نواز شریف ستمبر میں پاکستان واپس آ جائیں گے: جاوید لطیف

وفاقی وزیر اور ن لیگ کے رہنما کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سیاسی میدان میں نواز شریف کے بغیر لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ہو سکتی۔

وفاقی وزیر اور پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید لطیف نے پیر کو دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف رواں سال ستمبر میں پاکستان واپس آ جائیں گے۔

اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جاوید لطیف نے کہا کہ پاکستان کے سیاسی میدان میں نواز شریف کے بغیر لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ آپ ایک پارٹی کو بلاک کرکے دوسری پارٹی کی حمایت کریں۔

’ڈاکٹر مختلف وقت میں رائے تبدیل کرتے رہے ہیں۔ عوام ڈاکٹر ہیں اور انہوں نے فیصلہ دے دیا ہے کہ نواز شریف واپس آ جائیں۔‘

 انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف کو ہائی جیکر بنا کر سزا دی گئی۔ ’پوری دنیا نے بعد میں مانا کہ ہائی جیکنگ کا الزام غلط تھا لیکن ایک شخص کو صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ دے دیا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہی گروپ جس نے ایوب خان، یحییٰ خان اور پرویز مشرف کو سپورٹ کیا، وہ اس آدمی (عمران خان) کی پیروی کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ن لیگ کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے، پارٹی نے پہلے بھی چیلنج کا سامنا کیا تھا اور اس بار بھی کرے گی۔

انہوں نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا خط منظر عام پر لانے کا مطالبہ بھی کیا۔

انہوں نے سوال کیا کہ غیر ملکی کمپنیوں نے عمران خان کو فنڈ کیوں دیا؟ ہسپتال کو دی گئی رقم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اکاؤنٹ میں کیسے منتقل ہو گئی؟

جاوید لطیف کے مطابق عمران خان کس حقیقی آزادی کی بات کر رہے ہیں؟ حقیقی آزادی تو ہمیں 75 سال پہلے مل چکی ہے۔

’عمران خان جیسے لوگ مختلف ادوار میں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ان جیسے لوگو ں کی وجہ سے ہم وہ مقاصد حاصل نہیں کرسکے جو کرسکتے تھے۔’

سپریم کورٹ نے 28 جولائی 2017 کو پاناما پیپرز کیس کے فیصلے میں نواز شریف کو عوامی عہدہ رکھنے کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اتحادی حکومت قوانین میں بعض ترامیم کر سکتی ہے جن سے پاناما پیپرز کیس میں نواز شریف پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں عائد پابندی ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے چار ہفتے کا ریلیف ملنے کے بعد نواز شریف نومبر 2019 سے علاج کے لیے لندن میں مقیم ہیں۔ وہ طبی بنیادوں پر لندن روانگی سے قبل العزیزیہ کرپشن کیس میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں سات سال قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔

نواز شریف کے پاسپورٹ کی معیاد فروری 2021 میں ختم ہو گئی تھی۔ تاہم شہباز شریف کی حکومت نے اس سال اپریل میں انہیں نیا پاسپورٹ جاری کر دیا تھا۔

13 اگست کو لاہور کے ہاکی گراؤنڈ میں ایک جلسے سے خطاب میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا تھا کہ نواز شریف کو ستمبر تک واپس لانے اور انہیں نااہل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے ملک کی حقیقی آزادی کے لیے عوام میں نکلنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ‘حقیقی آزادی کی جنگ اس وقت فیصلہ کن مرحلے میں ہے۔’

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست