کانگو میں تین چیمپینزیوں کا اغوا برائے تاوان

بلیک مارکیٹ میں موجود خریدار چیمپینزی بچوں کے لیے تقریباً 10 ہزار پاؤنڈ ادا کرتے ہیں۔

14 مارچ، 2022 کو بوجم بورا، برونڈی میں میوزیم کے پنجرے سے ایک چمپینزی نظر آ رہا ہے (اے ایف پی)

جمہوریہ کانگو میں خطرے سے دوچار نسل کے تین چیمپینزیوں کو ایک پناہ گاہ سے اغوا کر کے لاکھوں میں تاوان طلب کیا جا رہا ہے۔ مانا جاتا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے۔

لوبمباشی شہر میں واقع پناہ گاہ کو نہ صرف چیمپینزیوں کے ’زندہ ہونے کے ثبوت‘ کے طور پر ویڈیوز موصول ہوئی ہیں۔

ان میں اینٹوں سے بنے کمرے میں ’خوف زدہ‘ چمپینزیوں کو دکھایا گیا ہے، جن میں سے ایک بازو اس کے سر پر بندھے ہوئے ہیں۔

دھمکی دی گئی ہے کہ مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں اگلی مرتبہ بندروں کے سر بھیجے جائیں گے۔

جیک پرائمیٹ ری ہیبلیٹیشن سینٹر کے بانی فرانک شنتیرو کو تقریباً 15 دن قبل کمسن چیمپینزی چھینے جانے کے بعد سے اس طرح کے متعدد پیغامات موصول ہوئے ہیں جن میں ان کی بیوی اور بچوں کو اغوا کرنے کی دھمکیاں شامل ہیں۔

بلیک مارکیٹ میں موجود خریدار چیمپینزی بچوں کے لیے تقریباً 10 ہزار پاؤنڈ ادا کرتے ہیں۔

اس لیے شنتیرو کا ماننا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ اغوا ہونے والے جانوروں کو دوبارہ کبھی نہ دیکھ پائیں۔

وہ تاوان ادا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ انہیں ڈر ہے کہ اس طرح ’دنیا کے تمام بندروں کو زیادہ خطرہ لاحق ہو جائے گا جو اس وقت ہے۔‘

تین چیمپینزی بچے جنگلی حیات کی تجارت کے نتیجے میں ماں باپ سے محروم ہوئے۔

تینوں بچوں کی پناہ گاہ میں تازہ ترین آمد ہے جہاں وہ ملک کے شمال میں واقع دور افتادہ مقام سے واقع مارکیٹ سے بچائے جانے کے بعد مبینہ طور پر چند ہفتے ہی رہ سکے۔

مذکورہ علاقے تک پہنچنے کے لیے دو پروازیں لینی پڑتی ہیں جب کہ اس کے بعد تین دن موٹر سائیکل پر سفر کرنا پڑتا ہے۔

16 سال قبل صوبہ کتنگا میں پناہ گاہ قائم کرنے والے شنتیرو نے اخبار دا ٹائمز کو بتایا: ’ان سب کو دوسرا موقع دیا گیا لیکن اب نئی دہشت ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ تب سے جانوروں کی غیر قانونی تجارت ’جنگ بن چکی ہے۔‘ اور ان کی پناہ میں موجود خطرے سے دوچار لگ بھگ 100 بندر مسلح حفاظت میں ہیں۔

اس بات کا امکان دکھائی نہیں دیتا کہ تازہ ترین جھڑپ میں اغوا ہونے والے بندر خود بھی خاموش تماشائی بنے رہے ہوں۔

شنتیرو کو بھیجی گئی فوٹیج میں ہاتھ پیر مارنے کے آثار دیکھے جا سکتے ہیں۔ پس منظر میں فرنیچر الٹ پلٹ دکھائی دے رہا ہے۔

شنتیرو نے اغوا ہونے والے چیمپینزیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ کتنے سہمے ہوئے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مونگا مضبوط ہے اور ہو سکتا ہے کہ اس نے انہیں کاٹنے کی کوشش کی ہو۔ جوان چپیپینزی کسی شخص کو جان سے مار سکتا ہے۔‘

ایک اندازے کے مطابق چھ دہائی قبل مغربی اور وسطی افریقہ کے جنگلوں میں 10 لاکھ چیمپینزی گھوما کرتے تھے۔

مانا جاتا ہے کہ محض 40 سال کے عرصے میں ان کی تعداد کم ہو کر ایک لاکھ 72 ہزار اور تین لاکھ کے درمیان رہ گئی۔

باقی رہ جانے والے چیمپینزیوں، جو انسان کے قریب تین رشتہ دار ہیں، میں سے تقریباً 40 فیصد ڈیموکریٹک رپبلک آف کانگو (ڈی آر سی) میں رہتے ہیں جہاں جیک کی پناہ گاہ صرف تین ایسے مراکز میں سے ایک ہے۔

شکار، سمگلنگ، بیماری اور قدرتی پناہ گاہ کھو دینے سمیت جانوروں کو لاحق شدید خطرات کے باوجود یہ 40 فیصد بندر کانگو میں پائے جاتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جنگلی حیات سے متعلق جرائم کی چھان بین اور قانونی کارروائی میں معاونت کرنے والی تنظیم ’کنزرو کانگو ‘ کے ڈائریکٹر ایڈمز کسنگا کے مطابق خطرے کی گھنٹی بجاتا نیا جرم اس بات کی پریشان کن علامت ہے کہ قانون پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے سمگلروں کا حوصلہ بڑھ گیا ہے۔

کسنگا کے ویب سائٹ مونگابے کو بتایا: ’ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ پہلی بار ایسا ہوا ہے، نہ صرف افریقہ بلکہ پوری دنیا میں کہ میں اس بارے میں سن رہا ہوں۔‘

انہوں نے ٹیلی فون کر مونگابے کو انٹرویو میں کہا کہ ’ہم نے ایسے لوگوں (کے) بارے میں سنا ہے کہ وہ جنگلی حیات کو ڈھال یا سیاسی و سماجی ایجنڈے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

’پہلی بار میں ان لوگوں کے بارے میں سنا ہے جو نے عملی طور پر جانوروں کو اغوا کیا تا کہ وہ رقم کا تقاضا کر سکیں۔

’یہ جرائم پیشہ افراد جنگلی حیات کے خلاف پورے جرم کو نئی سطح تک لے گئے ہیں۔

’اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے افسر بھی اپنی کوششیں تیز کر دیں۔ یہاں خوف اور دہشت کی فضا پائی جاتی ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات