سری نگر میں طبی آلات کی مرمت کرنے والے ’واحد‘ لوہار

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سری نگر کے رہائشی غلام محی الدین کا خاندان جرمنی میں تیار کیے گئے پرانے طبی آلات کی بحالی میں مہارت کے لیے ’جرمن خرس‘ کے نام سے مشہور ہے۔

77 سالہ غلام محی الدین آہنگر نے اپنی جوانی میں خاندان کے دیگر سات افراد کے ہمراہ یہ ہنر سیکھا (فوٹو: سکرین گریب/ سمیر مشتاق)

غلام محی الدین آہنگر کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں جرمن ساختہ طبی آلات کی مرمت اور نقل تیار کرنے میں مہارت رکھتا ہے۔

ان کا خاندان جرمنی میں تیار کیے گئے پرانے طبی آلات کی بحالی میں مہارت کے لیے ’جرمن خرس‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اگرچہ ان کی تجارت کو کئی سالوں سے برقرار رکھا گیا ہے، لیکن وہ واحد لوہار ہیں جو آج بھی کام کرتے ہیں۔

77 سالہ غلام محی الدین آہنگر نے اپنی جوانی میں خاندان کے دیگر سات افراد کے ہمراہ یہ ہنر سیکھا۔ آہنگر خاندان میں یہ کام کرنے والی چوتھی نسل ہے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’چونکہ وادی (کشمیر) میں کوئی اور جرمن مشینری کو ٹھیک نہیں کر سکتا تھا، اس لیے ہمارے آباؤ اجداد نے ’جرمن خرس‘ کا لقب حاصل کیا۔‘

غلام محی الدین بتاتے ہیں کہ سری نگر میں ایک جرمن شہری 1940 کی دہائی کے اوائل میں وادی میں کسی اور جگہ ٹھیک کرنے میں ناکام ہونے کے بعد ایک بار جرمن ساختہ سامان ان کے دادا دادی کے پاس لے گیا۔

انہوں نے بتایا: ’ہمارے پاس آنے سے پہلے، اسے وادی میں کوئی ایسی جگہ تلاش کرنے میں دشواری تھی جہاں اسے ٹھیک کیا جا سکتا تھا۔ ہمارے خاندان کے ایک بزرگ نے کئی دنوں تک اس پر کام کرنے کے بعد اس کی مرمت کی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عمر کی سات دہائیاں دیکھ لینے والے غلام محی الدین سری نگر کے علاقے ریناواری میں اپنی چھوٹی سی ورکشاپ میں ہر روز چھوٹے چھوٹے اوزار تیار اور ان کی مرمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کئی سالوں کے تجربے کے دوران کئی چھوٹے طبی آلات کی نقل تیار کرنا بھی سیکھ لیا۔

یہ ہنر نسل در نسل ان کے باپ دادا کے ذریعے منتقل ہوا، جنہوں نے اسے اپنے بزرگوں سے سیکھا۔ یہاں تک کہ وہ اپنے اوزار بھی بناتے ہیں۔

ان کی شہرت کی وجہ سے، وادی کے ارد گرد سے لوگ ہسپتال کا ٹوٹا ہوا سامان مثلاً وہیل چیئرز، بلڈ پریشر مانیٹر اور ہسپتال کے بیڈ انہی کے پاس لاتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ صرف وہ ہی انہیں ٹھیک کر سکتے ہیں۔

غلام محی الدین آہنگر کا دعویٰ ہے کہ انہیں کبھی بھی سرکاری مدد نہیں ملی۔ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں کوئی جگہ دی جائے جہاں وہ نوجوانوں سے اپنا تجربہ شیئر کر سکیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی فن