ایلون مسک نے ٹوئٹر سنبھال لیا، تین ایگزیکٹوز فارغ

ایلون مسک نے کہا ہے کہ انہوں نے مزید پیسہ کمانے کے لیے ٹوئٹر نہیں خریدا بلکہ ’انسانیت کی مدد کرنے کی کوشش کی ہے، جس سے میں پیار کرتا ہوں۔‘

21  نومبر 2019 کو لی گئی اس تصویر میں ٹیسلا کے شریک بانی اور سی ای او ایلون مسک ہاؤتھورن، کیلیفورنیا میں دیکھے جاسکتے ہیں (اے ایف پی)

ایلون مسک جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر کے نئے مالک بن گئے، جس کے فوراً بعد ہی انہوں نے کمپنی کے چند اعلیٰ افسران کو انہیں گمراہ کرنے کے الزام میں عہدے سے فارغ کردیا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق الیکٹرک کار بنانے والی کمپنی ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک نے کہا ہے کہ وہ ٹوئٹر پر سپام بوٹس کو ’شکست‘ دینا چاہتے ہیں۔

اس کے علاوہ وہ ایسا الگورتھم بنانا چاہتے ہیں جو اس بات کا تعین کرے کہ اس کے صارفین کو کس طرح مواد عوامی طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کا مقصد اس پلیٹ فارم کو نفرت اور تقسیم کی آماجگاہ بننے سے روکنا ہے جبکہ وہ خود سینسر شپ کو محدود پیمانے تک لے جا رہے ہیں۔  

مسک نے اس بارے میں تفصیلات پیش نہیں کیں کہ وہ یہ سب کیسے حاصل کریں گے اور کمپنی کون چلائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ ملازمتوں میں کمی کا ارادہ رکھتے ہیں، جس کے بعد سے ٹوئٹر کے تقریباً 7,500 ملازمین اپنے مستقبل کے بارے میں پریشان ہیں۔

ایلون مسک نے جمعرات کو یہ بھی کہا کہ انہوں نے مزید پیسہ کمانے کے لیے ٹوئٹر نہیں خریدا بلکہ ’انسانیت کی مدد کرنے کی کوشش کی ہے، جس سے میں پیار کرتا ہوں۔‘

اس معاملے سے واقف لوگوں کے مطابق مسک نے ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹو پیراگ اگروال، چیف فنانشل آفیسر نیڈ سیگل اور قانونی امور اور پالیسی کے سربراہ وجئے گڈے کو عہدوں سے فارغ کردیا ہے۔ مسک نے ان پر الزام لگایا تھا کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جعلی اکاؤنٹس (سپیم اکاؤنٹس) کی تعداد پر انہیں اور ٹوئٹر کے سرمایہ کاروں کو گمراہ کر رہے ہیں۔

ذرائع نے مزید کہا کہ اگروال اور سیگل ٹوئٹر کے سان فرانسسکو ہیڈکوارٹر میں تھے، جب معاہدہ ختم ہوا اور انہیں باہر لے جایا گیا۔

ٹوئٹر، ایلون مسک اور عہدے سے نکالے گئے ایگزیکٹوز نے فوری طور پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

ٹوئٹر کی خریداری کے لیے 44 ارب ڈالر کا حصول ایک قابل ذکر کہانی ہے، جس میں اتنے موڑ آئے اور یہ قیاس آرائیاں ہونے لگیں کہ ایلون مسک یہ معاہدہ مکمل کریں گے یا نہیں۔

اس کے بعد دنیا کے امیر ترین شخص ٹوئٹر کے بورڈ میں شامل ہونے پر راضی ہو گئے اور کمپنی کو 54.20 ڈالر فی حصص کے بدلے خریدنے کی پیشکش کی۔

مسک کی پیشکش حقیقی تھی اور اپریل میں دونوں فریق تجویز کردہ قیمت پر ایک معاہدے پر پہنچ گئے۔

اس کے بعد کے ہفتوں میں، مسک کے ذہن میں دوسرے خیالات تھے۔ انہوں نے عوامی طور پر شکایت کی کہ انہیں یقین ہے کہ ٹوئٹر کے سپیم اکاؤنٹس اندازے سے کافی زیادہ ہیں، جو ریگولیٹری فائلنگ میں شائع ہوتے ہیں، اس کے مونیٹائز کیے جانے کے قابل فعال صارفین میں سے پانچ فیصد سے بھی کم ہیں۔

دوسری جانب ٹوئٹر نے ایلون مسک پر ’پچھتاوے‘ کا الزام لگایا اور دلیل دی کہ وہ معاہدے سے باہر نکلنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں انہوں نے زیادہ ادائیگی کی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس تناؤ کے نتیجے میں ایلون مسک نے آٹھ جولائی کو ٹوئٹر کو نوٹس دیا کہ وہ یہ معاہدہ اس بنیاد پر ختم کر رہا ہے کہ ٹوئٹر نے اسے بوٹس کے معاملے پر گمراہ کیا اور اس کے ساتھ تعاون نہیں کیا۔

چار دن بعد، ٹوئٹر نے ڈیلاویئر میں ایلون مسک پر مقدمہ دائر کیا، جس نے انہیں معاہدہ مکمل کرنے پر مجبور کیا۔

چار اکتوبر کو ایلون مسک نے ایک اور یوٹرن لیا اور وعدے کے مطابق معاہدہ مکمل کرنے کی پیشکش کی۔

زیادہ تر قانونی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ ٹوئٹر کے پاس سب سے مضبوط دلائل ہیں اور وہ عدالت میں جیتنے کا امکان رکھتا ہے۔ دوسری جانب ٹوئٹر کے سابق سکیورٹی چیف پیٹر زتکو نے اگست میں یہ الزام لگایا تھا کہ کمپنی اپنی سکیورٹی اور ڈیٹا پرائیویسی میں کمزوریوں کو ظاہر کرنے میں ناکام رہی۔

ڈیلاویئر کے جج نے ان کو ڈیل مکمل کرنے اور ٹرائل سے بچنے کے لیے 28 اکتوبر کی آخری تاریخ دی تھی۔

مسک نے جمعرات کو ایڈورٹائزرز کو لکھے گئے ایک کھلے خط میں کہا: ’ٹوئٹر تمام لوگوں کے لیے ایک مفت جگہ نہیں بن سکتا، جہاں بغیر کسی نتیجے کے کچھ بھی کہا جا سکتا ہے!‘

مسک نے عندیہ دیا کہ وہ ٹوئٹر کو ایک ’سپر ایپ‘ بنانے کے لیے ایک بنیاد کے طور پر دیکھتے ہیں، جو رقم کی منتقلی سے لے کر خریداری اور سواری کا انتخاب کرنے تک ہر چیز پیش کرتا ہے۔

لیکن ٹوئٹر اپنے سب سے زیادہ فعال صارفین کو شامل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے جو کاروبار کے لیے اہم ہیں۔ یہ ’بھاری ٹویٹرز‘ ماہانہ مجموعی صارفین کے 10 فیصد سے بھی کم ہیں لیکن تمام ٹویٹس کا 90 فیصد اور عالمی آمدنی کا نصف پیدا کرتے ہیں۔

ایلون مسک نے مئی میں کہا تھا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ پر عائد پابندی کو واپس لے لیں گے۔

حالانکہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اس پلیٹ فارم پر واپس نہیں آئیں گے۔ اس کے بجائے انہوں نے اپنی سوشل میڈیا ایپ ’ٹرتھ سوشل‘ شروع کردیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی