’فوج کے خلاف مہم پر قانون حرکت میں آنا سیاسی انتقام نہیں‘

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج کے خلاف منفی اور تضحیک آمیز مہم چلانے والوں کے خلاف قانون کو حرکت میں آنا چاہیے۔

پاکستانی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف چینی وزیر خارجہ کے ہمراہ 26 دسمبر 2017 کو ایک مشترکہ نیوز کانفرنس کے دوران (تصویر: اے ایف پی فائل)

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج کے خلاف منفی اور تضحیک آمیز مہم چلانے والوں کے خلاف قانون کو حرکت میں آنا چاہیے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کی جاتی ہے تو اسے سیاسی بنیاد پر قائم مقدمہ یا سیاسی انتقام نہیں کہنا چاہیے۔

خواجہ آصف نے ہفتے کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے قومی اداروں کے خلاف مہم چلانے پر سخت تنقید کی ہے۔

پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری نے گذشتہ روز ایک نیوز کانفرنس میں سوشل میڈیا پر ان پیغامات کی مذمت کی تھی اور اپنی جماعت کے اس مہم میں شامل نہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے علاوہ صدر پاکستان عارف علوی نے بھی سوشل میڈیا پر فوج سے متعلق تضحیک آمیز مہم کی مذمت کی تھی۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’کچھ لوگ ملکی اداروں پر الزام لگا کر غیر ملکی ایجنڈے پر عمل کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ہیلی کاپٹر کے بدقسمت حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک منظم توہین آمیز مہم چلائی گئی اور جن لوگوں نے فوج مخالف ٹویٹس کیے ان کی باقاعدہ سرپرستی کی گئی۔

وزیر دفاع نے کہا کہ مشکل گھڑی میں فوج کو قوم کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے لیکن بعض عناصر منفی پروپیگنڈے کے ذریعے ملکی سلامتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

ان کے بقول ’دشمن کو جنگ کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ اب اندر ہی ایسے عناصر پیدا ہو گئے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ملک و قوم کے لیے جانوں کی قربانی دینے والوں موضوع بحث بنانا پستی کی انتہا ہے۔‘

خواجہ آصف نے عمران خان کا نام لیے بغیر کہا کہ ’ایک شخص اداروں کو سیاست میں گھسیٹ رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ دشمن قوتیں ملکی دفاع کو کمزور کرنے کے درپے ہیں لیکن یہاں قومی اداروں کے خلاف ہی باقاعدہ مہم چلائی جا رہی ہے جو اداروں کی توہین کرتے اور ’شہادتوں‘ کا مذاق اڑاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان ملک کی بقا کو اپنے اقتدار سے مشروط نہ کریں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ’ہیلی کاپٹر حادثے میں جنرل سرفراز کی شہادت کو بلوچستان کی تاریخ میں سنہرے الفاظ میں یاد کیے جائیں گے لیکن شہادت کا مذاق اڑانا سیاست نہیں کچھ اور چیز ہے جسے میرے جیسا سیاسی ورکر نہیں سمجھ سکتا۔ ملک کی خاطر جانیں قربان کرنے والوں کی حرمت کا پاس کرنا چاہیے۔‘

خواجہ آصف نے مزید کہا ہمارے ہاں کئی انتخابات پر سوالیہ نشان لگے اور کئی بار الیکشن سپانسرڈ ہوئے۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ’ہماری سیاسی روایات میں تہذیب کی حدود متعین ہیں۔ سیاسی شخصیات سیاست کو اپنے مفادات کے تابع نہ بنائیں۔‘

خوجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ ’ملک میں ایسا کلچر فروغ دیا جارہا ہے جو ہمارے معاشرے کو تباہ کردے گا۔ ہم پر جھوٹے سچے مقدمات بنائے گئے، قانون کا سیاست کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔‘

صدر پاکستان عارف علوی کی ہیلی کاپٹر حادثے کے متاثرین کی نماز جنازہ میں شرکت نہ کرنے پر خواجہ آصف نے کہا کہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’صدر کے بارے میں قیاس آرائیاں ہورہی ہیں، ہم محسنوں کے جنازے میں جاتے ہیں۔ ہم تو سیاسی جنازوں میں بھی جاتے ہیں کیوں کہ یہ ہماری سیاسی روایات ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’سیاست اس سے پہلے اتنی نہیں گری تھی جتنی آج گر چکی ہے۔‘

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے 13 اگست کو اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں بڑا جلسہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات فرخ حبیب نے ہفتے کی شام ایک ٹویٹ میں جلسے کا اعلان کرتے ہوئے لکھا ’13 اگست کوپی ٹی آئی اسلام آباد پریڈ گراؤنڈ میں بھرپور عوامی طاقت کا مظاہرہ کرے گی۔‘

اس سے قبل پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے ایک ٹویٹ میں اسی حوالے سے کہا کہ ’امپورٹڈ حکومت انتخابات سے بھاگ رہی ہے لیکن عوام بھاگنے نہیں دے گی، کارکنان آخری مرحلے کی تیاری کریں۔ 13 اگست کو سارا پاکستان پریڈ گراؤنڈ میں عمران خان کا آئندہ کا لائحہ عمل سنے گا۔‘

پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے کہا گیا ہے کہ جلسہ 13 اگست کو پریڈ گراؤنڈ میں ہوگا اور کارکنان 14 اگست کا جشن بھی جلسہ گاہ میں منائیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست