کوہالہ: ایسا تھانہ جسے میوزیم بنایا جائے گا

اس عمارت میں ڈیڑھ صدی تک تھانہ کامیابی سے چلتا رہا اور پھر جب 2010 میں تھانے کی نئی عمارت تعمیر ہوئی تو یہ تاریخی عمارت ناقابل استعمال اور متروک ہوتی چلی گئی۔

شہروں کے شور و ہنگامے سے دور دریائے جہلم کے مغربی کنارے اور مری کے شمال میں تیس کلومیٹر کی مسافت پر کوہالہ وادی کے عین وسط میں تھانہ بکوٹ کی 164 سالہ قدیم قلعہ نما عمارت اپنے بہترین محل وقوع اور عمدہ فن تعمیر کی بدولت آج بھی قائم ہے، جو عدم توجہ کے باعث بتدریج زوال پذیر ہو رہی ہے۔

پولیس ملازمین کے دفاتر اور رہائش پر مشتمل یہ قلعہ نما انگریزی طرز کا تھانہ مجموعی طور پر 20 کمروں پر مشتمل تھا جس کی تعمیر میں مقامی پتھر، چونے اور دیودار کی لکڑی کا استعمال کیا گیا۔

اس عمارت میں ڈیڑھ صدی تک تھانہ کامیابی سے چلتا رہا اور پھر جب 2010 میں تھانے کی نئی عمارت تعمیر ہوئی تو یہ تاریخی عمارت ناقابل استعمال اور متروک ہوتی چلی گئی اور مستقل بے اعتنائی برتنے کی وجہ سے یہ دھیرے دھیرے اب خستہ حالی کا شکار ہے۔

تھانے کے افسر مہتمم سب انسپیکٹر محمد امتیاز نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس عمارت میں جوں ہی مرکزی دروازے سے داخل ہوں تو ساتھ ہی دو حوالات کے کمرے ہیں جن سے منسلک اس وقت کے تھانے کے ایس ایچ او کے علاوہ محرر اور تفتیشی افسران کے کمرے ہیں اور تقریباً دس سے زائد ملازمین کے رہائشی کمرے اور میس ہے۔

تھانہ بکوٹ کی اراضی کے بارے میں جو دستاویزی شواہد ملے ان کے مطابق یہ جگہ ڈھونڈ برادری کے مقامی سردار حسن خان بکوٹ کی ملکیت تھی جو اُنہوں نے انگریز حکام کو دی جس پر اس قلعہ نما عمارت کی تعمیر 1958 میں کی گئی اور بعد ازاں پولیس ایکٹ 1861 کے تحت اسے محکمہ پولیس کے حوالے کیا گیا۔

وادی کوہالہ صدیوں سے کشمیر کے لیے ایک اہم راہ داری کے طور پر اپنی پہچان رکھتی ہے۔ جب ڈوگرہ حکومت نے ہزارہ ضلع کا تبادلہ جموں کے قریبی علاقوں کے بدلے ایسٹ انڈیا کمپنی سے کیا تو کوہالہ انگریزوں اور ڈوگرہ راج کے درمیان سرحدی علاقہ بن گیا۔

دریائے جہلم کے مشرقی جانب ڈوگرہ راج تھا جب کہ مغربی جانب یہ علاقہ انگریزوں کے پاس تھا جو اس وقت پنجاب کا حصہ بن گیا۔

سب انسپیکٹر امتیاز بتاتے ہیں کہ اسی پس منظر میں کوہالہ کو خصوصی مقام حاصل ہو گیا جس کی بدولت انگریزوں نے دریا کے اِس پار یہ قلعہ نما عمارت جسے بعدازاں تھانہ بنایا تعمیر کرنے کے ساتھ اپنے مختلف دفاتر اور ریسٹ ہاؤس تعمیر کیے، جب کہ دریا کی دوسری جانب ڈوگرہ حکومت کے مہاراجہ نے اپنا تھانہ اور برسالہ ریسٹ ہاؤس بنایا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ان ریسٹ ہاؤسز میں اس وقت کے انگریز افسران اپنے خاندانوں کے ساتھ قیام کیا کرتے تھے۔ جب کہ اس وقت کی مشہور سیاسی شخصیات بھی آتیں اور قیام پذیر ہوتی تھیں۔ اگر ہم دیکھیں تو 1926 میں علامہ محمد اقبال نے یہاں قیام کیا۔

’اس کے علاوہ 1044 میں قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کی ہمشیرہ فاطمہ جناح کا سری نگر، کشمیر سے واپسی پر یہاں سے گزر ہوا۔ اسی طرح 1046 میں جواہر لال نہرو یہاں آئے اور پھر پار کشمیر گئے۔‘

اس تھانے میں موجود قدیم رجسٹرز پولیس کی تاریخ کا بیش قیمت اثاثہ ہیں۔ تھانہ اس لحاظ سے بھی خاصی شہرت کا حامل ہے کہ یہاں سو سال پرانی ابتدائی اطلاعی رپورٹس (ایف آئی آر) بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہیں۔

تھانے میں 1912 کا ایک رجسٹر اب تک سالم حالت میں موجود ہے جس میں اس وقت کی انگریز انتظامیہ اور پولیس افسران اپنے دوروں کے تاثرات لکھتے تھے۔ اسی طرح اس تھانے میں مال حکومت کا بھی رجسٹر ہے جس میں تھانے کے اندر جو دروازے، کرسیاں صندوق اور اسلحہ رکھا ہے وہ درج ہے۔

سب انسپیکٹر امتیاز کے بقول ’یہ علاقہ 1901 تک پنجاب حکومت کے ماتحت رہا جب کہ اس کے بعد اسے نئے قائم ہونے والے شمال مغربی سرحدی صوبہ میں شامل کر دیا گیا۔ تھانے کا 19ویں صدی کا ریکارڈ بھی شاید پنجاب آرکائیوز میں چلا گیا ہے جب کہ 20ویں صدی کے اوائل سے آج تک کا مکمل ریکارڈ اس کے مال خانے میں موجود ہے۔

’میرے خیال میں یہ برطانوی عہد کے چند تھانوں میں سے غالباً ایک تاریخی تھانہ ہے جس کے پاس اتنا زیادہ ریکارڈ محفوظ ہے جو آج بھی احسن انداز میں رکھا ہوا ہے۔‘

ڈپٹی انسپیکٹر جنرل آف پولیس ہزارہ رینج، میر ویس نیاز نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہیں اپنی تعیناتی کے دوران جیسے ہی اس تاریخی تھانے کا علم ہوا تو انہوں نے افسران کے ہمراہ اس کی قدیم عمارت کا دورہ کیا۔

میر ویس نیاز نے کہا کہ تھانے کی یہ قدیم عمارت تاریخ کا ایک نہایت اہم باب ہے اور آئندہ نسلوں کی معلومات برقرار رکھنے کے لیے اس کی بحالی بہت ضروری ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ محکمہ آثار قدیمہ کے تعاون سے اس عمارت میں پولیس میوزیم کے قیام کی کوشاں ہیں جس سے نہ صرف محققین اور طلبہ کو پولیس کی تاریخ سے مستفید ہونے کا موقع ملے گا بلکہ پولیس اور عوام کے تعلقات میں بھی مزید بہتری آئے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ