سنگلز ڈے مقبول ای کامرس تہوار کیسے بنا؟

اس سیل کا آغاز 2009 میں چین سے ہوا تھا۔ چین میں 11 نومبر کو سنگلز ڈے منایا جاتا ہے۔

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں سنگلز ڈے کے حوالے سے ورکر شاپنگ سٹور کے گودام میں انتظار کر رہے ہیں (اے ایف پی)

یہ تحریر آپ مصنف کی آواز میں سن بھی سکتے ہیں

اکتوبر کے اختتام سے چین سمیت دنیا کے کئی ممالک میں الیون الیون کی سیل کا آغاز ہو جاتا ہے۔

اس سیل کو ڈبل الیون بھی کہا جاتا ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی سیل ہے۔ اس سیل میں لاکھوں برانڈ حصہ لیتے ہیں اور اس تہوار کے دوران ہونے والی خریدو فروخت کا حجم ایمزون پرائم ڈے اور بلیک فرائڈے پر ہونے والی مشترکہ خرید و فروخت سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔

اس سیل کا آغاز 2009 میں چین سے ہوا تھا۔ چین میں 11 نومبر کو سنگلز ڈے منایا جاتا ہے۔ یہ ایک غیر سرکاری تہوار ہے جس کی شروعات 90 کی دہائی میں نانجنگ یونیورسٹی سے ہوئی تھی۔

اس وقت اس یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم چار لڑکوں نے اپنے سنگل ریلیشن شپ سٹیٹس کو منانے کے لیے نومبر کی 11 تاریخ کو ایک پارٹی رکھی تھی۔

انہوں نے اس دن کے لیے 11 نومبر کا انتخاب اس کے اعداد 11,11 کی وجہ سے کیا تھا۔ ان کے خیال میں اس تاریخ میں آنے والا ہر ایک (1) کا ہندسہ ان میں سے ایک کو ظاہر کرتا تھا۔

چینیوں کے اعتقاد کے مطابق ایک کا ہندسہ ایسے مرد کی بھی عکاسی کرتا ہے جو اپنے فیملی ٹری میں شادی نہ ہونے کی صورت میں نئی لکیر کا اضافہ نہیں کر پاتا۔

ان لڑکوں کی پارٹی اس قدر مشہور ہوئی کہ وہ یونیورسٹی کی ایک روایت ہی بن گئی تھی۔ آنے والے سالوں میں 11 نومبر نانجنگ یونیورسٹی سمیت بہت سی چینی جامعات میں بطور سنگلز ڈے منایا جانے لگا۔

نوجوان نسل میں اس دن کی بڑھتی ہوئی مقبولیت دیکھتے ہوئے 2009 میں چین کے ای کامرس گروپ علی بابا نے اس دن اپنے ای کامرس پلیٹ فارمز پر ایک سیل لگانے کا فیصلہ کیا۔

اس سیل کا خیال ویلنٹائن ڈے پر لگنے والی سیل سے لیا گیا تھا۔ ویلنٹائن ڈے پر دنیا بھر میں برانڈز اپنی مصنوعات پر سیل لگاتے ہیں اور اس حوالے سے خصوصی مصنوعات بھی متعارف کرواتے ہیں تاکہ اس دن کو منانے والے ان کی اشیاء خرید کر اپنے ساتھیوں کو بطور تحفہ دے سکیں۔

سنگل افراد کی زندگی ان سے شروع ہو کر ان پر ہی ختم ہو جاتی ہے۔ انہیں تحفہ دینے والا کوئی نہیں ہوتا۔ علی بابا گروپ نے سوچا کہ سنگل افراد خود ہی اپنے آپ کو تحفہ کیوں نہ دیں۔ اس سوچ کو آگے رکھتے ہوئے انہوں نے اپنے ای کامرس پلیٹ فارمز پر موجود برانڈز کو اس دن خصوصی سیل لگانے کی دعوت دی۔

اس سال اس سیل میں صرف 28 برانڈز نے حصہ لیا تھا۔ اگلے سال مزید برانڈز اس سیل کا حصہ بنے اور آج دنیا کے سب سے بڑے خریداری کے تہوار میں حصہ لینے والے برانڈز کی تعداد ڈھائی لاکھ سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔

سنگلز ڈے بس ایک دن پر محیط نہیں ہے۔ علی بابا گروپ 24 اکتوبر سے اپنے پلیٹ فارمز پر پری سیلز شروع کر دیتا ہے۔ صارفین اس دن سے اپنی پسند کی مصنوعات اپنے کارٹ میں ڈالنا شروع کر دیتے ہیں۔ نومبر شروع ہوتے ہی برانڈز اپنی سیل شروع کر دیتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اصل گیم 10 نومبر کا دن ختم ہوتے ہی شروع ہوتا ہے۔ جیسے ہی گھڑی 12 بجاتی ہے، لوگ اپنے اپنے فون سے اپنے کارٹ میں رکھی ہوئی اشیا کی ادائیگی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

اس وقت ایک سیکنڈ کی تاخیر بھی ان کی کارٹ میں موجود اشیا کو کسی اور کی کارٹ میں منتقل کر سکتی ہے۔

علی بابا نے سنگلز ڈے کو دنیا کا سب سے بڑا ای کامرس کا تہوار بنانے کے لیے ٹیکنالوجی اور تفریح کا سہارہ لیا تھا۔

2015 میں علی بابا گروپ نے 10 نومبر کی شام ایک گالا منعقد کیا تھا جو ٹی وی اور انٹرنیٹ پر براہِ راست دکھایا گیا تھا۔ اس گالا میں چین کے بڑے بڑے ستاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا تھا۔

اس گالا کے کچھ حصوں میں ناظرین اپنے موبائل کی مدد سے گھر بیٹھے شرکت کر سکتے تھے۔ چینی صارفین کو یہ آئیڈیا کافی اچھا لگا۔ وہ اس شرکت کی خاطر سنگلز ڈے سیل میں حصہ لینے لگے۔ یوں اس سیل کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔

اس تجربے کو دیکھتے ہوئے اگلے سال سے علی بابا گروپ نے چین میں اپنی خریداری کے پلیٹ فارم تائوبائو پر لائیو سٹریم کا آغاز کیا تھا۔ اس سے علی بابا کے ای کامرس پلیٹ فارمز پر ہونے والی خرید و فروخت میں ریکارڈ اضافہ ہوا تھا۔

اس لائیو سٹریم میں مختلف برانڈز بلاگرز اور انفلوئنسرز کی مدد سے صارفین کو اپنی مصنوعات خریدنے کی طرف راغب کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ علی بابا نے اپنا ایک وی آئی پی ممبر شپ پروگرام بھی متعارف کروایا تھا۔ اس پروگرام کا حصہ بننے والے صارفین مخصوص برانڈز سے خریداری کرنے پر سال بھر رعایت حاصل کر سکتے ہیں۔

چین کی کرونا کے خلاف جنگ اب تک جاری ہے۔اس جنگ کا براہِ راست اثر چین کی معیشت پر پڑ رہا ہے۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا اس سال بھی سنگلز ڈے ایک بڑا خریداری کا تہوار بن سکے گا؟

چین میں ای کامرس اس وقت بھی قدرے اچھے حال میں ہے۔ چین دنیا کی سب سے بڑی ریٹیل مارکیٹ ہے۔ علی بابا گروپ اس مارکیٹ کا سب سے بڑا کھلاڑی ہے۔ اس کے بعد جے ڈی ڈاٹ کام کا نمبر آتا ہے۔

پچھلے سال 11 نومبر پر علی بابا اور جے ڈی پر مشترکہ 139 ارب ڈالرز کی خرید و فروخت ہوئی تھی۔ اتنے بڑے عدد کو دیکھتے ہوئے توقع کی جا سکتی ہے کہ اس سال بھی الیون الیون ایک بڑا خریداری کا تہوار ثابت ہوگا۔

اس دعوے کی تصدیق 11 نومبر کا دن ختم ہونے پر ہوگی۔

تب تک آپ اپنے پسندیدہ برانڈز پر لگی ہوئی الیون الیون کی سیل سے فائدہ اٹھائیں۔ کہیں یہ نہ ہو کہ آپ کی پسندیدہ اشیاء کوئی اور خرید کر لے جائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ