بھارت: غاروں میں قائم پہلی صدی قبل مسیح کی درس گاہیں

بھارتی ریاست اڈیشہ کے جڑواں پہاڑوں ادے گیری اور کھنڈا گیری میں واقع غاروں کے آثار قدیمہ ہیں جو پہلی صدی قبل مسیح میں درس گاہیں تھیں۔

(سکرین گریب)

بھارتی ریاست اڈیشہ کے جڑواں پہاڑوں ادے گیری اور کھنڈا گیری میں واقع غاروں کے آثار قدیمہ ہیں جو پہلی صدی قبل مسیح کی درس گاہیں تھیں۔

ادے گیری اور کھنڈا گیری میں ان آثار قدیمہ کی تاریخی معلومات سیاحوں تک پہنچانے والے ایک مقامی گائیڈ سبھاش چندر پردھان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ان کی تعمیر جنگ کلنگا کے بعد ہوئی۔ اس وقت یہاں جین مذہب کے پیروکار موریا سلطنت کے راجہ اشوک سے چھپنے کے لیے آباد ہوئے۔‘

جنگ کلنگا موریا سلطنت اور کلنگا سلطنت کے درمیان پہلی صدی قبل مسیح کے زمانے میں لڑی گئی تھی، جس کے بعد راجہ کلنگا نے جین مذہب اور اشوک نے بدھ مت اختیار کر لیا تھا۔ جنگ سے پہلے دونوں کا مذہب ایک ہی تھا۔

سبھاش کے مطابق ’ان غاروں کا بنیادی مقصد جنگ کے دوران چھپنا تھا مگر بعد میں انہیں درس و تدریس کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔‘

اڈیشہ کی مقامی کہانیوں میں ذکر ہے کہ صدیوں پہلے یہ دو پہاڑ ایک ہی تھے، لیکن پھر ایک بڑے زلزلے نے دونوں کو الگ کر دیا جس سے غار بھی الگ الگ ہو گئے۔

سبھاش نے بتایا کہ ’دو پہاڑ ہیں۔ ایک ادے گیری اور ایک کھنڈا گیری۔ یہ زلزلے سے پہلے ایک تھے۔ ادے کا مطلب عروج اور گری کا مطلب پہاڑی۔ اس لیے اسے ادے گیری کہتے ہیں۔ کھنڈا کا مطلب میٹھا۔ اس لیے اسے سویٹ ہل بھی کہتے ہیں۔‘

آثار قدیمہ کے حوالے سے سبھاش کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک یک سنگی ڈھانچہ ہے۔ یہ بھارت کا پہلا مونو لیتھک سٹرکچر ہے جبکہ دوسرا الورا اجنتا ہے۔‘

اڈیشہ کے ان غاروں میں کئی اقسام کے نقوش بنے ہوئے ہیں۔ سبھاش کے مطابق یہ نقوش ان غاروں میں مراقبے کے لیے بیٹھنے والے جین مذہب کے بھکشوؤں کی طرف نشاندہی کرتے ہیں۔

’یہاں غاروں میں کئی نقوش ہیں۔ جین مذہب کے مذہبی پیشوا اور مبلغ کے نقوش بھی یہاں ہیں۔ ہر پیشوا کی نشانی بھی ہے۔ رشوناتھ سے لے کر مہاویر 24 پیشواؤں کی مورتیاں بھی ہیں۔‘

’جین مذہب کے ایک پیشوا رشو کی علامت آدی ناتھ یعنی گائے کی سواری اور پیشوا مہاویر کی علامت شیر ہے، جو یہاں غاروں میں بنی ہوئی ہے۔‘

سبھاش نے بتایا کہ یہاں باقی جین مبلغوں کی علامتیں بھی ہیں، جو یہاں کے غاروں میں موجود ہیں۔‘

اڈیشہ کے ان غاروں کے آثار قدیمہ سے ماضی کے دھندلکوں میں جھانکا جا سکتا ہے۔ سبھاش کے مطابق یہ آثار بتاتے ہیں کہ کلنگا سلطنت کتنی ترقی یافتہ تھی۔

’یہاں سب سے پہلا غار رانی غار ہے۔ یہ 10 منزلہ تھا جو اب دو منزلہ بچا ہے۔ آٹھ منزلیں زلزلے میں گر گئیں۔ اس میں ہاتھی غار بھی ہے۔‘

سبھاش کے مطابق یہاں بھارت کے سب سے طاقت ور راجہ کلنگا کی نشانی ہے۔ پالی زبان۔ برہمنی سکرپٹ۔ کلنگا کی شہری اور فوجی ترقی کی نشانیاں ہیں۔ شانتی مایتری اور پریتی لکھا ہے۔ وہاں سواستک بھی ہے جو رحم دلی معافی اور امن سے عبارت ہے۔‘

سبھاش نے قبل مسیح کے زمانے میں غاروں میں پائی جانے والی سہولیات پر بات کرتے ہوئے کہا ’ ان غاروں میں سیوریج سسٹم بھی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہاں پانی کی ترسیل تھی۔ ٹھنڈے پانی کا بندوبست تھا۔ پانی کے ذریعے پیغام رسانی اور مواصلات کا بندوبست بھی تھا۔ ان کے پاس ٹیکنالوجی تھی ہمارے پاس کچھ نہیں۔‘

جنگ کلنگا کیوں ہوئی؟

دراصل تقریباً 150 قبل مسیح میں شہنشاہ کھار بیل نے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ باختر کے ڈیمیٹریس اول کا ہم عصر تھا، موجودہ بھارت کا ایک بڑا حصہ فتح کر لیا۔

کھار بیل ایک جین حکمران تھا۔ اس نے ادے گیری پہاڑی کے اوپر مٹھ (خانقاہوں کے مساوی) تعمیر کی۔ تاریخی دستاویزات میں درج ہے کہ کورکھشیتر کی جنگ سے سالہا سال قبل کلنگا ایک با اختیار ریاست تھی۔

اس وقت سلطنت کلنگا ہندوستان کی عظیم قوتوں میں شمار ہوتی تھی۔ میگھا واہانا، جسے چیدی خاندان کہا جاتا ہے، کے راجا کھار بیل کے عہد میں تقریباً پہلی یا دوسری صدی قبل مسیح یہ غار بنائے گئے تھے۔

یہ وہ عہد تھا جب ریاست کلنگا کو سمندری تجارت کی وجہ سے مقامی رسم و رواج میں ناپاک مانا جاتا تھا۔ مورخین کا ماننا ہے کہ خود مختار کلنگا کی بحری تجارت کی وجہ سے موریہ سلطنت کو سیاسی اور تجارتی خطرات لاحق ہوئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان خطرات کے پیش نظر راجہ اشوک نے جنگ عظیم چھیڑی تھی اور قتل و غارت کی ایک داستان رقم کردی، جس سے شرمندہ ہو کر اشوک نے ہندو دھرم چھوڑ کر بدھ مذہب اختیار کرلیا۔

پہلی صدی قبل مسیح میں چیدی شاہی خاندان نے کلنگا پر حکمرانی شروع کی۔ اس خاندان کے تیسرے حکمراں کھار بیل تھے جن کا شمار اس وقت کے عظیم ترین حکمرانوں میں کیا جاتا ہے اور حفیظ اللہ نوال پوری (مؤرخ) نے انہیں روم کے بادشاہ جولیس سیزر کا ہم عصر قراردیا ہے۔

کھار بیل کے عہد میں یہ غار بنے تھے۔ غاروں کے فن تعمیر سے چیدی عہد کی طرز تعمیر اور مہارت کا پتہ چلتا ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ شیشوپال گڑھ (موجودہ ریاست کا ایک علاقہ) کی کھدائی جو مسٹر بی بی لال کی نگرانی میں 1984 میں ہوئی۔ اس میں یہاں سے چیدی خاندان کے عہد کے  ایسے نایاب جنگی ہتھیار ملے ہیں جسے صرف رومی فوج استعمال کرتی تھی۔

مؤرخین کہتے ہیں کہ اس امر سے چیدی حکمرانوں کے بین الاقوامی تعلقات کا پتہ چلتا ہے۔ کھار بیل نے بھی اپنے پیش رؤوں کے مطابق سلطنت کو مضبوط کرنے کی کوشش کی۔

کھاربیل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پیدائشی جینی تھا اور اشوک کی طرح اس نے کوئی دوسرا مذہب اختیار نہیں کیا۔ جین مذہب کی اشاعت کے لیے کھاربیل نے مندروں کی تعمیر کے علاوہ پہاڑ وں کو کٹوا کرغار بنوائے۔

یہ دونوں پہاڑ، جو کہ پہلے ایک تھے، ہندوستان کی مشرقی ساحل پر واقع اڈیشہ  کی راجدھانی بھوبنیشور سے تقریباً سات کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہیں اور سال بھر سیاحوں کی نگاہِ ستائش و حیرت کا مرکز بنے رہتے ہیں۔

ان غاروں کو پہلی مرتبہ 19ویں صدی عیسوی میں برطانوی افسر انڈریو سٹرلنگ نے دریافت کیا تھا۔

اڈیشہ کے آثار قدیمہ کی اہمیت

جین کی مذہبی روایتوں میں ادے گیری اور کھنڈا گیری کی باقیات کی بہت اہمیت ہے۔ یہ دونوں مراکز اب حکومت ہند کے محکمہ آثار قدیمہ کے ماتحت آتے ہیں۔

آثار قدیمہ کی ویب سائٹ کے مطابق ان غاروں کو بنانے کی وجہ جینی بھکشوؤں کو مراقبہ گاہیں فراہم کرنا تھا جسے بعد میں جین مذہب کی تعلیم کے لیے بطور درس گاہ استعمال کیا گیا۔

محکمے کے نوٹس میں لکھا ہے کہ رتنا گیری اور کھنڈا گیری میں پہلے 117 غاریں تھیں جو زلزلے اور زمانے کی دست و برد کے بعد صرف 33 بچی ہیں۔

غاروں میں سب سے اہم غار

ادے گیری میں 18 غار ہیں جس میں سب سے اہمیت کی حامل رانی غار ہے۔ اس غار میں 32 کمرے ہیں۔ اس میں لالا تین دوکیسری کی رانی رہتی تھیں۔ اس غار میں راجا کھاربیل کی فتوحات کی منظر کشی دیواروں پر کندہ کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ گنیش گپھا ہے جس میں گنیش (ہاتھی کی شکل والا ہندو بھگوان) کی تصویر ہے۔ اسی کے ساتھ ہاتھی غار ہے جس میں راجا کھاربیل کی جنگ کی روداد تصویروں کی شکل میں ملتی ہے۔ اس کے علاوہ 18 سطروں کی ایک جینی منتر بھی تحریر ہے۔

انہی اہم غاروں میں ایک باگھ (شیر) غار ہے جس کا بیرون شیر کے سر جیسا ہے۔ اسی کے ساتھ کھنڈا گیری میں 15 غار ہیں جس میں درگا (ہندو دیوی) کی ایک تصویر ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا