تحریک انصاف کا ’یوم تفکر‘؟

سیاست کسی اصول پر کھڑی ہو تو یہ ایک شعوری سفرمیں ڈھل جاتی ہے۔ لیکن سیاست جب اصول، ضابطے سے بے نیاز ہو جائے تو محض ابن الوقتی کہلاتی ہے۔ اس خرابی سے کسی کا دامن صاف نہیں۔

پاکستان تحریک انصاف لاہور کی جانب سے 27 جولائی 2022 کو جاری کردہ اس تصویر میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو وزیراعلی پنجاب پرویز الہی اور ان کے صاحب زادے مونس الہی کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے(اے ایف پی)

22 (اب 25) سالہ جدوجہد کے بعد جناب پرویز الہی کو پنجاب کا وزیر اعلی بنا کر تحریک انصاف یومِ تشکر منا رہی ہے کہ فرماں روائے کشورِ پنجاب کو سلام اور میں بیٹھا سوچ رہا ہوں اس کشتہِ انقلاب کے خانہ زادوں کو مبارک دوں یا پرسہ لکھ بھیجوں؟

معلوم نہیں یہ سیاست ہے یا معشوق فریبی، جہاں خود احتسابی کی ضرورت ہو، یہ وہاں بھی جشن عام برپا کر دیتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر پرویز الہی صاحب کو وزیر اعلی بنانا ہی حقیقی تبدیلی تھی تو اس کے لیے 22 سال کی اس گردش مجنوں کی کیا ضرورت تھی، یہ کام تو پرویز مشر ف صاحب نے چند مہینوں میں ہی کر دیا تھا۔

تحریک انصاف درویش کا تصرف بنتی جا رہی ہے۔ یہ احتجاج کر رہی ہو یا جشن منا رہی ہو کوئی فرق نہیں ہوتا۔ وہی نعرے، وہی جوش، وہی ولولہ۔

روحانیت سے محروم لوگ دیکھیں تو جان نہیں پاتے یہ جشن منانے نکلے ہیں یا احتجاج کرنے۔

عمران خان کی سیاست ایک بیانیے پر کھڑی تھی۔ اس میں کوئی ’پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو‘ قرار پایا تو کسی کو ’ سب سے بڑی بیماری کہا گیا۔

اب 25 سال کے بعد اگر اسی وزن پر اپنے سابق ممدوح کو پنجاب کا سب سے بڑا عہدہ عطا کر دیا گیا ہے تو کیا اگلے پانچ دس سال بعد ’سب سے بڑی بیماری‘ کو بھی کوئی اعلی آئینی منصب عطا فرما کر جشن فتح منایا جا رہا ہو گا کہ اے اہل وطن آئیے دیکھیے ہم نے اس روایتی سیاست کو سرخاب کے کیسے کیسے پر لگا دیے ہیں۔

سیاست کسی اصول پر کھڑی ہو تو یہ ایک شعوری سفرمیں ڈھل جاتی ہے۔ لیکن سیاست جب اصول، ضابطے سے بے نیاز ہو جائے تو محض ابن الوقتی کہلاتی ہے۔ اس خرابی سے کسی کا دامن صاف نہیں۔

البتہ اس آزار کے ساتھ جب یہ دعوی بھی ہو کہ معیار حق صرف ہمارا قافلہ ہے اور ہمارے علاوہ سب کرپٹ، خائن اور چور ہیں اور اس وقت تک چور ہیں جب تک وہ ہمارے قافلے میں شامل ہو کر اپنے درجات بلند نہیں کروا لیتے تو پھر سیاست ایک کلٹ بن کر رہ جاتی ہے۔

کلٹ کا ایک ہی مطالبہ ہوتا ہے کہ ہمیں ہمارے قائد کو کسی اصول ضابطے پر نہ پرکھا جائے بلکہ ہر اصول اور ہر ضابطہ ہمارے قائد محترم کی فکر پر پرکھا جائے گا۔ جو قائد نے کہہ دیا وہی اصول ہے، وہی حق ہے اور وہی حرف آخر ہے۔ قائد کسی کو ڈاکو کہہ دے یا منصب عطا فرما دے، یہ اس کی جنبش ابرو کا اعجاز ہے۔

چنانچہ پرویز الہی صاحب کو وزیر اعلی بنانے پر کہیں سے کوئی سوال نہیں اٹھا بلکہ منادی دی جا رہی ہے کہ وطن عزیز میں دو ہی بزرگوار ہیں جو امریکہ کو للکار رہے ہیں اور چونکہ امریکہ نے پرویز الہی کو وزیر اعظم نہیں بننے دیا تھا تو عمران نے انہیں وزیر اعلی بنا دیا۔

یہ گویا اب حمزہ شہباز کی شکست نہیں، یہ جو بائیڈن کی شکست ہے۔ یہ سامراج کی شکست ہے۔کپتان نے سیاسی حریفوں کو نہیں طاغوت کو خاک چٹا دی ہے۔ ناہید اختر سر سنگیت سے کنارہ کشی اختیار کر چکی ہیں ورنہ گنگنا دیتیں: یہ رنگینی نوبہار، اللہ اللہ۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کلٹ توعشق کی کوہ کنی ہے، وہ حیرتوں کو تماشا جان کر آسودہ رہتا ہے۔سامنے کی حقیقت مگر یہ ہے کہ تحریک انصاف غلطی ہائے مضامین بن چکی ہے۔کپتان جو کہہ دیں، قافلہ انقلاب آگے سے میر صاحب کی طرح صدقے واری جاتا ہے: کہیو پھر، ہائے، کیا کہا صاحب۔اہل سیاست میں تضادات تو گوارا کیے جا سکتے ہیں لیکن تضادات کے ساتھ’اناالحق‘کا دعوی گوارا کرنا بہت مشکل کام ہے۔

عمران خان کی سیاست کی جو مبادیات ہیں، وقت نے ثابت کر دیا ہے وہ محض برائے وزن بیت ہی تھیں۔ کرپشن کے خلاف جدو جہد ان کے بیانیے کا حسن تھی لیکن ثابت یہ ہوا کہ کرپشن ان کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کا مسئلہ صرف وہ کرپشن ہے جو ایسے لوگوں سے منسوب ہے جو ان کے اقتدار کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔چنانچہ ایسے لوگ اگر ان کے سیاسی حلیف بن جائیں تو ان کی کرپشن کا داغ دھل جاتا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کے وہ ناقد ہیں لیکن انہیں اصل میں اس سیاسی کردار سے کوئی مسئلہ نہیں۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ان کا ساتھ کیوں نہیں دیتی اور انہیں اقتدار میں کیوں نہیں لاتی۔

چنانچہ تازہ اصطلاح یہ ہے کہ جو ان کے ساتھ نہیں ہے اور نیوٹرل ہے وہ جان لے کہ نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے۔ شکر ہے انہوں نے 92 کے ورلڈ کپ میں سٹیو بکنر سے نہیں کہ دیاتھا کہ میں سنگل لوں گا تم نے چھکا قرار دینا ہے اور یاد رکھو اگر نیوٹرل ہو کر امپائرنگ کی تو تمہارا شمار جانوروں میں ہو گا۔

امریکہ کے خلاف مزاحمت اور قومی غیرت کی بھی وہ علامت بن چکے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ انہیں امریکہ سے بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ ان کا مسئلہ ان کی ذات ہے۔

ٹرمپ شرف ملاقات بخش تھے تو پاکستان کو کچھ ملے یا نہ ملے اس ملاقات ہی پر وہ اتنے نازاں ہوتے ہیں کہ فرماتے ہیں ایسے لگ رہا ہے جیسے میں ایک اور ورلڈ کپ جیت کر آیا ہوں۔ لیکن جو بائیڈن اگر فون نہ کرے اور پھر سیاسی ضرورت کے ساتھ مجروح انا کا تقاضا ہو تو دوسرا ورلڈ کپ ایک طرف رکھ کر وہ مزاحمت کا مبینہ پرچم اٹھا لیتے ہیں۔

روایتی مذہبی فکر کے سامنے ایک جدید دینی تصور کی بات بھی سیاسی عصبیت ہی کی اسیر ہے۔ چنانچہ اسی روایتی مذہبی فکر کے مولانا طارق جمیل انہیں اچھے لگتے ہیں لیکن مولانا فضل الرحمن انہیں دین اور سیاست کسی بھی شعبے میں گوارا نہیں۔ اس قبول اور رد کا پیمانہ نہ فکری ہے نہ شعوری، یہ سیاسی پیمانہ ہے جس میں مفاد ہی فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔

تحریک انصاف کو خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ لیکن اگر وہ بھاری پتھر نہ اٹھا سکی تو مجھے ڈر ہے آج اس نے پرویز الہی صاحب کو وزیر اعلی بنا کر جشن فتح منایا ہے، کل وہ آصف زرداری صاحب کو ملک کا وزیر اعظم بنا کر ایک اور فتح مبین منا رہی ہو گی کہ یہ ہوتی ہے سیاست اور یہ ہوتی ہے قیادت اور یہ ہوتا ہے ویژن۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ