سابق امریکی مشیر کے قتل کے منصوبے میں ایرانی شہری پر فرد جرم

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے رکن شہرام پورصافی نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے سابق صدر ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کو قتل کرنے کے لیے تین لاکھ ڈالر کی پیشکش کی تھی۔

سابق قومی سلامتی مشیر جان بولٹن (درمیان)، سابق وزیر خارجہ مائیک پومپیو (بائیں) اور وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ ہکابی سینڈرز (بائیں) سات جون 2018 کو وائٹ ہاؤس میں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

امریکی محکمہ انصاف نے بدھ کو وائٹ ہاؤس کے سابق قومی سلامتی مشیر جان بولٹن کو قتل کرنے کے ایک ایرانی منصوبے کو بے نقاب کرتے ہوئے ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک رکن کے خلاف فرد جرم کا اعلان کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق محکمہ انصاف نے کہا ہے کہ 45 سالہ شہرام پورصافی نے امریکہ میں ایک شخص کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں قومی سلامتی مشیر جان بولٹن کو قتل کرنے کے لیے تین لاکھ ڈالر کی پیشکش کی۔

محکمے کے مطابق یہ منصوبہ ممکنہ طور پر جنوری 2020 میں پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے اعلیٰ کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی عراق میں امریکی فضائی حملے میں ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے بنایا گیا۔

ایف بی آئی نے پورصافی کا ’انتہائی مطلوب‘ پوسٹر بھی جاری کردیا ہے جبکہ تہران نے امریکی کارروائی کی مذمت کی ہے۔

ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان ناصر کنانی نے کہا: ’ایران ان مضحکہ خیز اور بے بنیاد الزامات کے بہانے ایرانی شہریوں کے خلاف کسی بھی کارروائی کے خلاف سختی سے خبردار کرتا ہے۔‘

شہرام پورصافی پر الزامات

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق پورصافی القدس فورس کا حصہ ہیں۔

امریکی عدالتی دستاویز کے مطابق پورصافی نے اکتوبر میں ایران میں ہی کام کرتے ہوئے امریکہ میں ایک نامعلوم شخص سے رابطہ کیا اور ان سے کہا کہ وہ بولٹن کی تصاویر چاہتے ہیں۔ اس شخص نے پورصافی کا رابطہ کسی اور سے کروایا، جنہیں پورصافی نے تین لاکھ ڈالر کے عوض بولٹن کو قتل کرنے کی پیشکش کی۔   

انہوں نے ایک اور ممکنہ ٹارگٹ کی بھی بات کی، جن کو مارنے پر قاتل 10 لاکھ ڈالر کی رقم حاصل کرسکتا تھا۔  

عدالتی دستاویز میں دوسرے ٹارگٹ کی شناخت نہیں کی گئی ہے، مگر امریکی میڈیا ادارے ایکسیوس کے مطابق وہ سابق وزیر خارجہ اور سی آئی اے ڈائریکٹر مائیک پومپیو تھے۔

عدالتی دستاویز کے مطابق بولٹن کے قتل کے لیے پورصافی جس شخص سے بات کر رہے تھے وہ اصل میں ایف بی آئی کے مخبر تھے۔  

ایف بی آئی کی جانب سے جمع کروائے گئے ایفی ڈیوٹ میں اس حوالے سے تفصیلات ہیں کہ مخبر کیسے کئی ماہ تک تاخیر کرتے رہے تاکہ تحقیقاتی ادارے پورصافی، ان کے ادارے، اعلیٰ افسران اور امریکہ میں نیٹ ورک کے بارے میں مزید معلومات حاصل کر سکیں۔

پورصافی پر کرائے کے قاتل کی خدمات حاصل کرنے اور بین الاقوامی قتل کے منصوبے میں معاونت فراہم کے الزامات لگائے گئے ہیں، جس کی سزا بالترتیب 10 اور 15 سال ہے۔

محکمہ انصاف کے مطابق وہ مفرور ہیں اور ممکنہ طور پر ایران میں ہی ہیں۔

ایف بی آئی کے ایفی ڈیوٹ کے مطابق پورصافی نے مخبر کے ساتھ انکرپٹڈ پیغامات میں کہا تھا کہ منصوبے کا تعلق سلیمانی کے قتل کے بدلے سے تھا۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کیس کے اعلان کے بعد وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی مشیر جیک سلیوان نے کہا: ’اگر ایران نے ہمارے کسی شہری پر حملہ کیا، بشمول ان کے جو امریکہ کے لیے خدمات سرانجام دے رہے ہیں، تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے۔‘

جنوری 2020 میں بغداد میں امریکی فضائی حملے میں ایرانی جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران نے بدلے کا تہیہ کیا تھا اور امریکہ نے اس وقت کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو سمیت دیگر اہم موجودہ اور سابق سکیورٹی عہدیداروں کی سکیورٹی میں اضافہ کر رکھا ہے۔

بولٹن، پومپیو کی طرح ایران کے سخت ناقد ہیں۔ وہ اپریل 2018 سے ستمبر 2019 تک قومی سلامتی کے مشیر رہے اور 2005 سے 2006 تک اقوام متحدہ میں امریکی سفیر رہے۔

وہ 2015 کے جوہری معاہدے کے بھی خلاف تھے اور ٹرمپ انتظامیہ کے معاہدے سے نکلنے کے یکطرفہ فیصلے کے حامی رہے ہیں۔

بدھ کو جاری ایک بیان میں انہوں نے ایف بی آئی کی امریکی شہریوں کو لاحق خطرات کی تحقیقات کرنے اور سیکرٹ سروس کا سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے ایرانی حکومت کو ’جھوٹا، دہشت گرد اور امریکہ کا دشمن‘ قرار دیا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان ملزمان کی حوالگی کا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔

امریکہ کی جانب سے یہ الزام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں امریکہ کو اس عالمی معاہدے سے نکال کر ایران پر سخت پابندیاں عائد کردی تھیں، جس کے بعد ایران نے بھی معاہدے کی خلاف ورزی شروع کر دی تھی۔  

2015 کے معاہدے میں واپسی کے لیے مذاکرات ویانا میں جاری ہیں لیکن واشنگٹن کی جانب سے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان بحث اس میں خلل ڈال رہی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا