علامہ مشرقی کی پوتی ایشیا کی 100 طاقتور ترین خواتین میں شامل

لاہور میں پیدا ہونے والی نینا رانیہ خان کو بنگلہ دیش میں ساؤتھ ایسٹ ایشیا سمٹ نے آؤٹ سٹینڈنگ بزنس ایکسیلنس ایوارڈ دیا، جبکہ انہیں جنوب مشرقی ایشیا کی سو طاقتور ترین خواتین کی ریس میں شامل ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔

پاکستانی نژاد برطانوی خاتون نینا رانیہ خان کو حال ہی میں بنگلہ دیش نے ان کی کامیابیوں کے اعتراف میں دو اہم اعزازوں سے نوازا ہے۔

لاہور میں پیدا ہونے والی نینا رانیہ خان کو ساؤتھ ایسٹ ایشیا سمٹ نے آؤٹ سٹینڈنگ بزنس ایکسیلنس ایوارڈ دیا گیا، جبکہ انہیں جنوب مشرقی ایشیا کی سو طاقتور ترین خواتین کی ریس میں شامل ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔

نینا خان عالمی شہرت یافتہ ریاضی دان، منطق دان، سیاسی تھیوریسٹ، اسلامی سکالر اور پاکستان خاکسار تحریک کے بانی علامہ عنایت اللہ خان مشرقی کی پوتی ہیں، جو گذشتہ 40 برس سے برطانیہ میں مقیم ہیں۔

لبنان اور ترکی میں تعلیم حاصل کرنے والی نینا خان کا کہنا تھا کہ دنیا کی سو طاقتور ترین خواتین کے مقابلے میں شامل ہونے پر انہیں یقین نہیں آ رہا تھا۔

انہوں نے کہا: ’جب مجھے دس طاقتور ترین خواتین کی شخصیات میں ایوارڈ ملا تو مجھے اپنے پاکستانی ہونے پر بہت زیادہ فخر محسوس ہوا۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ مجھے اپنے وطن، اپنی دھرتی پاکستان کی نمائندگی کرنے کا موقع ملا اور یہ میرے لیے فخر کی بات تھی۔‘ 

نینا خان کی کامیابیوں اور کارناموں کی فہرست بہت طویل ہے، جن میں میزبانی، سرمایہ کاری، بروکریج میں شاندار ریکارڈ کے ساتھ ساتھ، پراپرٹی ڈویلپر، پروڈیوسر، میوزک کمپوزر، گیت نگار، ایونٹ آرگنائزر، کوریوگرافر اور انٹیریئر ڈیزائنر ہونا شامل ہیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نینا خان کو گذشتہ دو دہائیوں کے دوران ہالی وڈ، بالی وڈ اور لالی وڈ سے تعلق رکھنے والی بیشتر سیاسی شخصیات، جن میں نیلسن منڈیلا، کنگ چارلس، برطانوی وزیراعظم لز ٹرس، اداکار شاہ رخ خان، پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان اور اردن کی شہزادی کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔

وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے زندگی میں کچھ کرنے کی خاطر رنگ، پہچان، اور مذہب کو کبھی کمزوری نہیں بننے دیا بلکہ ان تمام چیزوں کو اپنی طاقت بنایا۔

’یہاں برطانیہ میں مردوں کے شانہ نشانہ بزنس کرنے اور انہیں کاروبار میں چیلنج کرنے والی پاکستانی خواتین کی تعداد بہت کم تھی۔ میں نے اپنے منفرد ہونے کو اپنی طاقت بنایا اور دوسروں کو اپنی محنت اور قابلیت سے بتایا کہ عورت کسی بھی کلچر، رنگ اور مذہب سے ہو وہ مردوں سے کم نہیں ہے۔‘

نینا خان کا کہنا تھا وہ اپنے دادا علامہ عنایت اللہ خان مشرقی کی میراث (Legacy) کو آگے لے کر چلنا چاہتی ہیں اور اسی لیے وہ کئی ایک انسانی سماجی تنظیموں اور فلاحی اداروں کے ساتھ منسلک ہیں۔

وہ دوسری تنظیموں کے علاوہ برطانوی بادشاہ چارلس کی میوزیک چیریٹی کے بورڈ کی رکن بھی ہیں۔

نینا خان آل فزیشن اینڈ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سے ایوارڈ یافتہ بھی ہیں اور اسی تنظیم کے ذریعے انہوں نے گذشتہ دو برس کے دوران پاکستان میں ایک ہزار موتیا کے مریضوں کا مفت علاج کروایا ہے۔

نینا خان اس وقت پاکستان میں جاری چند پراجیکٹس کا حصہ ہیں، جو اگلے چند سالوں میں توسیع کے عزائم کے ساتھ شروع کیے گئے ہیں۔

وہ موسیقی کے شعبے میں پاکستانی ٹیلنٹ کو فروغ دینے والی ایک ریکارڈنگ کمپنی کی سی ای او ہیں۔ وہ ایک موبائل فون ایپ پر مبنی کمپنی کی مینیجنگ ڈائریکٹر کے طور بھی فرائض سرانجام دے رہی ہیں اور یہ منصوبہ وہ پاکستان میں بھی شروع کر چکی ہیں۔

نینا خان اپنے شوہر کے ہمراہ پاکستان منتقل ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں، جس کا مقصد وہ اپنی زندگی کا باقی حصہ پاکستانیوں کی خدمت کرنے کی خواہش قرار دیتی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین