سلمان رشدی کی متنازع کتاب کے مترجمین پر حملوں کی تاریخ

متنازع مصنف کے علاوہ اس کتاب سے وابستہ بہت سے دیگر لوگوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایگاراشی کی موت کا معمہ ابھی تک حل طلب ہے۔

متنازع مصنف سلمان رشدی 13 اکتوبر 2019 کو اپنی کتاب کی رونمائی کے موقع پر فوٹو شوٹ کرا رہے ہیں (تصویر: اے ایف پی فائل)

متنازع مصنف سلمان رشدی کی کتاب ’دا سیٹینک ورسز‘ کا ترجمہ کرنے والے پہلے جاپانی سکالر ہیتوشی ایگاراشی 1991 میں پراسرار حالات میں مردہ پائے گئے تھے۔

تب سے اس متنازع کتاب کے متعدد مترجمین کو جان لیوا حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اس کتاب کو وائکنگ پینگوئن نے 26 ستمبر 1988 کو برطانیہ میں اور 22 فروری 1989 کو امریکہ میں شائع کیا تھا جس سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں غم و غصے لہر دوڑ گئی تھی جو اسے مذہب کی توہین سمجھتے تھے۔

ناول کی اشاعت کے ایک سال بعد یعنی 1989 میں ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ خمینی نے ایک فتویٰ جاری کیا جس میں مسلمانوں کو مصنف کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

سلمان رشدی کو 1989 سے 2002 تک 24 گھنٹے سکیورٹی میں رکھا گیا کیوں کہ ان کے سر پر 30 لاکھ ڈالر کا انعام رکھا گیا تھا۔

متنازع مصنف کے علاوہ اس کتاب سے وابستہ بہت سے دیگر لوگوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایگاراشی کی موت کا معمہ ابھی تک حل طلب ہے۔

’دا سیٹینک ورسز‘ کے نارویجین پبلشر ولیم نیگارڈ کو بھی 11 اکتوبر 1993 کو پیٹھ پر تین گولیاں ماری گئیں۔ مبینہ طور پر وہ گولی لگنے سے بچ گئے لیکن انہیں صحت یاب ہونے میں مہینوں ہسپتال میں گزارنے پڑے۔ ان پر گولی چلانے والے کبھی نہیں پکڑے گئے۔

کتاب کے اطالوی مترجم ایٹور کیپریولو کو ایک میلان میں رہنے والے ایرانی نژاد شخص نے تشدد کا نشانہ بنایا اور چاقو سے حملہ کیا۔ اس حملے میں ان کی گردن، سینے اور ہاتھوں پر شدید چوٹیں آئیں۔

لیکن کچھ دن بعد قانون نافذ کرنے والے اطالوی ادارے نے اس حملے اور رشدی کی کتاب کے درمیان کسی بھی تعلق کو مسترد کر دیا۔

1993 میں شدت پسندوں نے اس کتاب کا ترکی زبان میں ترجمہ کرنے والے مصنف عزیز نیسین کو قتل کرنے کی سازش میں مشرقی ترکی میں ایک ہوٹل کو آگ لگا دی تھی۔

1993 میں جب نیسین قدامت پسند مشرقی شہر سیواس میں ایک سمپوزیم میں شرکت کر رہے تھے تو ان کا ایک بیان افشا ہو گیا اور یوں سینیئر مصنف نفرت کا نشانہ بن گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سینکڑوں اسلام پسند مساجد سے نکل کر شہر کے مرکزی پلازہ میں جمع ہو گئے جہاں انہوں نے پولیس کی رکاوٹوں اور سرکاری املاک پر پتھراؤ کیا۔

انہوں نے ہتھیار لہرائے اور اسلامی نعرے لگائے جن کی تعداد دن بھر بڑھتی گئی۔

مشتعل ہجوم نے مشرقی ترکی میں ایک ہوٹل کو آگ لگا دی جہاں نیسین نے پناہ لے رکھی تھی۔

ہوٹل کے ارد گرد ہجوم نے فائر سروسز کے لیے اس واقع پر قابو پانا بھی مشکل بنا دیا تھا۔

ریسکیو عملے کے پہنچنے پر نیسین کو فائر ڈیپارٹمنٹ کی سیڑھی کا استعمال کرتے ہوئے فرار کرایا گیا۔ ان کے معمولی زخموں کا علاج کیا گیا اور پولیس وین میں ہوٹل سے فرار کرانے کے بعد ملک سے باہر بھجوایا گیا۔ تاہم اس احتجاج میں کم از کم 35 افراد ہلاک اور 60 زخمی ہوئے تھے۔

سلمان رشدی کو جمعے کو نیویارک کے شقوکٹوا انسٹی ٹیوشن میں سٹیج پر اس وقت چاقو سے نشانہ بنایا گیا جب وہ لیکچر دینے والے تھے۔

انہیں شدید چوٹیں آئی ہیں اور وہ ہسپتال میں زیر علاج ہیں لیکن اب رشدی کو وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا ہے اور اب وہ بات کر پا رہے ہیں۔

سلمان رشدی کو چاقو مارنے کے الزام میں گرفتار ہونے والے شخص نے ہفتے کو قتل اور حملہ کرنے کی کوشش کے الزامات میں بے قصور ہونے کی استدعا کی ہے۔

© The Independent

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا