پنجاب اسمبلی کے نئے ڈپٹی سپیکر جنہوں نے چوہدری نثار کو ہرایا

واثق کو یہ عہدہ سابق ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے کے بعد ملا ہے۔

2018 کے عام انتخابات میں راولپنڈی کے حلقے پی پی 12 سے واثق قیوم عباسی نے پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر حصہ لیا اور رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے (فوٹو: واثق قیوم عباسی ٹوئٹر ہینڈل)

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن صوبائی اسمبلی واثق قیوم عباسی نے اتوار کو پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی حیثیت سے حلف اٹھالیا ہے۔

واثق قیوم عباسی ہفتے کو بلا مقابلہ پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر منتخب ہوئے تھے۔ ان کے مقابل مسلم لیگ ن کے نامزد امیدوار پیپلز پارٹی کے علی حیدر گیلانی نے کاغذات نامزدگی جمع ہی نہیں کروائے تھے۔

میڈیا سے گفتگو میں علی حیدر گیلانی کا کہنا تھا کہ وہ ان انتخابات کا بائیکاٹ کرتے ہیں کیوں کہ انہیں یقین ہے کہ یہ انتخاب صاف اور شفاف نہیں ہوں گے۔

واثق کو یہ عہدہ سابق ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے کے بعد ملا ہے۔ 

جون 1987 میں راولپنڈی میں پیدا ہونے والے واثق قیوم عباسی کو صوبائی اسمبلی کا کم عمر ترین ڈپٹی سپیکر کہا جا رہا ہے، تاہم اس سے قبل 2013 سے 2018 تک صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر رہنے والے سردار شیر علی گورچانی نے جب عہدہ سنبھالا تھا تو ان کی عمر33 برس تھی۔ 

واثق نے 2013 میں یونیورسٹی آف لاہور سے الیکٹرانکس اینڈ کمیونی کیشن میں بی ایس سی کیا۔ وہ پیشے کے لحاظ سے ایک بزنس مین ہیں۔

2018 کے عام انتخابات میں راولپنڈی کے حلقے پی پی 12 سے واثق قیوم عباسی نے پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر حصہ لیا اور رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے مخالف چوہدری نثار آزاد امیدوار کے طور پر اسی حلقے سے کھڑے ہوئے تھے لیکن واثق نے 27 ہزار 351 ووٹ لے کر چوہدری نثار کو شکست دی تھی۔

2013 میں بھی واثق قیوم نے راولپنڈی کے  حلقے  پی پی 6 سے چوہدری نثار کے خلاف انتخاب لڑا تھا جس میں چوہدری نثار بطور آزاد امیدوار 51 ہزار 826 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ واثق 49 ہزار 398 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے تھے۔

پاکستان تحریک انصاف کے آفیشل پیج پر درج معلومات کے مطابق واثق شادی شدہ ہیں اور ان کے دو بچے ہیں۔ 2018 سے اب تک وہ حکومت کی جانب سے سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن، ہائیر ایجوکیشن اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ٹیم کے رکن رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست