چینی بحری جہاز کی سری لنکا آمد پر انڈیا کو پریشانی کیوں؟

بھارت اور امریکہ کی جانب سے تشویش سے آگاہ کرنے کے بعد یوآن وانگ 5 کی آمد کو چند روز کے لیے موخر کر دیا گیا تھا، تاہم اب یہ سری لنکا کی جنوبی ہمبنتوتا بندرگاہ پر لنگر انداز ہو گیا ہے۔

سری لنکا میں چینی سفیر کیو ژین ہونگ 16 اگست 2022 کو ہمبنتوتا بندرگاہ پر چین کے یوآن وانگ 5 کی آمد کے موقعے پر موجود ہیں۔ بھارت اور امریکہ کی جانب سے خدشات کے باوجود یہ چینی جہاز جنوبی بندرگاہ ہمبنتوتا میں داخل ہوا (فوٹو: اے ایف پی)

بھارت اور امریکہ کی جانب سے کولمبو کو سکیورٹی خدشات سے آگاہ کرنے کے باوجود ایک چینی سیٹلائٹ ٹریکنگ بحری جہاز سری لنکا کی جنوبی ہمبنتوتا بندرگاہ پر لنگر انداز ہو گیا ہے۔

یوآن وانگ 5 نامی یہ بحری جہاز اس وقت سری لنکا پہنچا جب انڈیا نے سری لنکا کی سلامتی کی صلاحیتوں کو ’بڑھانے‘ کے لیے اسے ڈورنیئر سمندری نگرانی کا ایک طیارہ تحفے میں دیا۔

اس سے قبل بھارت اور امریکہ کی جانب سے تشویش سے آگاہ کرنے کے بعد یوآن وانگ 5 کی آمد کو چند روز کے لیے موخر کر دیا گیا تھا۔ بیجنگ کو ایک نازک سفارتی حالت میں ڈالنے کے باوجود سری لنکا نے گذشتہ ہفتے چینی خلائی اور سیٹلائٹ ٹریکنگ جہاز کی آمد کی اجازت دے دی تھی۔

ہمبنتوتا میں لنگر انداز چینی جہاز کون سا ہے؟

ابتدائی پروگرام کے مطابق یہ جہاز ایک ہفتے کے لیے ہمبنتوتا میں لنگر انداز رہے گا۔ یہ بحری جہاز مصنوعی سیاروں اور بین البراعظمی میزائلوں کو ٹریک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ ایک چینی تحقیق اور سروے جہاز ہے۔ چین اپنے یوآن وانگ کلاس جہازوں کو سیٹلائٹ، راکٹ اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (آئی سی بی ایم) کے تجربات کا سراغ لگانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

چین کے پاس ایسے سات ٹریکنگ جہاز ہیں، جو پورے بحر الکاہل، بحر اوقیانوس اور بحر ہند میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ جہاز بیجنگ کے زمین پر موجود ٹریکنگ سٹیشنوں کی مدد کرتے ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ خلائی معاون جہاز پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کی سٹریٹجک سپورٹ فورس (ایس ایس ایف) کے زیر انتظام ہیں، جو ’پی ایل اے کی سٹریٹجک مقامات، سائبر اور الیکٹرانک معلومات، مواصلات اور نفسیاتی جنگی مشنوں اور صلاحیتوں کو مرکزی شکل دینے کے لیے قائم کردہ تھیٹر کمانڈ سطح کی تنظیم ہے۔‘

یوآن وانگ 5 چین کے جیانگنان شپ یارڈ میں تعمیر کیا گیا اور یہ ستمبر 2007 میں سروس میں داخل ہوا تھا۔ 222 میٹر طویل اور 25.2 میٹر چوڑے اس جہاز میں ٹرانس اوشینک ایرو سپیس مشاہدے کے لیے جدید ترین ٹریکنگ ٹیکنالوجی موجود ہے۔ اس کا آخری نگرانی مشن گذشتہ ماہ چین کے ’لانگ مارچ 5 بی‘ راکٹ کی لانچ تھا۔ یہ حال ہی میں چین کے تیانگونگ خلائی سٹیشن کے پہلے لیب ماڈیول کے آغاز کی سمندری نگرانی میں بھی شامل تھا۔

بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو سری لنکا کی ویب سائٹ کے مطابق چین کے یوآن وانگ کلاس جہازوں کی ترقی کی تجویز 1965 میں وزیراعظم نے پیش کی تھی اور اسے چیئرمین ماؤ زے تنگ نے 1968 میں منظور کیا تھا۔

یوآن وانگ 1، 2، 3 اور 4 جہازوں نے نومبر 1999 میں شینژو خلائی جہاز کی لانچنگ کا سراغ دنیا کے سمندروں کے چار پوائنٹس سے لگایا تھا اور یوآن وانگ 7 کو 2016 میں شینژو 11 اور تیانگونگ 2 خلائی لیب مینڈ مشن کی لانچ کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

اس سے قبل چین نے نئی دہلی کے خدشات کو ’بلاجواز اور اخلاقی طور پر غیرذمہ دارانہ‘ قرار دیتے ہوئے انڈیا پر زور دیا تھا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان معمول کے تبادلوں میں خلل نہ ڈالیں۔

ان خدشات سے نمٹتے ہوئے چین نے کہا کہ بحری جہاز کی ’سمندری سائنسی تحقیق‘ کی سرگرمیاں ’بین الاقوامی قوانین کے مطابق‘ ہیں اور اس سے ’کسی دوسرے ملک کے سلامتی مفادات‘ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

چین نے یہ بھی کہا کہ وہ سیاسی باہمی اعتماد کو مستحکم کرنے اور دو طرفہ تعلقات کی مستقل ترقی کو فروغ دینے کے لیے سری لنکا کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب سری لنکا، جس نے گذشتہ برسوں میں چین کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں، نے ان ممالک سے کہا ہے کہ وہ ’اشتعال انگیزی سے باز رہیں۔‘

ہمبنتوتا بندرگاہ چین چلاتا ہے، جسے سری لنکا نے اسے 1.12 ارب ڈالر میں 99 سال کے لیے لیز پر دے رکھا ہے۔ بیجنگ سری لنکا کا سب سے بڑا دو طرفہ قرض دہندہ ہے، جو جزیرے کے 10 فیصد سے زیادہ غیر ملکی قرضوں کا مالک ہے۔

ہمبنتوتا بندرگاہ تجارتی طور پر ابھی تک ایک ناکام منصوبہ ہے، جسے سابق سری لنکن صدر مہندا راج پکشے نے اپنے آبائی ضلعے میں ادھار چینی رقم سے تعمیر کیا تھا۔ اسے صدر میتھری پالا سری سینا اور وزیراعظم رانیل وکرما سنگھے کی حکومت کو 2017 میں 1.1 ارب ڈالر کے قرض کے مقابلے میں 99 سالہ لیز پر چین کے حوالے کرنے پر مجبور کیا گیا تھا، جسے وہ واپس کرنے سے قاصر تھے۔

یہ جہاز ہمبنتوتا کیوں آیا ہے؟

بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو سری لنکا نے اس سے قبل اپنی ویب سائٹ پر کہا تھا کہ یوآن وانگ پانچ اگست اور ستمبر کے دوران بحر ہند کے خطے کے شمال مغربی حصے میں چین کے سیارچوں پر سیٹلائٹ کنٹرول اور تحقیقی ٹریکنگ کرے گا۔ اس میں مزید کہا گیا تھا: ’ہمبنتوتا بندرگاہ پر یوآن وانگ 5 کا دورہ سری لنکا اور علاقائی ترقی پذیر ممالک کے لیے اپنے خلائی پروگرام کو سیکھنے اور تیار کرنے کا ایک بہترین موقع ہوگا۔‘

انڈیا کو تشویش کیوں؟

یوآن وانگ 5 ایک طاقتور ٹریکنگ جہاز ہے جس کی اہم فضائی رسائی (مبینہ طور پر تقریباً 750 کلومیٹر) کا مطلب ہے کہ کیرالہ، تمل ناڈو اور آندھرا پردیش کی متعدد بندرگاہیں چین کے ریڈار پر ہوسکتی ہیں۔ اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنوبی انڈیا میں متعدد اہم تنصیبات پر جاسوسی کا خطرہ ہوسکتا ہے۔

ترقی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے پہلے کہا تھا: ’حکومت ہندوستان کے سلامتی اور معاشی مفادات پر اثر انداز ہونے والی کسی بھی پیش رفت کی احتیاط سے نگرانی کرتی ہے اور ان کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرتی ہے۔‘

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں بے نام بھارتی حکام کے حوالے سے اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ ’سری لنکا اتنی جدوجہد کر رہا ہے کہ چینی حکومت سے ہمبنتوتا بندرگاہ جیسے اثاثوں کے استعمال کے بدلے قرضوں سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے، تاہم لیز کے حتمی معاہدے میں سری لنکا کی دعوت کے بغیر وہاں فوجی سرگرمی سے منع کیا گیا ہے۔‘

سری لنکا نے بندرگاہ کے ارد گرد 15 ہزار ایکڑ اراضی بھی چینیوں کے حوالے کر دی۔ سری لنکا کے حکام نے اس وقت کہا تھا کہ چین پر ان کا مجموعی قرضہ تقریباً آٹھ ارب ڈالر ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا