آخر اتنی مہنگی ڈگریوں کا فائدہ کیا؟

یہ بات درست نہیں کہ آج کے دور میں ڈگریوں کی وہ اہمیت باقی رہ گئی ہے جو کسی زمانے میں تھی۔

چار اکتوبر، 2013 کو اسلام آباد یونیورسٹی میں کچھ طلبا نظر آ رہے ہیں (اے ایف پی)

وقت آ گیا ہے کہ ہم اعلیٰ تعلیم کے بارے میں اپنا نقطہ نظر تبدیل کریں۔

ایسا لگتا ہے کہ جب بھی یونیورسٹی کی تعلیم پر گفتگو ہوتی ہے تو ڈگریوں کی اہمیت کے بارے میں ایک جارحانہ بحث چھڑ جاتی ہے، یعنی ماضی میں ان کی اہمیت کیا تھی اور آج کیا ہے۔

جو لوگ مجھ سے کئی دہائیوں پہلے یونیورسٹی گئے تھے وہ اس حقیقت میں بہت خوشی محسوس کرتے ہیں کہ ان کی ڈگری بہت زیادہ محنت سے حاصل کی گئی اور میری ڈگری سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے اور شاید وہ درست ہیں۔

لیکن اس میں طلبہ کا قصور نہیں۔ آج کے زمانے میں یونیورسٹیوں کے علاوہ ہر کوئی اپنی حقیقی قدر اور مقام کو سمجھتا ہے۔

اب تعلیم حاصل کرنے والے صرف وہی کرتے ہیں جو ان سے کہا جاتا ہے، اور اس پر ان کا اثر و رسوخ بہت کم ہے، یا پھر ان سے مسلسل بڑھتی ہوئی فیس وصول کی جارہی ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ یونیورسٹی کو اعلیٰ تعلیم کے طور پر کم اور نوجوانوں کے لیے گھر سے دور رہنے، مزے کرنے اور بالغ ہونے کے ایک موقعے کے طور پر زیادہ دیکھا جائے۔

سیدھی سی بات (زیادہ تر معاملات میں) یہ ہے کہ نام کے علاوہ سب ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ کسی نے یونیورسٹیوں کو نہیں بتایا۔

 وہ اب بھی آغاز میں کیے گئے اپنے پرانے وعدوں پر قائم ہیں جن میں ہمیشہ اعلیٰ تعلیم کے بہترین معیارات کا کہا جاتا ہے، شاید وہ اس کا جواز فراہم کرنے کے ایک طریقے کے طور پر زیادہ فیس کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ان معیارات پر جان میجر کی اصلاحات نے پانی پھیر دیا تھا اور پھر فیسوں اور طلبہ کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ یہ مزید گرتے چلے گئے۔

بعد میں آنے والی ہر حکومت نے اس کو چلنے دیا اور ہمارے سامنے اس ناقص حکمرانی کی تصویر ہماری یونیورسٹیوں کی حالیہ وزیر مشیل ڈونیلن کی شکل میں سامنے آئی جنہوں نے کرونا وبا کے دوران طلبہ کو بالکل بھلا دیا۔

جہاں تک میں طلبہ کا دفاع کرنا چاہتا ہوں، یہ یقین کرنا محض غلط ہے کہ ڈگریاں اتنی ہی اہم ہیں جتنی پہلے تھیں۔

 گذشتہ ہفتے میں نے ہیومینٹیز کی ڈگری کی ورسٹائلٹی کے بارے میں بڑے جوش و خروش سے لکھا تھا، اور یہ لاجواب بھی ہے اور درست بھی کہ ڈگریاں نوجوانوں کو کسی بھی شعبے میں داخل ہونے کے قابل بناتی ہیں، لیکن کبھی یونیورسٹی کی ڈگریاں مستقبل کے استاد یا ماہر کا روندا ہوا راستہ ہوتی تھی۔

اب، یقین کریں، میں کسی مہنگی یونیورسٹی سے داخلہ واپس لینے کا مطالبہ نہیں کر رہا۔ ہر کسی کو یونیورسٹی تک رسائی ہونی چاہیے، لیکن یونی ورسٹیوں کو یہ دکھاوا کرنا بند  کرنا چاہیے کہ وہ اب بھی (تعلیمی طور پر) اسی سطح کے ادارے ہیں جو کئی دہائیوں پہلے تھے۔

ملازمت دینے والے ادارے بخوبی اس حقیقت سے آگاہ ہیں۔ گذشتہ ایک دہائی کے دوران اوسط گریجویٹ طلبہ کی تنخواہیں کم ہو رہی ہیں۔

 میں ایک دوست کی صورتحال پر نظر ڈالتا ہوں: انہوں نے ایک اعلیٰ یونیورسٹی میں چار سال تک تعلیم حاصل کی، معاشیات میں اعلیٰ گریڈ لیا اور فنانس میں ملازمت حاصل کی۔

ان کا انٹرویو لینے والے یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ یہ ڈگری ان کو کتنا بڑا اثاثہ بناتی ہے۔ کسی کو مکمل طور پر اہل ہونے کے لیے، فنانس کے کل 16 امتحانات دینے پڑتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میں یہ جان کر حیران رہ گیا کہ ان کی ڈگری (جو ویسے بھی اس کی ملازمت کے لیے کم سے کم معیار تھا) نے انہیں ان 16 امتحانات میں سے صرف ایک سے بچایا۔

ایک اعلیٰ یونیورسٹی میں چار سال نے اسے صرف ایک امتحان میں بیٹھنے سے بچا لیا۔ حتی کہ جو لوگ فنانس ڈگریوں میں سپیشلائزیشن کرچکے تھے انہیں بھی بتایا گیا تھا کہ انہیں ابھی مزید پانچ امتحانات دینے ہوں گے۔

محنت اس وقت شروع ہوتی ہے جب آپ کام کرنے کی جگہ پر جاتے ہیں، مجھے یہ پاگل پن لگتا ہے کہ ملازمت دینے والے اداروں میں یونیورسٹی کی ڈگریوں کو اتنی کم اہمیت دی جاتی ہے کہ وہ  نئے متوقع ملازمین سے مزید امتحانات لیتے ہیں تاکہ وہ اس شعبے کے لیے اپنی اہلیت ثابت کریں۔

اگر ڈگریاں بہت ساری یونیورسٹیوں کی جانب سے کیے جانے والے دعوؤں سے مطابقت رکھتیں تو کاروباری اداروں کو درکار یہ اضافی معیارات ختم ہوچکے ہوتے۔

اپرنٹس شپ کو ہی دیکھ لیں، جس میں بہت کم تنخواہ دی جاتی ہے اور آپ کو ایک ایسا فریم ورک نظر آئے گا جس میں اب نوجوانوں اور آجروں دونوں کی اہمیت- ایک بہت اچھا توازن۔

اچھی تنخواہ لینے والے اور قابل، اس قسم کی سکیمیں نوجوانوں کو آگے بڑھنے اور معقول مالی آزادی کا موقع فراہم کرتی ہیں، جب کہ مالکان کو کھلے ذہن کے حامل، ان کی کمپنی کی اقدار کو قبول کرنے والے افراد فراہم کرتے ہیں۔

میرے تجربے کے مطابق ڈگری کی اصل قدر زندگی کی وہ مہارت ہے جو آپ گھر سے سیکھتے ہیں، لیکن اب یہ ان لوگوں کے لیے بھی آسانی سے دستیاب ہیں جو اپرنٹس شپ کا انتخاب کرتے ہیں، جو اب کم اجرت کی وجہ سے گھر میں رہنے پر مجبور نہیں ہیں۔ انہیں یہ فائدہ بھی حاصل ہے کہ وہ 30 ہزار پاؤنڈز قرض کے بغیر بھی اپنا پروگرام ختم کر سکتے ہیں۔

یہ ادارے اب بھی نوجوانوں کے لیے بہترین راستہ ہونے کی تبلیغ کیوں کرتے ہیں؟ یونیورسٹیاں یا تو اتنی سادہ ہیں کہ اب بھی سمجھتی ہیں کہ جو ڈگریاں وہ دے رہی ہیں وہ 50 سال پہلے کی طرح ہی ہیں، یا آسمان کو چھوتی فیسوں میں اتنے خوش ہیں کہ وہ اپنے یا داخلہ لینے والے لاکھوں طلبہ کے ساتھ ایماندار ہونے کی پرواہ نہیں کرتے۔

مجھے نہیں معلوم میں کہ ان میں سے بدتر کیا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ