پاکستان فوج کا جوہری اثاثوں کی سکیورٹی پر اعتماد کا اظہار

آئی ایس پی آر کے مطابق کور کمانڈر کانفرنس میں اس بات کو واضح کیا گیا کہ پاکستان نے اپنے جوہری ہتھیاروں کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں اور اس کے سٹریٹجک اثاثے بالکل محفوظ ہیں۔

18 اکتوبر 2022 کی اس تصویر میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ راولپنڈی میں منعقدہ کور کمانڈر کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے (آئی ایس پی آر)

امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی سکیورٹی سے متعلق سوال اٹھانے کے بعد پاکستانی فوج نے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے اپنے جوہری ہتھیاروں کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں اور اس کے سٹریٹجک اثاثے بالکل محفوظ ہیں۔

جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں منگل کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت ہونے والی کور کمانڈر کانفرنس میں ملک کے جوہری ہتھیاروں کی حفاظت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ کانفرنس ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب امریکی صدر جو بائیڈن نے 13 اکتوبر کو اپنے ایک بیان میں پاکستان کو ’دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک‘ اور اس کے جوہری ہتھیاروں کو ’بے قاعدہ‘ کہا تھا۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا: ’ایک ذمہ دار جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاست کے طور پر، پاکستان نے اپنے جوہری سلامتی کے نظام کو مضبوط کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں، جو بین الاقوامی معیار کے مطابق ہیں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’فورم نے پاکستان کے مضبوط نیوکلیئر کمانڈ اینڈ کنٹرول سٹرکچر اور ملک کے سٹریٹجک اثاثوں سے متعلق سیکیورٹی انتظامات پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔‘

امریکی صدر کے اس بیان کے بعد پاکستان میں اس پر کافی لے دے ہوئی تھی اور اسلام آباد میں تعینات امریکی سفیر کو دفتر خارجہ بلوا کر ’ڈیمارش‘ کیا گیا تھا۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی اس معاملے پر اپنا شدید ردعمل دیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کی جانب سے آنے والے شدید ردعمل کے بعد پیر کو امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ’امریکہ کو پاکستان کی اپنے جوہری اثاثوں کی حفاظت کی صلاحیت اور عزم پر اعتماد ہے۔‘

واشنگٹن میں ہونے والی محکمہ خارجہ کی پریس بریفنگ کے دوران ترجمان ویدانت پٹیل سے پاکستان کے جوہری اثاثوں اور امریکی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی کے حوالے سے سوال پوچھا گیا۔

جس پر ترجمان کا کہنا تھا: ’امریکہ نے ایک محفوظ اور خوشحال پاکستان کو ہمیشہ اپنے مفاد میں دیکھا ہے۔۔۔ ہم پاکستان کے ساتھ اپنی دیرینہ معاونت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہماری مضبوط شراکت داری ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ ابھی حال ہی میں یہاں موجود تھے اور ان کی سیکریٹری (انٹنی بلنکن) سے دو طرفہ ملاقات ہوئی تھی۔ قونصلر ڈیریک شولے بھی حال ہی میں کراچی اور اسلام آباد کا دورہ کر چکے ہیں۔ اسی طرح موسم گرما کے اختتام میں یو ایس ایڈ کے ایڈمنسٹریٹر سیم پاور کی بھی ملاقات ہوئی ہے، تو اس تعلق کو ہم ضروری سمجھتے ہیں اور اس پر پوری لگن سے کام جاری رکھیں گے۔‘

ترجمان محکمہ خارجہ ویدانت پٹیل کا کہنا تھا: ’جہاں تک سفیر کا تعلق ہے تو ہم باقاعدگی سے (پاکستانی) وزارت خارجہ کے اہلکاروں سے ملتے رہتے ہیں مگر اس حوالے سے میرے پاس بتانے کے لیے کچھ نہیں۔‘

صحافی کے اس سوال پر کہ ’کیا (ملاقات میں) جوہری معاملے کے حوالے سے کوئی پیغام دیا گیا تھا جیسا کہ صدر کے مطابق امریکہ اسے خطرناک سمجھتا ہے؟‘ ترجمان ویدانت پٹیل نے جواب دیا: ’امریکہ کو پاکستان کی اپنے جوہری اثاثوں کی حفاظت کی صلاحیت اور عزم پر اعتماد ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان