ایلون مسک کے ہاتھوں ٹوئٹر کی موت

ایلون مسک نے ٹوئٹر کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد آغاز ہی لوگوں کو ملازمت سے نکال کر کیا ہے، یہ ٹوئٹر کو الوداع کہنے کا وقت ہے، وہ جو کبھی ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم تھا۔

واشنگٹن: 14 اپریل 2022 کو لی گئی اس تصویر میں ایلون مسک کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ان کی تصویر کے سامنے ہے (اے ایف پی)

میں نے جنوری 2013 میں ایک دوست کے کہنے پر اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ بنایا۔ صرف چند دن پہلے، میرا نیویارک ٹائمز میں پہلا قومی مضمون شائع ہوا تھا اور فیڈ بیک سمندری لہروں کی طرح آ رہا تھا: اجنبیوں کی طرف سے ای میلز، فیس بک پر پیغامات، ان گنت شیئرز۔

مجھے ٹوئٹر کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔ ٹوئٹر اس وقت سال پہلے وجود میں آیا تھا اور سات سال بعد ہر جگہ نظر آنے والا سوشل میڈیا پلیٹ فارم تھا۔ جو آج ہر جگہ موجود سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہے جس کی شروعات سات سال پہلے ہوئی تھی (یہ جنریشن ایکس میں مضبوطی سے سرایت کرنے کا منفی پہلو ہے)۔ میں نے اکاؤنٹ بنایا اور باقی تاریخ کا حصہ ہے۔

اس درمیانی دہائی میں، میں نے اپنی چھوٹی سی ٹوئٹر دنیا بنائی، جو اب نیلے رنگ کے چیک کے ساتھ تصدیق شدہ ہے۔ اپنے بہترین وقت میں ٹوئٹر ایک ایسی جگہ تھی جہاں میرے جیسے لوگ، ایک صحافی، ہم خیالوں کے ساتھ دکھ در بانٹ سکتے تھے۔ یہ ایک خیالات اور کام شیئر کرنے والی جگہ تھی، جہاں مذاق اور طنز کیا جا سکتا تھا، اور ایسی جگہ تھی جہاں سے زندگی میں میرا نقطہ نظر شیئر کرنے والے لوگوں سے تسلی ملتی تھی۔

اپنے بدترین وقت میں ٹوئٹر عوام کا دشمن تھا۔ یہ کوئی حادثہ نہیں تھا کہ سابق صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے ٹوئٹر کا سہارا لیا، نہ کہ انسٹاگرام کا، کیوں کہ اس طرح وہ مداحوں کو ابھارنا چاہتے تھے۔

ٹوئٹر پر اپنے محدود الفاظ (280 حروف - اگرچہ جب پلیٹ فارم لانچ ہوا تو یہ آدھے تھے) سے کچے پکے خیالات اور فوری پیغامات بھیجے جا سکتے ہیں، جذباتی خیالات کے لیے، جو سیاق و سباق کے بغیر درمیان میں لٹکے رہتے ہیں۔ یہ پلیٹ فارم زبانی ڈائنامائٹ کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ ایک ٹوئٹ کریں اور اسے پھتٹتا ہوا دیکھیں۔ بہترین ٹویٹس پر اثر اور پیارا تھا، تال اور تکنیک سے بھرپور۔ بدترین والے نے انسانی فطرت کو چند بنیادی کی بورڈ سوائپس تک محدود کر دیا۔

یہی وہ جگہ تھی جہاں ٹوئٹر سی غلطی ہوئی، یقیناً، اور، برے خیالات کی بنیاد پر کہیں نہ کہیں ایک دہکتی ہوئی سرخ دائیں بازو کی تحریک ابھری۔

 گذشتہ چند برسوں میں، ہم - مجھے یقین نہیں ہے کہ ’ہم‘ واقعی کون ہیں، ہم میں سے ان لوگوں کے علاوہ جو ایک زیادہ فعال معاشرے کے خواہاں ہیں، نے انٹرنیٹ کے اس حصے پر بدترین جذبات کو درست کرنے کی کوشش کی۔

اور بہت سوں کے ساتھ ٹرمپ بھی اس پلیٹ فارم نکال دیا گیا تھا (حال ہی میں: گلوکار جو پہلے کانیے کے نام سے جانے جاتے تھے۔)

لیکن اب، جیسا کہ ایلون مسک نے ٹوئٹر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ اور آغاز ہی  لوگوں کو ملازمت سے فارغ کرنے سے کیا ہے ، یہ اس کو الوداع کہنے کا وقت ہے جو کبھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم تھا۔

ایسا نہیں ہے کہ ٹوئٹر کی دنیا کے قابلِ نفرت حصوں پر کبھی بھی اچھے لوگوں کا غلبہ رہا ہو (میں کسی بھی غیر یہودی شخص کو چیلنج کرتی ہوں کہ وہ ایک دن کانیے ویسٹ کی یہود دشمن ٹویٹس کے جواب میں صرف ایک وائرل ٹویٹ کے ردِعمل پڑھ کر ایک دن گزارے اور اس لگ پتہ جائے گا کہ ٹوئٹر کتنی قابلِ نفرت جگہ ہے اور رہی ہے۔)

پھر بھی، یہ ہم میں سے کچھ کے لیے اطمینان کی بات تھی کہ کچھ کو شرکت سے روک دیا گیا۔

یہ ایک تسلی کی بات تھی کہ ’آزادی اظہار‘ اور ’نفرت انگیز تقریر‘ غیر معمولی طور پر کراس ریفرنس نہیں تھے، جیسا کہ کچھ تباہ کن اور خوفناک بات کرنا ایک کمپنی کے نجی بائی لاز کے تحت مساوی تحفظ کا مستحق ہے۔

ایلون مسک، یقینا، خود ایک دائیں بازو کے بنیاد پرست ہیں، اور انہوں نے اپنے ارادے ظاہر نہیں کیے۔

ٹوئٹر کو خریدنے کے متعلق ایلون مسک نے جمعرات کو اپنی ایک ٹویٹ میں کہا، ’میں نے ایسا انسانیت کی مدد کے لیے کیا۔ تہذیب کے مستقبل کے لیے یہ ضروری ہے کہ ایک ورچوئل مرکز ہو، جہاں تشدد کا سہارا لیے بغیر، صحت مند انداز میں عقائد پر بحث کی جا سکتی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مجھے لگتا ہے کہ ایلون مسک کو زبان اور تشدد کے درمیان باہمی تعلق کی سمجھ نہیں جو کہ ‘لوگ کہتے کیا ہیں اور کرتے کیا ہیں‘ کے درمیان ضروری لنک ہے۔

میرا اندازہ ہے کہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اگر کسی قسم کی زبان اور عقائد پر پابندی لگائی جائے تو اس سے تشدد جنم نہیں لے گا۔

ٹوئٹر کے کچھ اچھے لمحات بھی تھے۔ الیسا میلانو نے 2017 میں ٹویٹر پر #MeToo کی اصطلاح کو مقبول کیا تھا۔ سنہ 2016 میں ہیلری کلنٹن ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنے کا کہہ کر وائرل ہو گئی تھیں۔

کیٹلین جینر نے ٹویٹر پر خود کو دنیا کے سامنے دوبارہ متعارف کرایا۔

براک اوباما نے اپنی اہلیہ اور سابق خاتون اول کی ایک تصویر پوسٹ کی ہے جس میں لکھا کہ ’مزید چار سال۔‘

ہم نے ٹوئٹر پر مزے کیے۔ ہم کریزی ویڈیوز دیکھتے تھے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا پڑتا تھا کہ لباس نیلا اور سیاہ یا سفید اور سنہرہ تھا؟ میں اب بھی واقعی اس ایک  کے بارے میں پریقین نہیں ہوں۔

ٹوئٹر خطرناک بھی تھا۔ ہمیں ایک ایسے صدر کا سامنا کرنا پڑا جس نے لوگوں میں فاصلے پیدا کر دیے۔

 چار سال سے زیادہ عرصے تک، ہم میں سے بہت سے لوگوں نے اس لیے اپنی سانسیں روکے رکھیں کہ اس کے بعد بکواس کا کون سا سلسلہ آتا ہے۔

اس مرثیے کو لکھنے میں، ایسا ٹویٹ تلاش کرنا مشکل ہے جو ایک ہی وقت میں، مکمل طور پر جارحانہ بھی ہو اور اس بات کا اشارہ بھی ہو کہ ٹوئٹر ماضی میں کیا تھا۔

شاید یہ ایک ہے، ٹرمپ نے 2020 کے انتخابات کے بعد ٹویٹ کیا، ’وہ صرف جعلی نیوز میڈیا کی آنکھوں میں جیت گئے ہیں ٹرمپ نے اپنے پیروکاروں کو کیپٹل پر حملہ کرنے پر مجبور کیا۔ یہ اچھی بحث نہیں تھی. تاہم، یہ بہت زیادہ تشدد تھا۔‘

الوداع، پرانے دوست۔ جب آپ اچھے تھے، تو آپ مزے دار تھے۔ جب آپ برے تھے تو، آپ ٹرولز کا انبار تھے۔ جیسے ہی آپ اس اچھی دنیا سے رخصت ہوں گے تو ہمیں توقع ہے کہ آپ کے جانے سے جمہوریت کے خاتمے کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر