصے پر سیمنٹ سے بنی چھت تھی اور بقیہ گارے والی جو بعد میں سیمنٹ کی ٹائلز میں گم ہو گیا۔

میرے کئی رشتے داروں کو میرے گھر کا پکا صحن اور پکی چھت بہت پرکشش لگتی تھی جب کہ مجھے صحن میں پانی کے چھڑکاؤ سے اٹھنے والی سوندھی خوشبو بےحد پسند تھی۔ شہتوت، بیری، کیکر اور نیم کے درختوں کی چھاؤں میں رکھی چارپائیاں کسی محل کے تخت سے زیادہ آرام دہ تھیں۔ جون جولائی کی گرمی میں بھی ان چارپائیاں پر ہاتھ سے بنا پنکھا جھلتے ہوئے ایسی پرسکون نیند آتی تھی کہ جس کا کوئی نعم البدل نہیں تھا۔

صحن کے ایک کونے میں تندور تھا۔ خاندان کی عورتیں کسی ایک گھر میں ہی تندور گرم کر کے مل کے روٹی بنا لیتی تھیں۔ اس روٹی کی خوشبو اور ذائقہ بھی ایسا بےمثال تھا کہ آج کا فلیورڈ پیزا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔ گھر کے بیچوں بیچ ہینڈ پمپ تھا جہاں بچوں کو مقابلہ کرنے کا کہہ کر بڑے بالٹیاں بھروایا کرتے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیسویں صدی کے آخری سالوں میں گاؤں کا روایتی پن بھی اکیسویں صدی میں داخل ہونے کے لیے پینترے بدلنے لگا۔ وقت کا پہیہ بہکی رفتار سے چلنے لگا۔ صحن کی سوندھی خوشبو کہیں گم ہو گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہی گاؤں میں گھروں کی چھتیں پختہ ہونے لگیں۔ گارا لیپنے کا جشن آہستہ آہستہ خاموش ہوگیا۔ صحنوں میں سنگ مرمر چمکنے لگا، پودے کم ہوتے ہوتے صرف دیوار کے ساتھ ایک سہمی سی قطار تک محدود ہوگئے۔ کیاریوں کی جگہ چند گملے آگئے۔

ترقی کی اس چال سے ڈر کر کچے گھڑے جیسے کہیں چلہ کاٹنے چلے گئے۔ نیلے پیلے واٹر کولر صحن کے ایک کونے میں عجیب بے چینی پھیلانے لگے۔ سلور اور تانبے کے برتنوں کی جگہ سٹیل کے برتن کھنکھنے لگے۔ بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی کی جگہ رنگین 32 انچ کے ٹی وی نے لے لی۔ بیس سالوں میں گاؤں کے صحن کا نقشہ اتنا بدل گیا کہ تناور شہتوت نیم بیری اور کیکر کے درخت غائب ہوگئے۔ کنکریٹ کے گھروں نے زندگی کی نرم روی کو بھی متاثر کر دیا۔ اجتماعیت کا سفر سمٹ گیا۔ گھروں کی چار دیواریاں بلند اور دل دور ہونے لگے۔ کیبل اور ڈِش کے بعد جو رہن سہن ہماری ٹی وی سکرینوں پر نظر آیا اس نے گاؤں کی سادگی کو اپنے رنگ میں رنگ لیا۔ ابھی بھی ایسے گاؤں ہیں جہاں درخت صحن کا لازمی جزو ہیں مگر میرے گاؤں میں یہ مناظر کم نظر آتے ہیں۔

آج جب موسمی سختیوں اور تبدیلیوں کا بہت چرچا ہے میں سوچتی ہوں گاؤں کے صحن اس چھاؤں کو یاد کرتے ہوں گے، روم کولر اور یو پی ایس کتنا ہی ساتھ دیں گھنے درختوں کی چھایا جتنا ساتھ نہیں دے سکتے۔ مگر کیا یہ ممکنات میں ہے کہ اب یہ پہیہ دوبارہ اپنی چال الٹی چلے اور لوگوں کو بتائے کہ گارے کی چھت ٹھنڈی ہوتی ہے۔ کچا صحن گرم موسم میں زیادہ مفید ہوتا ہےاور مٹی کے گھڑے پانی کو تازہ اور ٹھنڈا رکھتے ہیں۔ ہمارے موسمی حالات میں جس تیزی سے تغیرات کا سلسلہ جاری ہے ہمیں ایسا طرز زندگی اپنانا چاہیے جس سے موسم کی سختی کسی حد تک کم ہو سکے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی