عراق، افغانستان سے لوٹے گئے قیمتی نوادرات کی واپسی شروع

برٹش میوزیم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے یہ بات یقینی بنا رہا ہے کہ حالیہ جنگوں کے دوران غیرقانونی طور پر ضبط کی جانے والے نوادرات واپس بھیجے جا سکیں۔

9/11 کے بعد افغانستان سے لوٹے گئے بدھا کے ایک قدیم مجسمےکا سر (برٹش میوزیم ٹرسٹیز)

افغانستان اور عراق سے لوٹ مار کے بعد غیر قانونی طور پر برطانیہ منتقل کیے گئے مٹی سے بنے بدھا کے قدیم مجسموں کے سر جلد ہی اپنے ملکوں کو واپس بھیج دیے جائیں گے۔

برٹش میوزیم برطانوی بارڈر فورس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے یقینی بنا رہا ہے کہ حالیہ جنگوں کے دوران غیرقانونی طور پر ضبط کی جانے والی یہ اشیا واپس بھیجی جا سکیں۔

ان میں بدھا کے قدیم مجسموں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے، جو ستمبر 2002 میں ہیتھرو ائیرپورٹ سے پکڑے گئے تھے۔ ان مجسموں کو افغانستان سے غیر قانونی طور پر پشاور منتقل کرنے کے بعد برطانیہ بھیجا گیا تھا۔

ان نو سروں میں بدھا کے مٹی سے بنے سر، مراقبے میں مصروف بدھ دیوتاؤں کے پگڑیوں میں لپٹے سر، ایک بدھ بھکشو کے گنجے سر کے علاوہ اور تین بڑے سر شامل ہیں۔ ایک اور سر کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے وہ بدھا کے روحانی پیشوا وجراپنی کا ہے۔

چوتھی اور چھٹی صدی بعد از مسیح کے وقتوں کے یہ نوادرات لندن میں مختصر نمائش کے بعد افغانستان کے نیشنل میوزیم کو واپس لوٹا دیے جائیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے علاوہ عراق واپس بھیجے جانے والی اشیا میں قدیم دور میں لکھنے کے لیے استعمال کی جانے والے میخی شکل کے مٹی کی تختیاں بھی شامل ہیں۔

فروری 2011 میں مٹی کی 154 میسوپوٹیمین تحریروں پر مشتمل مٹی کی تختیاں برطانیہ داخل ہونے کے بعد ضبط کر لی گئیں تھیں۔

ان میں سے زیادہ تر اٹھارہ سو سال سے اکیس سال سو قبل مسیح کی ہیں۔ یہ اور سوئم اور قدیم بابل کے حکمران خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔

ایچ ایم آر سی کی طویل تحقیق کے بعد یہ عراق کے میوزیم کو واپس لوٹا دی جائیں گی،جو عراق کے نوادرات اور تاریخی ورثے کے بورڈ کا حصہ بھی ہے۔

 برٹش میوزیم نے سوڈان اور مصر سے غیر قانونی طور پر منتقل کی گئی قدیم اشیا کی واپسی کے لیے بھی حکام، ڈیلرز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایسی اشیا کے شوقین افراد کے ساتھ ایک مشترکہ منصوبہ بھی شروع کیا ہے جس میں انہیں سینٹرل پروٹیکشن فنڈ کی حمایت حاصل ہے۔

اس سکیم کے تحت صرف گذشتہ سال کے دوران مصر اور سوڈان سے چرائے گئے 700 قیمتی نوادرات تلاش کیے گئے ہیں۔

برٹش میوزیم کے ڈائریکٹر ہارٹ وگ فشر کہتے ہیں ’ جنگ، تنازع، موسمیاتی تبدیلی، گلوبلائزیشن، غربت اور ترک وطن یہ سب عناصر ثقافتی ورثے کی منتقلی کو لاحق خدشات میں کردار ادا کرتے ہیں۔ میوزیم اس حوالے سے ایک منظم لائحہ عمل اپنا رہا ہے۔ ہم دنیا بھر میں موجود اپنے ساتھیوں سے مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ اس کو محفوظ، منظم، زیر نگرانی اور دستاویزات کے ساتھ ثقافت سمجھنے کو ممکن بنایا جا سکے۔‘

فشر کہتے ہیں’ برٹش میوزیم اس حوالے سے اپنی کوششوں میں مزید اضافہ کرے گا اور دنیا بھر میں موجود دوستوں کے ساتھ ثقافتی ورثے کو محفوظ بنانے کی اپنی کوششوں کو جاری رکھے گا۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی آرٹ