’دماغ‘ والے روبوٹ جو جسم میں داخل ہو کر سرجری کر سکتے ہیں

یہ مائیکرو روبوٹ صرف 250 مائیکرو میٹر یعنی ایک چیونٹی کے سر سے بھی چھوٹے ہیں اور بغیر کسی بیرونی کنٹرول کے کام کر سکتے ہیں۔

آن بورڈ سرکٹ اور پلاٹینم سے بنی ٹانگوں کی انتہائی کم توانائی لینے والا یہ روبوٹ چھوٹے فوٹو وولٹک سیلز سے بھی چل سکتا ہے(اے ایف پی)

سائنس دان الیکٹرانک ’دماغ‘ سے لیس ایسے ننھے منے مائکروسکوپک روبوٹس بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو خودکار طور پر چلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

امریکہ کی کورنیل یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے شمسی توانائی سے چلنے والے روبوٹس تحقیق کرنے کے منصوبے کے تحت ان چھوٹی مشینز کی نئی جنریشن تیار کی ہے جو مائیکرو سرجری انجام دینے سے لے کر شریانوں کے اندر کی صفائی تک کا کام کر سکتے ہیں۔

یہ مائیکرو روبوٹ صرف 250 مائیکرو میٹر یعنی ایک چیونٹی کے سر سے بھی چھوٹے ہیں اور بغیر کسی بیرونی کنٹرول کے کام کر سکتے ہیں۔

کورنیل یونیورسٹی میں فزکس کے پروفیسر اٹائی کوہن نے اس حوالے سے بتایا: ’اس سے قبل ہمیں روبوٹ سے کسی بھی قسم کا کام لینے کے لیے یقینی طور پر ان کو ’سٹرنگز‘ سے جوڑنا پڑتا تھا لیکن اب جب کہ ہمارے پاس یہ مصنوعی ’دماغ‘ موجود ہیں تو یہ کٹھ پتلی سے ڈور ہٹانے کے مترادف ہے۔

یہ ایسا ہی ہے جب پنوچیو (اینیمیٹڈ فلم میں ایک ڈور کے بغیر کٹھ پتلی کا کردار) میں جان ڈال دی جاتی ہے۔‘

اس مصنوعی ’دماغ‘ میں کمپلیمینٹری میٹل آکسائیڈ سیمک کنڈکٹر (سی ایم او ایس) کلاک سرکٹ شامل ہے جس میں ہزاروں ٹرانزسٹرز فٹ کیے جا سکتے ہیں جو روبوٹ کی چال کو متعین کرنے والے فریکوئنسی پیدا کرنے کے قابل ہیں۔

آن بورڈ سرکٹ اور پلاٹینم سے بنی ٹانگوں کی انتہائی کم توانائی لینے والا یہ روبوٹ چھوٹے فوٹو وولٹک سیلز سے بھی چل سکتا ہے۔

یہ نظام تین مختلف قسم کے مائیکرو روبوٹ پر استعمال کیا گیا جن میں ایک دو ٹانگوں والا ورژن، چار ٹانگوں والا ’ڈاگ بوٹ‘ اور چھ ٹانگوں والا ’آنٹ بوٹ‘ شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پروفیسر کوہن نے دعویٰ کیا کہ لیزر پلس کے ذریعے ان کی رفتار کو کنٹرول کرنے کے لیے کمانڈ بھیجی جا سکتی ہے جب کہ ان میں موجود ’دماغ‘ روبوٹس کو محققین کے ساتھ رابطہ کرنے اور ہدایات پر عمل کرنے کا طریقہ معلوم کرنے کی اجازت دے گا۔

انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’پھر ہم روبوٹس کے ساتھ بات چیت کر رہے ہوں گے۔ روبوٹ ہمیں اپنے ماحول کے بارے میں کچھ بتا سکتا ہے اور پھر ہم اسے یہ کہہ کر اپنا ردعمل ظاہر کر سکتے ہیں کہ ٹھیک ہے، وہاں جاؤ اور یہ جاننے کی کوشش کرو کہ وہاں کیا حالات ہیں۔‘

ان کے بقول: ’اصل مزے کی بات جس کی ہم امید کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ اب جب کہ ہم نے کمپلیمینٹری میٹل آکسائیڈ سیمک کنڈکٹر الیکٹرانکس کو روبوٹک کام کرنے والے اعضا سے جوڑنے کا فارمولا ظاہر کر دیا ہے، اب یہ سب کے لیے دستیاب ہے اور لوگ اب کم طاقت والے مائیکرو چِپس ڈیزائن کر سکتے ہیں جو ہر طرح کے کام کر سکیں گے۔‘

کلیدی محقق ڈاکٹر مائیکل رینالڈز کے مطابق ’یہ دنیا میں وسیع پیمانے پر اہم کام کر سکتے ہیں جیسے جسم میں جا کر اچھے خلیات کی شناخت کرنا اور خراب خلیات کو مارنا۔‘

اس تحقیقی مقالے کا عنوان ’مائیکروسکوپک روبوٹس ود آن بورڈ ڈیجیٹل کنٹرولز‘ ہے جو رواں ہفتے عالمی جریدے ’سائنس روبوٹکس‘ میں شائع ہوا تھا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس