سب اداروں کو مل کر درپیش خطرے سے نمٹنا ہوگا: وزیر دفاع

وفاقی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ وقت تیزی سے گزررہا ہے اور یہ آگ سب کے دامن تک پہنچ سکتی ہے بلکہ اس سے پاکستان کے وفاق کو بھی خطرات درپیش ہوسکتے ہیں۔

پاکستان کے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے خیبرپختونخوا اوربلوچستان میں سلامتی کے معاملات کا فوری اور مستقل حل نکالنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ سوات میں 11، 12 سال کے وقفے کے بعد پھر وہی سلسلہ شروع ہوگیا، جبکہ بلوچستان میں دہائیوں سے عسکریت پسندی چل رہی ہے۔

وفاقی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ وقت تیزی سے گزررہا ہے اور یہ آگ سب کے دامن تک پہنچ سکتی ہے بلکہ اس سے پاکستان کے وفاق کو بھی خطرات درپیش ہوسکتے ہیں۔

خواجہ محمد آصف نے مزید کہا کہ فوج، عدلیہ اور سیاست دان سمیت سب سے غلطیاں ہوئی ہیں اور اب سب اداروں کو مل کر ریاست کو درپیش خطرے سے فوری طور پر نمٹنا چاہیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اپنے خطاب میں انہوں نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بلوچستان پر کمیشن بنانے کا معاملہ اٹھانے کی یقین دہانی بھی کرائی۔

وفاقی وزیر نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آئینی طریقے سے اقتدارکھو دینے کے بعد ایک شخص ملک کونقصان پہنچا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقتدار کی جنگ بعد میں بھی لڑی جاسکتی ہے، توجہ قوم اور ریاست کے مسائل پر ہونا چاہیے۔

وزیر دفاع نے سکیورٹی صورت حال ہر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوات میں اس وقت جو ہورہا ہے وہ آگ سب کے  دامن تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

’ہم ان معاملات سے لا تعلق نہیں رہ سکتے اور ہماری بے رُخی اور عدم توجہ کی وجہ سے کہیں ایسے حالات درپیش نہ ہوں کہ ملک کی وحدانیت کو خطرہ لاحق ہو جائے۔‘

وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے خطاب میں بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی اختر مینگل کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے کچھ معاملات پر تمام جماعتوں کو مل کر مسئلے کا حل ڈھونڈنا چاہیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست