پنجاب حکومت کے انصاف اکیڈمی پورٹل میں طلبہ کے لیے کیا ہے؟

محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب بدھ کو آن لائن لرننگ پلیٹ فارم انصاف اکیڈمی لانچ کر رہا ہے، جس سے توقع ہے کہ لاکھوں طلبہ کو فائدہ ہوگا۔

اسلام آباد میں 15 ستمبر، 2020 کو ایک کالج میں طلبہ زیرتعلیم ( اے ایف پی)

پنجاب محکمہ سکول ایجوکیشن کی جانب سے میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے طلبہ کے لیے ’انصاف اکیڈمی‘ کے نام سے آن لائن لرننگ پلیٹ فارم کا افتتاح بدھ 14 ستمبر کو کیا جا رہا ہے، جس سے محکمے کو امید ہے کہ انٹر اور میڑک کے لاکھوں بچے مستفید ہوں گے۔

محکمہ سکول ایجوکیشن کی ماہر مواصلات و تعلقات عامہ سارہ رحمان کے مطابق انصاف اکیڈمی ایک بہت بڑا ای لرننگ پلیٹ فارم ہوگا جو ویب پورٹل یا موبائل ایپ کی صورت میں میسر ہو گا اور یہ اساتذہ اور طلبہ دونوں کے لیے ملک بھر میں مفت تعلیمی کورسز پیش کرے گا۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہاں تمام طلبہ کو پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ کے نصاب تک رسائی ہوگی، اور یہ پلیٹ فارم اساتذہ، طلبہ اور والدین کے لیے سائنس کے تمام مضامین کے سو فیصد نصاب تک مفت رسائی دے گا۔

پلیٹ فارم کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

صوبائی وزیر برائے سکول ایجوکیشن مراد راس کے مطابق وہ اس منصوبے پر ایک عرصے سے کام کر رہے تھے اور اس کا مقصد نویں، 10ویں، 11ویں اور 12ویں جماعت کے طلبہ کے لیے سہولت فراہم کرنا تھا کیونکہ ان جماعتوں کے طلبہ بورڈ کے امتحان دیتے ہیں اور ان کی زندگی کا وہ موڑ ہوتا ہے جس پر وہ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ انہیں آگے جا کر کیا کرنا ہے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ آن لائن لرننگ پلیٹ فارم بنانے کی ایک اور وجہ بھی تھی۔ ’اکثر اساتذہ بچوں کو یہ کہتے ہیں کہ شام کو میری اکیڈمی آنا وہاں سمجھاؤں گا اور کلاس میں کچھ نہیں بتاتے۔ ہم سب اس کلچر سے کہیں نہ کہیں گزر چکے ہیں۔ والدین بیچارے صبح کی تعلیم کے پیسے بھی دیں اور شام کی اکیڈمی کے بھی اور پھر بھی انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ بچہ کر کیا رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اب والدین بھی بچوں کی تعلیمی صلاحیت و کارکردگی کو جان سکیں گے کیونکہ بچہ ان کے سامنے پڑھ رہا ہوگا۔

 ان کا کہنا تھا کہ طالب علم اپنے متعلقہ مضمون کا لیکچر بغیر کسی فیس کے فون، ٹیبلٹ، لیپ ٹاپ، ڈیسک ٹاپ یہاں تک کہ ٹی وی پر بھی سن سکتے ہیں۔ ایک مرتبہ سننے کے بعد وہ اس لیکچر کا ٹیسٹ بھی وہیں دے گا۔ اگر وہ ٹیسٹ میں فیل ہو جائے تو وہ وہی لیکچر دوبارہ سن سکتا ہے اور پھر ٹیسٹ دے سکتا ہے۔ یعنی جتنی بار چاہے بچہ مشق کے لیے یہ لیکچر اور اس کا فرضی ٹیسٹ دہرا سکتا ہے۔

مراد راس نے بتایا کہ اس دوران اگر طالب علم کو کوئی چیز سمجھ نہیں آرہی تو وہ وہیں آن لائن ہی ان سوالوں کو لکھ سکتا ہے جن کے جواب اسے اگلے روز وہیں موصول ہو جائیں گے۔ اور وہ جتنی بار چاہے سوال کر سکتا ہے۔ سوال جواب کا یہ سلسلہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں ہو سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جب ای لرننگ پورٹل کامیابی سے چل پڑے گا تو آگے تین چار ماہ میں اس پر لائیو لیکچرز کا آغاز بھی کر دیا جائے گا۔ بچے اپنے گھر بیٹھ کر یہ لیکچر سنیں گے اور اس دوران اگر ان کے ذہن میں سوال آتا ہے تو وہ وہاں اپنا ہاتھ کھڑا کرنے کا ایکشن پریس کر سکتے ہیں تاکہ انہیں جواب دیا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پلیٹ فارم ان بچوں کے لیے بہت بڑی سہولت ہوگا جو گھر کی کمائی کے لیے دن میں سکول نہیں آ سکتے تو وہ بس آن لائن پڑھ کر، بورڈ امتحان کی فیس جمع کروا کر امتحان دے سکیں گے۔

انہوں نے کہا: ’تعلیم کا حصول ہر بچے کے لیے ممکن ہونا چاہیے چاہے وہ سکول جاتا ہو یا نہیں، اس کے والدین کے پاس پیسے ہیں یا نہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ یہ پورٹل پنجاب حکومت نے اپنے فنڈز سے شروع کیا ہے لیکن اس کا فائدہ پورے ملک کے بچوں کو ہوگا۔

وزیر تعلیم نے بتایا کہ فی الحال اس پلیٹ فارم سے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے وہ بچے مستفید ہوں گے جو میٹرک یا انٹرمیڈیٹ کا امتحان دے رہے ہیں اور پنجاب کے 70 فیصد نجی سکولوں کے بچے میٹرک اور انٹر میڈیٹ کا امتحان ہی دیتے ہیں۔ اس لیے یہ پلیٹ فارم ان سب بچوں کے لیے ہے۔

والدین کیا کہتے ہیں؟

لاہور سے تعلق رکھنے والی مسز منصور کا ایک بیٹا پری میڈیکل کے دوسرے سال میں پڑھ رہا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ وہ شہر کے ایک معروف کالج میں زیرتعلیم ہے مگر وہاں پڑھائی اتنی خاص نہیں تو بیٹا روز شام میں ایک نجی اکیڈمی بھی جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا: ’کالج میں زیادہ تر اساتذہ آتے ہی نہیں خاص طور پر کووڈ کے بعد سے صورت حال کافی تبدیل ہو گئی ہے، جبکہ اکیڈمیز میں بچے پڑھتے بھی ہیں اور وہ اتنے ٹیسٹ لیتے ہیں کہ بچہ امتحان میں اعلیٰ نمبر لینے کے قابل ہو جاتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کی اکیڈمیز کا خرچہ زیادہ تو ہوتا ہے لیکن بچے مطمئین ہوتے ہیں کہ وہ امتحان اچھے نمبروں سے پاس کر لیں گے۔

جب ان سے حکومت پنجاب کے انصاف اکیڈمی منصوبے کے بارے میں پوچھا گیا کو انہوں نے کہا کہ یہ سننے میں اچھا لگ رہا ہے لیکن اس کی کامیابی کا اندازہ ایک دو سال میں ہی ہوگا جب یہاں سے پڑھ کر امتحان دینے والے بچوں کے نمبر آئیں گے۔

’اگر تو واقعی یہاں سے پڑھ کر بچے وہی نمبر لیتے ہیں جو وہ اکیڈمیوں سے ٹیوشن پڑھ کر لیتے ہیں تو پھر تو بہت اچھا اقدام ہوگا اور اس سے یقیناً طالب علموں اور والدین کو فائدہ ہوگا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل