پاکستان انڈیا ایک بار پھر مدمقابل: جیت کس کی ہو گی؟

اتوار کی شام جب دبئی کی تیز دھوپ ڈھل رہی ہو گی اور سورج کی تپش کم ہوتی جا رہی ہو گی تو دبئی سپورٹس سٹی میں شائقین کرکٹ کا جم غفیر ہو گا جو سبز ہلالی اور ترنگا پرچم لیے کرکٹ کی تپش کو بڑھا رہا ہو گا۔

28 اگست 2022 کو دبئی کے انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی کے میچ کے دوران انڈیا کے رویندرا جدیجا پاکستان کے محمد نواز کے ہاتھوں بولڈ ہوئے۔ (اے ایف پی)

ہانگ کانگ کے خلاف گروپ میچ سے پہلے پاکستانی ٹیم کے ناقدین شکست کی پیشگوئی کر رہے تھے مگر میچ میں حیران کن کارکردگی نے پانسہ پلٹ دیا اور ایک بار پھر انڈیا کی ٹیم کے برابر لا کھڑا کیا۔

اس سے قبل ہانگ کانگ کو فیورٹ قرار دیا جا رہا تھا۔ جس طرح اس نے انڈیا کے خلاف کرکٹ کھیلی تھی، اس سے ماہرین انہیں پاکستان کا سخت حریف گردان رہے تھے۔ میچ شروع ہوتے ہی جس طرح بابر اعظم کی وکٹ ہانگ کانگ کو ملی تو یقین بڑھنے لگا کہ نتیجہ کچھ اچھا نہیں نکلے گا۔ 

سست رفتار بیٹنگ نے اور یقین بڑھایا لیکن  پھر پاکستانی ٹیم نے روایت کے مطابق چال بدلی اور رنز کا انبار لگایا۔ وکٹوں کو تنکوں کی طرح اڑایا اور رنز کے اعتبار سے بہت بڑی فتح حاصل کر لی۔

وہ سارے ماہرین جو پاکستان کو تیسرے درجے کی ٹیم قرار دے رہے تھے، اب ایک بار پھر انڈیا کے ہم پلہ قرار دے رہے ہیں اور زیادہ تر اتوار کے میچ میں پاکستان کی جیت کی پیشگوئی کر رہے ہیں۔

اتوار کی شام جب دبئی کی تیز دھوپ ڈھل رہی ہو گی اور سورج کی تپش کم ہوتی جا رہی ہو گی تو دبئی سپورٹس سٹی میں شائقین کرکٹ کا جم غفیر ہو گا جو سبز ہلالی اور ترنگا پرچم لیے کرکٹ کی تپش کو بڑھا رہا ہو گا۔

دو روایتی حریف انڈیا اور پاکستان ایک بار پھر ایشیا کپ میں مد مقابل ہوں گے اور اس دفعہ مرحلہ ہو گا سپر فور کا، جہاں فیصلہ ہو گا دو فائنلسٹ ٹیموں کا۔ 

ایشیا کی چار بہترین ٹیمیں ایک دوسرے سے پنجہ آزمائی کریں گی تاکہ سات دن بعد سنہری ٹرافی کی فیصلہ کن جنگ لڑ سکیں۔

انڈیا کے لیے اطمینان بخش بات یہ ہے کہ ایک میچ پاکستان سے جیت چکی ہے۔ دوسرے میچ کے لیے حوصلے بلند تو ہیں لیکن اس سے پہلے ایک دھچکا بھی لگ چکا ہے۔

آل راؤنڈر رویندر جدیجا زخمی ہو کر ٹورنامنٹ  باہر ہو گئے ہیں۔ وہ پاکستان کے خلاف جیت کے مصنفوں میں سے ایک تھے۔ ان کی عدم دستیابی انڈیا کو مہنگی پڑ سکتی ہے۔

پاکستانی ٹیم بھی اس اہم میچ سے قبل اہم کھلاڑی شاہنواز دھانی سے محروم ہو گئی ہے۔ وہ سائیڈ سٹرین کے شکار ہیں اور شاید اب ٹورنامنٹ میں مزید نہ کھیل سکیں۔ دھانی نے ہانگ کانگ کے خلاف بہت عمدہ بولنگ کی تھی اور اسی میچ میں زخمی ہوئے تھے۔

ٹیم میں کون کون ہو گا؟

اگر پاکستانی ٹیم کی بات کی جائے تو بیٹنگ لائن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ البتہ بولنگ میں دھانی کی جگہ حسن علی کی شمولیت کے امکانات نظر آ رہے ہیں۔ بیٹنگ کا سارا بوجھ بابر اعظم، رضوان اور فخر زمان پر ہو گا۔  بولنگ میں نسیم شاہ پر سب کی نظریں ہوں گی۔

اگر نسیم نے چار اوور عمدگی سے کھیلے تو میچ پاکستان کے ہاتھوں میں آ سکتا ہے۔ درمیانے اوور میں محمد نواز اور شاداب خان کی بولنگ بہت اہم ہو گی اور ان کو اپنی بولنگ لینتھ پر کنٹرول رکھنا ہو گا۔

انڈین ٹیم کو رویندر جدیجا کی جگہ کسی اور کو منتخب کرنا ہو گا۔ زیادہ امکانات اکشر پٹیل کے ہیں جو بولنگ آل راؤںڈر ہیں۔ دیپک ہوڈا بھی کھیل سکتے ہیں تاہم انہوں نے ابھی تک ٹی ٹونٹی میں بولنگ نہیں کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اکشر پٹیل کی بولنگ بہت بہتر ہے لیکن بیٹنگ میں کمزور ہیں۔ روی چندر ایشون بھی ٹیم کے ساتھ ہیں لیکن ان کی شمولیت مشکل نظر آتی ہے۔

انڈین بیٹنگ کا دارومدار روہت شرما، ویراٹ کوہلی، ہردیک پانڈیا اور سوریا کمار یادیو (سکائی) پر ہو گا۔  سکائی نے ہانگ کانگ کے خلاف جس طرح بیٹنگ کی تھی، اس سے وہ خطرناک نظر آ رہے ہیں۔ اگرچہ وہ پاکستان کے خلاف پہلے میچ میں ناکام رہے تھے لیکن آج کے میچ میں ان کی بیٹنگ سب سے اہم ہو گی۔

انڈین بولنگ پاکستان کے مقابلے میں اتنی موثر نہیں ہے لیکن پہلے میچ میں شارٹ پچ گیندوں نے حیرت انگیز طور پر پاکستانی بلے بازوں کو پریشان کیا تھا۔ 

آج کے میچ میں شاید ان کا یہ کارڈ نہ چل سکے۔

پاکستان کیا سوچ رہا ہے؟

پاکستان نے جس طرح ہانگ کانگ کے خلاف بیٹنگ کی، وہ حکمتِ عملی انڈیا کے خلاف کامیاب نہیں ہو گی۔ ہانگ کانگ کے بولروں کو آخری اووروں میں بولنگ کا تجربہ نہیں تھا۔ البتہ انڈین بولر آخری اووروں میں رنز روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 

اگر پاکستان پہلے بیٹنگ کرتا ہے تو شروع سے رنز کی رفتار تیز رکھنا ہو گی۔ دبئی کی وکٹ وقت کے ساتھ  سست ہوتی جاتی ہے اور گیند پوری طرح بیٹ پر نہیں آتی۔

پاور پلے میں 50 سے زائد رنز کرنا ہوں گے جبکہ آخری پانچ اووروں میں 60 سے 70 رنز لینا ہوں گے۔ پاکستان کا ہدف 180 رنز بنانا ہو سکتا ہے۔

انڈین ٹیم کے لیے 180 رنز کا ہدف مشکل ترین ہو گا۔

اگر پاکستان پہلے بولنگ کرتا ہے تو وکٹیں لینا ہوں گی۔ انڈین ٹیم کے لیے شارٹ پچ گیندیں ہمیشہ سے مسئلہ رہی ہیں۔ پاکستانی بولر اگر وکٹوں کے درمیان شارٹ پچ کرتے ہیں تو انڈین بلے بازوں کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

 پاکستان کو پانڈیا اور سکائی کے لیے منصوبہ بنانا ہوگا۔ بولروں کو رفتار میں تبدیلی سے ان کو قابو کرنا ہو گا۔

سپر فور مرحلے میں اتوار کا میچ دونوں ٹیموں کے لیے بہت اہم ہو گا لیکن ہارنے والی ٹیم کے پاس فائنل تک پہنچنے کا پھر بھی موقع رہے گا۔ تاہم افغانستان کی کارکردگی دیکھتے ہوئے فائنل تک رسائی آسان نہیں ہو گی۔

میچ کون جیتے گا، یہ کہنا مشکل ہے لیکن جس طرح پاکستانی ٹیم نے اپنی فارم کو بحال کیا ہے، اس سے انڈیا یقینی طور پر پریشان ہو گا۔

انڈیا سے کسی حد تک مقابلہ کرنے والی ٹیم ہانگ کانگ کی پاکستان کے خلاف طفلانہ پرفارمنس نے انڈین کیمپ کو پریشان کر دیا ہے۔ کوچ سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں کہ پاکستانی بولنگ کو کس طرح قابو کرنا ہے۔

اگر ون ٹو ون مقابلہ کیا جائے تو پاکستانی ٹیم زیادہ متوازن نظر آتی ہے لیکن کپتان کو بولنگ میں درست فیصلے کرنا ہوں گے اور ان غلطیوں سے بچنا ہو گا جو پہلے میچ میں ہوئی تھیں۔

اتوار کی شام دنیا بھر میں کروڑوں کرکٹ شائقین ایک بار پھر ایک شاندار مقابلہ دیکھنے کے لیے بے چین ہیں جس میں جوش بھی ہےاور جیت کی لگن بھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ