آنسوؤں کی بند تھیلی: خیبر پختونخوا میں ہڈی کاٹے بغیر پہلی لیزر سرجری

خیبر پختونخوا کے سرکاری ہسپتال حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں آنکھوں کے آنسوؤں کی بند نالی کھولنے کے لیے روایتی سرجری سے ہٹ کر پہلی مرتبہ لیزر سرجری کی گئی ہے۔

سرجری کرنے والوں میں شامل ہسپتال میں آنکھوں کے امراض کے شعبے کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ناز اللہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’روایتی طریقے سے ہٹ کر لیزر سے کی جانے والی اس سرجری کو لیز ڈی سی آر یا Dacryocystorhinostomy کہا جاتا ہے جس میں جلد کو چیرا نہیں جاتا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’اس سرجری کے ذریعے آنسوؤں کی بند یا رکاوٹ شدہ تھیلی انٹرا نیزل اپروچ کے ذریعے کھولی دی جاتی ہے جس کی کامیابی کی شرح 90 فیصد تک ہے۔‘ 

ڈاکٹر ناز نے بتایا کہ ’لیزر کی مدد سے یہ سرجری بغیر تکلیف کے کی جاتی ہے اور اس میں آنکھوں سے سرجری کے دوران خون بھی نہیں بہتا جب کہ مریض کو روایتی طریقے کی سرجری سے کم قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’آغا خان ہسپتال کے ماہرین نے ہسپتال میں اس ورک شاپ کا انعقاد کیا تھا اور یہاں پر حیات آباد میڈیکل کمپلیکس سمیت لیڈ ی ریڈنگ ہسپتال سے بھی ڈاکٹر اس سرجری کو دیکھنے آئے تھے تاکہ اس کے بعد وہ ہسپتال میں ایسی سرجریز خود کیا کریں۔‘

ڈاکٹر ناز نے بتایا: ’اگر اخراجات کی بات کی جائے تو اس کے لیے درکار لیزر مشین کی قیمت زیادہ ہے لیکن جب مشین موجود ہو تو اس پر مناسب خرچہ آتا ہے۔ روایتی طریقے سے آپریشن  کرنے کے لیے دو ہزار روپے کا ایک ٹیوب درکار ہوتا لیکن اس میں اس ٹیوب کی بھی ضرورت پیش نہیں آتی۔‘

یہ سرجری کیسے کی جاتی ہے ؟

ڈاکٹر ناز کے مطابق عام ڈی سی آر میں مریض کو بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے کیوں کہ اس میں ہم ہاتھ سے ہڈی کو کاٹ کر اس تھیلی کو مینوئل آلات سے کھولتے ہیں لیکن لیزر ڈ ی سی آر میں ایسا نہیں ہوتا۔

ان کے مطابق اس سرجری میں لیزر کا استعمال کیا جاتا ہے جس میں کسی قسم کا زخم نہیں ہوتا اور نہ چہرے پر کسی قسم کے نشانات آتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر ناز نے بتایا،’ روایتی ڈی سی آر میں مریض چیختا ہے کیونکہ وہ نہایت تکلیف دہ عمل ہوتا ہے کیونکہ اس میں ہڈی کو کاٹنا اور راستہ نکالنا مشکل ہوتا  اور اس پر تقریبا نصف سے ایک گھنٹہ لگتا ہے لیکن لیزر کی مدد سے تکلیف کم اور  سرجری کا دورانیہ کم ہوتا ہے۔‘

امریکی محکمہ صحت نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے ایک تحقیق کے مطابق لیزر ڈی سی آر  کی کامیابی کی شرح 65 سے75فیصد ہے اور اس ٹیکنالوجی کو اس قسم کے مرض کے علاج کے لیے ’گولڈ سٹینڈرڈ‘ سمجھا جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ ٹیکنالوجی پہلی مرتبہ 1990 میں متعارف کرائی گئی تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ اس ٹیکنالوجی میں جدت بھی آئی ہے۔

پاکستان میں یہ ٹیکنالوجی بڑے شہروں کے کچھ ہسپتالوں میں پہلے سے موجود ہے۔

پاکستان جرنل آف میڈیکل سائنسز کی ایک تحقیق کے مطابق اسی نوعیت کی ایک سرجری راولپنڈی کے آرمڈ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں 2019 میں کی گئی تھی جو ایک تجربے کے لیے کی گئی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان