نواز شریف کو واپس لانے، مجھے نااہل کرنے کی سازش ہے: عمران خان

عمران خان نے اپنی تقریر میں راولپنڈی، کراچی، سکھر، حیدرآباد، اسلام آباد، پشاور، مردان، اٹک، ابیٹ آباد، ملتان سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں جلسے کرنے کا اعلان بھی کیا۔

13 اگست کی اس تصویر میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان لاہور کے ہاکی گراؤنڈ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے(سکرین گریب)

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ میں نے ملک کی حقیقی آزادی کے لیے عوام میں نکلنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حقیقی آزادی کی جنگ اس وقت فیصلہ کن مرحلے میں ہے۔ نواز شریف کو ستمبر تک واپس لانے اور مجھے نااہل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

عمران خان نے اپنی تقریر میں راولپنڈی، کراچی، سکھر، حیدرآباد، اسلام آباد، پشاور، مردان، اٹک، ابیٹ آباد، ملتان سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں جلسے کرنے کا اعلان بھی کیا۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ سازش کی جا رہی ہے کہ عمران خان، تحریک انصاف اور فوج کو لڑایا جائے۔ جب ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت اور فوج کو مقابل لایا جائے تو ملک کا نقصان ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کبھی نہیں چاہے گا کہ پاکستان کی فوج کمزور ہو، میں چاہتا ہوں پاکستان کی فوج مضبوط ہو۔ عمران خان کے مطابق پہلے سازش کر کے ہماری حکومت گرائی گئی اور اب میرے خلاف کیسز بنا کر مجھے نااہل کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔ تاکہ نواز شریف کو واپس بلا کر ان سے پابندی اٹھا کر انہیں الیکش لڑایا جائے۔

لاہور کے ہاکی گراؤنڈ میں تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کا ان مزید کہنا تھا کہ ستمبر کے آخر تک نواز شریف کو لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دوسری سازش میرے خلاف کیسز اور کردار کشی کی ہے۔ ہماری عدلیہ کو تقسیم کرنے کی سازش بھی چل رہی ہے تاکہ اپنی مرضی کے فیصلے کروائے جا سکیں۔

عمران خان کے مطابق ہماری حکومت ختم کرنے کے بعد پنجاب کے عوام باہر آئے اور دھاندلی کے باوجود ہم نے ان کو انتخابات میں شکست دی۔ انہوں نے امپائر کو ساتھ ملا کر دھاندلی کی لیکن ہم نے انہیں شکست دی۔

عمران خان نے مزید کہا کہ آج میں نے اپنی زندگی کا سب سے بہتر یوم آزادی منایا ہے۔ اگلے چودہ اگست تک حقیقی آزادی لے چکے ہوں گے۔

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ میں اپنی قوم کو کبھی کسی کی غلامی نہیں کرنے دوں گا۔ میری قوم قربانی کے لیے تیار ہے۔ میں اپنی قوم کو اکٹھا کروں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ 25 مئی ہمارے پر امن احتجاج پر تشدد کیا گیا۔ قانون اور آئین کی خلاف ورزی کی گئی۔ عمران خان نے مزید کہا کہ شہباز گل کو گرفتار کیا انہیں قانون کا سامنا کرنے کا موقع دینا چاہیے۔ قانون ہر ایک کو دفاع کا حق دیتا ہے۔ شہباز گل کے ڈرائیور کی اہلیہ کو اٹھا لیا گیا۔ لوگوں پر خوف طاری کیا جا رہا ہے کہ کسی طرح یہ قوم ڈر کے ان کی حکومت کو قبول کر لے۔

عمران خان کے مطابق جو سازشی یہ کر رہے ہیں وہ اس قوم کو نہیں روک سکتے۔

ان کے مطابق میں امریکہ سے دوستی چاہتا ہوں لیکن میں غلامی نہیں چاہتا۔ میں مغربی تہذیب اور امریکہ کو زیادہ تر پاکستانیوں سے بہتر جانتا ہوں۔ میں ان کلچر کو اندر سے جانتا ہوں۔

تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا اگر آپ کے پیروں میں گریں گے، ان کی چمچہ گیری کریں گے تو وہ آپ کی عزت نہیں کریں گے اور آپ کو استعمال کریں گے۔ اگر آپ اپنے ملک کے لیے کھڑے ہوں گے تو آپ ان کو اچھے نہیں لگیں گے لیکن وہ آپ کی عزت کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی سفارت کار ڈونلڈ لو نے امریکہ میں پاکستانی سفیر کو میرے روس جانے کے معاملے پر دھمکی دی۔ میں روس پاکستانی قوم کے فائدے کے لیے گیا تھا جس پر وہ ناراض ہو گئے کہ عمران خان نے ان کا حکم نہیں مانا۔

سابق وزیراعظم نے اپنی تقریر میں مسلم لیگ ن کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیردفاع کہتے ہیں کہ امریکہ نے ہمیں وینٹی لیٹر پر رکھا ہوا ہے۔

عمران خان کے مطابق میں امریکہ گیا تو سابق صدر ٹرمپ نے میری عزت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک خوش قسمت ہے جس کی مائیں اور بہنیں آزادی کا جذبہ رکھتی ہیں۔ وہ ملک خوش قسمت ہوتا ہے جس کے نوجوان باشعور ہوتے ہیں۔

عمران خان کا اپنی تقریر میں کہنا تھا کہ غلام قوم کی پرواز کبھی بھی بلند نہیں ہو سکتی۔

ان کے مطابق میں جب سیاست میں آیا تو میں نے پڑھے لکھے لوگوں کو کہا کہ سیاست میں آجائیں تو لوگ کہتے تھے کہ سیاست بری چیز ہے۔ میں وہی باتیں کر رہا ہوں جو 26 سال پہلے کرتا تھا۔ میری موٹیویشن تھی کہ اپنی قوم کو پاؤں پر کھڑا کرنا ہے اور کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکنے دوں گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آج بڑی تعداد میں لوگ میری حوصلہ افزائی کے لیے آئے ہوئے ہیں۔

اپنی تقریر میں عمران خان کا کہنا تھا کہ میں آج آپ کو حقیقی آزادی کا روڈ میپ دوں گا۔ میں آج پوری قوم کو وہ راستہ بتاؤں گا کہ ہم نے حقیقی آزادی کے لیے کیا قدم اٹھانے ہیں۔

عمران خان کے مطابق آج لوگوں کو خوف سے ڈرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے پیغمبر نے لوگوں کے ذہن کو آزاد کیا ان کی فکر بدل دی۔ انہوں نے انسانوں کو خوف سے آزادی دلائی۔

اس موقعے پر ان کا کہنا تھا کہ قائداعظم نے بتایا کہ ہم انگریزوں کے بعد ہندووں کی غلامی میں نہیں جانا چاہتے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریک آزادی کے دوران ایک ایک خاندان کے کئی کئی افراد قتل ہوئے۔ کئی خاندانوں میں تمام مرد قتل کر دیے گئے اور صرف خواتین بچ گئے۔ اتنی قربانیوں کے بعد پاکستان آزاد ہوا تھا۔

عمران خان کے مطابق ہم ستر کی دہائی میں اچھی ٹیم ہونے کے باوجود بڑے میچ ہار جاتے تھے جبکہ 80 کی دہائی میں کمزور ٹیم کے ساتھ ہم ہارے ہوئے میچ جیت جاتے تھے۔

ان کی تقریر کے دوران پاکستان کے 75ویں جشن آزادی کی خوشی میں آتش بازی بھی کی گئی۔


بطور وزیراعظم پھر میثاق معیشت کی پیش کرتا ہوں: شہباز شریف

وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ہم ہر سال بڑی دھوم دھام اور خوشی سے یوم آزادی، یوم پاکستان، یوم قائد اور یوم اقبال مناتے ہیں لیکن گذشتہ 75 برس میں ہم نے ان دنوں کو محض منایا ہے لیکن ان کے اصل مقاصد کو اپنایا نہیں۔ ملک کو معاشی مشکلات درپیش ہیں اور معاشی آزادی کے بغیر حقیقی آزادی کا تصور ممکن نہیں ہو سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پاکستان کو ایسا نہیں بنایا جسے دیکھ کر ہمارا دل گواہی دے کہ شہدا اور قائد کی روحیں مطمئن ہوں گی۔‘

ہفتے کی شب سرکاری ٹی وی پر قوم سے اپنے خطاب میں پاکستانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’میں تحریک آزادی کے جانثاروں کو خراج عقیدت اور پوری دنیا میں آباد پاکستانیوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔‘

انہوں نے عوام سے سوال کیا کہ ’ہم اپنے بچوں کو وہ کچھ نہیں دے سکے جس کے وہ حقدار ہیں۔ جس قوم کے پاس قائد اعظم کا عمل اور علامہ اقبال کی فکر موجود ہے وہ کیوں منزل کی تلاش میں بھٹک رہی ہے؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیراعظم پاکستان نے معاشی بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ خودی اور خود داری پر ہمارے اعتماد کے متزلزل ہونے کی وجہ سے ہے۔ آج قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی ناپاک کوشش کی جا رہی ہے۔ پچھلی حکومت نے معاشی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس صرف ایک راستہ ہے جو یقین محکم اور امید کا راستہ ہے۔ ہم اس جدوجہد کی ابتدا کر چکے ہیں۔ ہم نے مختصر وقت میں ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے دن رات محنت کی جو اب بھی جاری ہے۔ جس کی وجہ سے پاکستان معاشی طور پر دیوالیہ ہونے کی وجہ سے بچ گیا۔‘

شہباز شریف نے کہا کہ ’سابق حکومت نے 48 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ چھوڑا ہے جو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ ہے۔ اس کو ختم کرنے کے لیے ہمیں دوست ممالک اور عالمی اداروں سے قرض لینا پڑا، کیا یہ حقیقی آزادی ہے؟‘

اپنے خطاب میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کو جاری معاشی مشکلات کے باعث ہم نے اربوں ڈالر بچانے کے لیے سولر پینل کا نظام لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم پاکستان کو معاشی آزادی کے راستے پر لے کر جائیں گے کیونکہ معاشی آزادی کے بغیر حقیقی آزادی کا تصور ممکن نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے بطور اپوزیشن لیڈر میثاق معیشت کا تقاضہ کیا تھا میں اب بطور وزیراعظم ایک بار پھر اس کی پیش کرتا ہوں۔ حقیقی قیادت الیکشن پر نہیں آنے والی نسل پر نظر رکھتی ہے۔

اپنے خطاب کا اختتام انہوں نے ان الفاظ پر کیا ’چودہ اگست ایک یوم ہے، آئیں اس یوم پر ہم ایک قوم بن جائیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست