کیا پاکستان میں شدید سیلاب کی وجہ امریکہ کا ہارپ منصوبہ ہے؟

پاکستان میں حالیہ شدید سیلاب اور بارشوں سے متعلق سوشل میڈیا پر سازشی مفروضے بھی گردش کر رہے ہیں لیکن ان کی حقیقت کیا ہے؟ جانیے انڈپینڈنٹ اردو کی اس تفصیلی رپورٹ میں۔

29 اگست، 2022 کو بلوچستان کے ضلع جعفر آباد میں سیلاب سے متاثرہ خواتین پینے کا پانی بھر رہی ہیں (اے ایف پی)

پاکستان میں حالیہ تباہ کن بارشوں اور سیلاب کو کچھ حلقے ایک سازش کا نتیجہ سمجھتے ہوئے اس تباہی کو قدرتی آفت کی بجائے بالائی فضا کے مطالعے سے متعلق امریکی پراجیکٹ ہارپ (HAARP) کی کارستانی قرار دے رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر جاری ایک بحث میں بارشوں اور سیلاب کے باعث ہونے والی تباہیوں کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس سلسلے میں یوٹیوب پر کئی وی لاگز بھی کیے گئے جبکہ ایک اردو اخبار میں 'آن لائن انکشاف' کے حوالے سے ملک میں بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کا ذمہ دار امریکی پراجیکٹ ہارپ کو ٹھہرایا ہے۔

اس سال جون کے وسط سے شروع ہونے والی شدید بارشوں اور ان کے نتیجے میں سیلابی ریلوں کے باعث اس وقت پاکستان کی ایک تہائی حصہ خشکی پر پانی موجود ہے جبکہ تین کروڑ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو نے اس موسم گرما میں شدید بارشوں اور سیلاب کے پیچھے کسی سازش یا ہارپ سے تعلق کی حقیقت جاننے کی کوشش کی، جس کی تفصیلات درج ذیل میں سامنے آئیں گی۔

تاہم ان حقیقتوں کو بیان کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہارپ پراجیکٹ کو جان لیا جائے۔

ہارپ کیا ہے؟

ہارپ (High Frequency Active Auroral Research Program) امریکی فوج کی شروع کردہ ایک سائنسی کوشش ہے، جس کا مقصد زمین کی سطح سے 50 میل اوپر سے خلا  تک (زمین سے 400 میل کی دوری پر) پھیلی ہوئی فضا (جسے آئنوسفیئر کہا جاتا ہے) کا مطالعہ کرنا ہے۔

1993 میں شروع ہونے والے اس منصوبے کو اگست 2015 میں امریکہ کی یونیورسٹی آف الاسکا فیئر بینکس کو منتقل کر دیا گیا تھا اور ہارپ کی رصد گاہ (آبزرویٹری) امریکی ریاست الاسکا کے ایک چھوٹے سے شہر گاکونا کے قریب واقع ہے۔

یونیورسٹی آف آلاسکا کی ویب سائٹ کے مطابق: 'ہارپ آئنوسفیئر کے مطالعے کے لیے دنیا کا سب سے زیادہ قابل ہائی پاور، ہائی فریکوینسی ٹرانسمیٹر ہے۔ ہارپ پروگرام عالمی سطح کی آئنوسفیرک ریسرچ تیار کرنے کے لیے پرعزم ہے، جس میں شامل ہیں:

1۔ آئنوسفیرک آلات، جن میں ہائی فریکونسی رینج میں کام کرنے والے ٹرانسمیٹر کی سہولت موجود ہے، جسے سائنسی تحقیق کی مقصد سے آئنوسفیئر کے ایک محدود حصے کو عارضی طور پر اکسانے (excite کرنے) کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

2۔ جدید ترین سائنسی یا تشحیصی آلات جنہیں آئنوسفیئر کے اکسائے گئے (excited) حصے میں ہونے والی تبدیلیوں (یا عوامل) کا مشاہدہ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔'

کم آبادی والی ریاست آلاسکا کے دور دراز بیابانوں میں قائم ہارپ کی آبزرویٹری میں 360 ریڈیو ٹرانسمیٹر، 180 انٹیناز اور پانچ طاقت ور جنریٹر نصب ہیں جو چلائے جانے پر ہر سمت میں جیومیٹرک پیٹرن بناتے ہیں۔

ہارپ آبزرویٹری میں نصب ہر انٹینا ایک فٹ موٹا اور 72 فٹ اونچا ہے۔

یونیورسٹی آف آلاسکا بیئر بینکس کی ویب سائٹ پر ہارپ میں موجود سہولیات کا ذکر جس انداز میں کیا گیا ہے اس سے واضح تاثر ملتا ہے کہ درس گاہ منصوبے کی مارکیٹنگ کر رہی ہے۔

یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر ہارپ سے متعلق صفحے پر درج ہے: 'ان آلات کے استعمال کے نتیجے میں ہونے والے عمل کا ایک کنٹرول شدہ انداز میں مشاہدہ سائنسدانوں کو ان عوامل کو بہتر طور پر سمجھنے کی اجازت دے گا جو سورج کے قدرتی محرک کے تحت مسلسل رونما ہوتے ہیں۔

’ہارپ آبزرویٹری میں نصب سائنسی آلات کو مختلف قسم کی مسلسل تحقیقی کوششوں کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جن میں ہارپ کے آلات کا استعمال شامل نہیں، لیکن سختی سے غیر فعال ہیں۔

’ان میں سیٹلائٹ بیکنز کا استعمال کرتے ہوئے آئینوسفیئرک خصوصیات، ارورہ میں باریک ساخت کا دوربین مشاہدہ اور اوزون کی تہہ میں طویل مدتی تغیرات کی دستاویزات شامل ہیں۔'

ہارپ منصوبہ اور تنازعات

قدرتی آفات کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاریوں کو بین الاقوامی سازشوں سے منسلک کرنے کا مظہر صرف پاکستانی معاشرے تک محدود نہیں بلکہ بعض ترقی یافتہ مغربی ممالک میں بھی یہ معاملہ عام دکھائی دیتا ہے۔

ہارپ منصوبہ اپنے قیام کے فوراً بعد 1990 کی دہائی کے وسط میں تنازعات کا موضوع بنا، جب کہا گیا کہ اس کی آبزرویٹری میں نصب انٹیناز کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں 2010 کے سیلاب کے بعد بین الاقوامی شہرت رکھنے والے پاکستانی سائنس دان ڈاکٹرعطا الرحمٰن نے ایک مضمون میں اس سال وقوع پذیر ہونے والے سیلاب کی ممکنہ وجہ ہارپ کے استعمال کو قرار دیا۔

ڈاکٹر عطا الرحمٰن کے اس مضمون کو پاکستان میں بہت پذیرائی ملی، تاہم سائنس دانوں اور ماحولیاتی ماہرین نے اسے تنقید کا نشانہ بنایا۔

ڈاکٹر عطا الرحمٰن نے بعد ازاں اس مضمون کی یہ کہتے ہوئے وضاحت کی کہ وہ دوسرے سائنس دانوں کے خیالات اور مشاہدات کا ذکر کر رہے تھے اور خود ان سے متفق نہیں۔

اگست 2002 میں روس کی ہارپ کی مخالفت منظر عام پر آئی، جس میں کہا گیا کہ امریکہ اس منصوبے کو استعمال کر کے نئے اور زیادہ مہلک ہتھیار بنا رہا ہے۔

وینزویلا کے صدر یوگو شاویز نے بھی ہارپ پر تنقید کی تھی، جبکہ امریکی ریاست مینیسوٹا کے سابق گورنر جیسی وینٹورا نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا امریکی حکومت ہارپ کے ذریعے موسم یا لوگوں کے ذہنوں کو کنٹرول کرنا چاہ رہی ہے؟

ایران-عراق اور ہیٹی میں آنے والے تباہ کن زلزلوں کو بعض حلقوں نے ہارپ منصوبے سے جوڑنے کی کوشش کی۔

گذشتہ سال جولائی میں جرمنی میں آنے والے سیلاب سے متعلق بھی اسی قسم کی سازشوں کا ذکر سامنے آیا تھا۔

2017 میں برازیل میں بجلی کے کھمبوں کو گرائے جانے کی ایک ویڈیو کو سوشل میڈیا پر یہ کہہ کر پوسٹ کیا گیا کہ مظاہرین ہارپ کے انٹینا تباہ کر رہے ہیں۔

ہارپ موسم میں تبدیلی كی وجہ بن سكتا ہے؟ 

اکثر ماہرین ہارپ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے درمیان کسی تعلق کی موجودگی کو رد کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی سے منسلک رہنے والے ماہر ماحولیات ڈاکٹر قمر زمان چوہدری کے مطابق ہارپ اور موسم کا تعلق بیان کرنے والی کہانیاں بہت پرانی اور محض جھوٹ اور کم علمی پر مبنی ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہارپ منصوبے کی اس کے قیام سے اب تک کوئی بڑی کامیابی سامنے نہیں آئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکہ دوسرے ملکوں میں بارشیں اور دوسری قدرتی آفات لانے کے لیے ہارپ کو استعمال کر سکتا تو سب سے پہلے وہ ان کے ہاں تباہی مچانے والے سائیکلونز کو کنٹرول کرنے کی کوشش ضرور کرتے۔

انہوں نے کہا کہ قدرتی عوامل کو بدلنے یا کنٹرول کرنے کے لیے اتنی زیادہ توانائی کی ضرورت ہوتی ہے، جو انسان ابھی بنانے یا پیدا کرنے سے قاصر ہے۔

ڈاکٹر قمر زمان چوہدری نے بتایا کہ جو مصنوعی بارشیں کی جاتی ہیں وہ بھی محدود علاقوں پر بالکل تھوڑے وقت کے لیے ممکن ہوتی ہیں۔

پاکستان کے محکمہ موسمیات کے ساتھ تین دہائیوں تک منسلک رہنے والے ماہر موسمیات محمد حنیف کہتے ہیں کہ ایسا ممکن نہیں کہ پاکستان میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ہارپ منصوبے کو استعمال کیا جا سکے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہارپ منصوبہ گذشتہ کئی برسوں سے بند پڑا ہے اور اب ایک امریکی یونیورسٹی کے کنٹرول میں ہے۔

اسلام آباد میں قائد اعظم یونیورسٹی میں فزکس پڑھانے والے ایک پروفیسر ہود بھائی روزنامہ ڈان میں چھپنے والے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ موسم کی تبدیلی صرف ہارپ کی ریڈیو لہروں کی وجہ سے نہیں ہو سکتی۔

’آئنوسفیئر پر 3.6 میگا واٹ ریڈیو ٹرانسمیٹر کے اثرات کا پتہ صرف حساس آلات سے لگایا جا سکتا ہے، حتیٰ کہ یہ اثرات بھی دن میں زمین سے ٹکرانے والے سورج سے چارج شدہ ذرات سے تقریباً مکمل طور پر دھل جاتے ہیں۔'

پروفیسر ہود بھائی کے خیال میں ہارپ کے اثرات کو دیکھنا ایسا ہی ہو گا جیسے سورج کی روشنی میں ایک میل دور موم بتی دیکھنے کی کوشش کرنا۔

مضمون میں مزید لكھا گیا: 'آج، یہاں تک کہ انتہائی طاقت ور لیزر اور ریڈیو بھی آئنوسفیئر کے بڑے حصوں کو گرم کرنے کی ضرورت سے لاکھوں گنا کمزور ہیں۔ (یقیناً، کہیں بھی چھوٹی مقدار میں ہاٹ سپاٹ بنانا کوئی مسئلہ نہیں ہے، لیکن ان کا موسم یا زلزلوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔) شاید مستقبل کی کسی صدی میں کوئی لیزر یہ کام کرنے کے قابل ہو جائے۔'

آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیوکیسل کے آئنوسفیئر اور میگنیٹوسفیئر پر تحقیق کرنے والے پروفیسر فریڈ منک ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ ہائی فریکونسی ریڈیو ٹرانسمیشنز آئنوسفیئر میں سو کلومیٹر کی اونچائی سے اوپر موجود ذرات یا الیکٹرانز کے ساتھ تعامل کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زمینی سطح پر رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کا تعلق زمین کے بہت قریب ہونے والے جیو فزیکل اثرات سے ہوتا ہے، جن میں سطح کے قریب سورج کی حرارت اہم کردار ادا کرتی ہے۔

پروفیسر فریڈ منک نے مزید کہا: 'دنیا میں کئی دوسرے ہائی فریکئونسی مواصلات ہو رہی ہوتی ہیں، جو آئنوسفیئر کو درمیانے اور اونچے درجے کے سگنلز بھیجتے ہیں، اور ان کا مقصد آئنوسفیئر کا مطالعہ ہوتا ہے۔

’روزمرہ کے موسم پر اس میں سے کسی کے اثر انداز ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ ایسی کوئی بھی تجویز بکواس ہے۔'

آسٹریلوی پروفیسركے مطابق سطح زمین پر موسموں میں ردو بدل كا تعلق محض 15 كلومیٹر كی اونچائی تک ہوتا ہے، جو آئنوسفیئر (سطح زمین سے 50 سے 400 کلو میٹر تک) بہت نیچے ہے۔

پاکستان میں زیادہ بارشیں کیوں ہوئیں؟

عالمی ماحولیاتی ادارے گذشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث ممکنہ تباہیوں کی طرف اشارہ کرتے آ رہے ہیں۔

پاکستان کا شمار بہت عرصہ قبل دنیا کے ان پانچ ملکوں میں کر دیا گیا تھا جو ماحولیاتی تبدیلی کے باعث سب سے زیادہ موسمیاتی خطرات سے دوچار ہیں۔

صرف پاکستان نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کا پورا خطہ نشانے پر ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دنیا بھر کے موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر 10 ممالک کے فہرست میں سے سات ممالک بشمول پاکستان، بنگلہ دیش، میانمار یعنی برما، نیپال، فلپائن، تھائی لینڈ اور ویت نام کا تعلق جنوبی ایشیا سے ہے۔

موسمیاتی ماہرین کے مطابق غربت، بےروزگاری، بڑھتی آبادی اور موسموں کے تابع زراعت پر انحصار کے باعث دنیا کے دیگر خطوں کے مقابلے میں جنوب مشرقی ایشیا اور خاص طور پر جنوبی ایشیا کو زیادہ خطرہ لاحق ہے۔

ماہر موسمیات محمد حنیف کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ اس سال شدید موسم کی وجوہات اندرونی تھیں، جس کا ثبوت رواں موسم گرما کے شروع میں ہی کئی کئی دن تک درجہ حرارت کا بہت زیادہ رہنا تھا۔

'اس سال گرمیوں کے شروع میں ہی ریکارڈ بریکنگ درجہ حرارت ریکارڈ کیے گئے اور ایسا کئی کئی دنوں تک ہوتا رہا۔'

یو این ڈی پی كے ڈاکٹر قمر الزمان کہتے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان کا موسم بہت زیادہ بے اعتبار ہو کر رہ گیا ہے، اور اس موسم گرما میں اس کا عملی نمونہ دیکھنے میں آیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ بارشیں ان 6-7 سسٹمز کا نتیجہ ہیں جو بنگال کے اوپر پیدا ہوئے اور انڈیا کو عبور کرتے ہوئے پاکستان پہنچے، جہاں انہوں نے بحیرہ عرب سے نمی حاصل کی اور برس پڑے۔

ماہر ماحولیات علی توقیر شیخ کا کہنا تھا ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ موسموں کی بےیقینی بڑھ گئی ہے اور پہلے سے کسی چیز کی پیشن گوئی نہیں کی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مون سون سیزن ہمیشہ سے بغیر کسی ترتیب سے رہا، تاہم اس کے باوجود معلوم تھا کہ برسات کب اور کن علاقوں میں کتنی شدت سے ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سال صرف یہ نہیں کہ بارشیں زیادہ ہوئیں بلکہ دریائے سندھ کے علاوہ (نان انڈس یا نان ریور بیسڈ) سیلاب آئے، جن میں گلگت بلتستان کے گلیشیئرز کا پگھلنا، کراچی میں اربن فلڈنگ، بلوچستان میں بارشوں کے باعث سیلاب، پھر جنوبی پنجاب اور سندھ کے زیریں حصوں میں سیلاب، خیر پور اور سکھر میں بارشوں کے باعث سیلاب اور نوشہرہ مین کلاوڈ برسٹ شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ چھ واقعات یکے بعد دیگرے ایک ہی خطے میں ہوئے اور بہت زیادہ تباہی کا باعث بنے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اس سب کچھ کے باوجود ان بارشوں سے ہونے والے نقصانات کو بچایا جا سکتا تھا۔

ماہرین کے خیال سازشی نظریات پھیلانے یا ان پر یقین رکھنے کی بجائے پاکستانی قوم کو اپنی حکومتوں پر سیلاب اور شدید بارشوں کے نقصانات کم کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات