آئی ایم ایف پر جنگ زدہ ملکوں پر سرچارج ختم کرنے کا دباؤ

سرچارجز کی شکل میں اضافی فیس ان ملکوں کے قرضے پر عائد کی جاتی ہے جو آئی ایم ایف کے بھاری قرضوں تلے دبے ہوئے ہیں۔

پانچ جولائی 2015 کی اس تصویر میں واشنگٹن ڈی سی میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا لوگو ہیڈ کوارٹر کی عمارت میں دیکھا جاسکتا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی/مینڈیل اینگن)

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو اس بات کا دوبارہ جائزہ لینے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے کہ وہ ان قرضوں پر کس طرح فیس عائد کرے گا، جو وہ جنگ زدہ یوکرین جیسے ضرورت مند ممالک کو دیتا ہے، جو عالمی ادارے سے بڑے قرضے لینے والے ملکوں سے میں سے ایک ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق یہ صورت حال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مزید ممالک کو آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی ضرورت ہوگی کیوں کہ بین الاقوامی سطح پر خوراک کی قیمتوں اور افراط زر میں اضافہ جاری ہے۔

سرچارجز کی شکل میں اضافی فیس ان ملکوں کے قرضے پر عائد کی جاتی ہے جو آئی ایم ایف کے بھاری قرضوں تلے دبے ہوئے ہیں۔

امریکی نائب وزیر خزانہ ویلی ایڈیمو نے گذشتہ ماہ ریاست کولوریڈو کے شہر ایسپن میں کہا تھا کہ متعدد ممالک کے وزرائے خزانہ کو احساس ہے کہ انہیں یوکرین میں روس کی جنگ کی قیمت چکانی پڑی ہے، خاص طور پر خوراک کی قیمتوں میں اضافے کی شکل میں۔

ایڈیمو کے بقول: ’وہ آئی ایم ایف سے رجوع کرنے پر مجبور ہوں گے۔ انہیں امداد تلاش کرنے کی ضرورت پڑے گی۔‘

 تاہم آئی ایم ایف کی فیس کا نظام امریکی قانون سازی کے ذریعے تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ میں ترمیم کرنی ہو گی جو دفاعی اخراجات کے بل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس قانون میں ترمیم آئی ایم ایف سرچارجز کو معطل کر دے گی جب کہ ان کی افادیت اور مقروض ملکوں پر ان کے بوجھ کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان نے جولائی میں اس حوالے سے ترمیم منظور کر لی تھی اور سینیٹ میں ستمبر میں دفاعی بل پر رائے شماری متوقع ہے۔ سینیٹ کی مسلح خدمات کمیٹی کے ایک نمائندے کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں یا سینیٹ میں بھی یہ ترمیم پیش کی جا سکتی ہے۔

آئی ایم ایف کے سب سے بڑے شیئر ہولڈر اور فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ کے رکن کی حیثیت سے امریکہ پالیسی فیصلوں کے لیے دباؤ ڈالنے کے ساتھ ساتھ بورڈ کے کچھ فیصلوں کو یکطرفہ طور پر ویٹو کر سکتا ہے۔

دوسری جانب سری لنکا اور پاکستان میں بڑھتے ہوئے مالیاتی بحرانوں کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے کچھ لوگ چین پر قرضوں کے جال کی ڈپلومیسی میں ملوث ہونے یا ان ممالک کو قرضوں کے دلدل میں ڈبونے کا الزام لگاتے ہیں تاکہ وہ بین الاقوامی معاملات پر چین کی جانب دیکھیں۔

تاہم شہری حقوق کی تنظیموں کو آئی ایم ایف سے شکایت ہے، جن کا دعویٰ ہے کہ یہ ادارہ قرضوں کی ادائیگی میں کمزور پوزیشن والے ممالک کے معاملے میں بحیثیت آخری حل اپنا کردار کم ادا کرتا ہے۔

قرضوں کے عالمی بحران اور بڑھتی ہوئی شرح سود کے خطرے کے پیش نظر یہ مسئلہ ان ممالک کے لیے زیادہ دباؤ کا سبب بن گیا ہے، جو اپنے خسارے کو کم کرنا چاہتے ہیں۔

تاہم بعض ماہرین اقتصادیات اور فنڈ کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ سرچارجز قرضہ دینے کے ذمہ دارانہ رویے کے مترادف ہیں کیوں کہ وہ بڑے بقایاجات والے ملکوں کو قرضوں کی فوری ادائیگی کی ترغیب دیتے ہیں۔ یہ خاص طور پر ان ممالک کے لیے ہے، جو دیگر نجی قرض دہندگان سے مالی امداد حاصل کرنے کے قابل نہیں ہوسکتے۔

برکلے کی معاشیات کے پروفیسر اور آئی ایم ایف کے شعبہ تحقیق کے سابق ڈائریکٹر موریس اوبسٹفیلڈ کہتے ہیں کہ قرضہ دینے والے آخری ادارے کے طور پر آئی ایم ایف کی قرضہ دینے کی صلاحیت اہم ہے کیونکہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کو بڑھتی ہوئی شرح سود کا سامنا ہے۔

انہوں نے دی ایسوسی ایٹڈ پریس کو ایک ای میل کے جواب میں بتایا: ’فنڈ کا عملہ کم ہے اور یہ بحران میں ہے۔ رکن ممالک کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اس کی خدمات کا بہتر استعمال کیا جا رہا ہے۔‘

’قرض لینے والے ممالک پر شدید دباؤ کے پیش نظر سرچارجز میں عارضی طور پر نرمی کی جا سکتی ہے لیکن اس سے طویل مدت کے دوران آئی ایم ایف کے رکن ممالک کی خدمت کرنے کی صلاحیت متاثر ہوگی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

الینوائے کے رکن کانگریس جیزز چوئے گارسیا، جنہوں نے دفاعی اخراجات میں ترمیم کی پیش کش کی، نے دی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا: ’آئی ایم ایف کے لیے یہ غیر منصفانہ ہے کہ وہ یوکرین جیسے ممالک کو سرچارج فیس ادا کرنے کے لیے کہے، جو پہلے ہی قرضوں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ سرچارج غربت میں اضافہ کرتے ہیں اور ہماری عالمی اقتصادی بحالی کو روکتے ہیں۔‘

اس سے قبل کولمبیا یونیورسٹی کے ماہر اقتصادیات جوزف سٹگلٹز اور بوسٹن یونیورسٹی سے منسلک کیون پی گالاگھیر نے لکھا تھا کہ ’اضافی ادائیگیوں پر مجبور کرنے سے قرض لینے والے ملک کی پیداواری صلاحیت کم تو ہوتی ہی ہے لیکن قرض دہندگان کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور قرض لینے والوں کوٹھیک اسی لمحے زیادہ ادائیگی کرنے کرنی پڑتی ہے جب وہ کسی بھی دوسری شکل میں مارکیٹ تک رسائی کے سبب سب سے زیادہ نچوڑے جاتے ہیں۔‘

دوسری جانب یوکرین کے نیشنل بینک کے ڈپٹی چیئرمین سرہی نیکولائیچک نے کہا ہے کہ روس کی یوکرین کے خلاف مکمل جنگ کے باوجود یوکرین اپنے قرضے ادا کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’ہمارا ملک گذشتہ پروگرامز کے تحت اپنا قرض اور سرچارج ادا کرے گا اور آئی ایم ایف کے معاملے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔ یہ مشکل ہو گا لیکن ہم ادائیگی کریں گے۔‘

برسوں سے قانون ساز، ماہرین اقتصادیات اور شہری حقوق کی تنظیمیں آئی ایم ایف سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ سرچارج کی پالیسی کو ختم کرے۔ آئی ایم ایف نے کئی دہائیوں تک کم آمدنی والے ممالک کو اربوں کا قرضہ دیا ہے۔

امریکہ میں بائیں بازو کے 18 قانون سازوں نے جنوری میں وزارت خزانہ کو خط لکھ کر سرچارج پالیسی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اپریل میں، سول سوسائٹی کے ڈیڑھ سو گروپوں سمیت مختلف شخصیات کے ایک گروپ نے آئی ایم ایف کے نام ایک کھلے خط پر دستخط کیے جس میں سرچارجز کو رجعت پسند قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔

دوسری جانب آئی ایم ایف کے ترجمان کا مؤقف ہے کہ سرچارجز کا مقصد عالمی ادارے کے وسائل کو زیادہ اور طویل عرصے تک استعمال کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا