فٹ بال ورلڈ کپ میں افغان نوجوانوں کا فیورٹ کون؟

افغانستان کے نوجوان فٹ بالر اس امید کے ساتھ تربیت جاری رکھے ہوئے ہیں کہ وہ مستقبل میں قومی ٹیم کے سٹار کھلاڑی کی حیثیت سے بین الاقوامی میچز کھیلیں۔

ویسے تو افغانستان میں جنوبی ایشیا کے پسندیدہ کھیل کرکٹ کا راج چلتا ہے لیکن یہاں دنیا بالخصوص مغربی ملکوں کا محبوب ترین کھیل فٹ بال بھی کچھ کم مقبول نہیں۔

یہاں نہ صرف فٹ بال کے شائقین موجود ہیں بلکہ کھیلنے والوں کی بھی کمی نہیں بلکہ ہر فٹ بالر کا خواب ہوتا ہے کہ وہ افغانستان کی قومی ٹیم کا حصہ بنے۔ یہ کھلاڑی ورلڈکپ فٹ بال 2022 کے شروع ہونے کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔

کابل کے رہائشی نوجوان فٹ بالر فیصل، جن کی فیورٹ ٹیم پرتگال ہے، پرامید ہیں کہ یہ ٹیم ورلڈکپ جیت لے گی، کیونکہ اس ٹیم میں دنیا کے سٹار فٹ بالرز کھیلتے ہیں، جن میں پہلے نمبر پر کرسٹیانو رونالڈو ہیں۔

فیصل چاہتے ہیں کہ نہ صرف وہ مستقبل میں قومی ٹیم میں کھیلیں بلکہ افغانستان کی فٹ بال ٹیم بھی یورپین لیگ کا حصہ بنے۔

انہوں نے بتایا کہ افغان نوجوان مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے بھی بلند حوصلے کے ساتھ فٹ بال کھیلتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک اور فٹ بالر احمد، جن کی فیورٹ ٹیم سپین ہے، کا کہنا ہے کہ اس ٹیم میں فٹ بال کے بہت اچھے کھلاڑی ہیں اور میدان میں بہتر کھیل پیش کرتے ہیں۔ احمد ورلڈ کپ میچز کو زیادہ تر یوٹیوب اور کبھی کبھار آریانا ٹی وی پر دیکھتے ہیں۔

انہوں نے بتایا: ’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ٹیم کی طرف سے ورلڈ کپ میں کھیلوں اور رونالڈو کی طرح بہترین بنوں۔‘

بقول احمد: ’افغان نوجوانوں کو میرا یہی کہنا ہے کہ وہ ورزش کریں اور اپنا پسندیدہ کھیل چاہے وہ فٹ بال ہو، کرکٹ ہو یا کوئی اور کھیل، کھیلیں کیونکہ یہ ان کی صحت کے لیے بہتر ہے۔‘

کابل میں شہر نو کے گرین سپورٹس کمپلیکس میں بحیثیت ٹرینر کام کرنے والے احمد سلیم کی پسندیدہ فٹ بال ٹیم برازیل ہے۔

وہ پر امید ہیں کہ ’وہ دن آئے گا جب افغانستان کی قومی فٹ بال ٹیم اس مقام تک پہنچ جائے کہ ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرے اور ہم ٹی وی پر افغانستان کے میچز دیکھیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ہم ورلڈ کپ کے میچ زیادہ تر آریانا ٹی وی (افغان چینل) پر دیکھتے ہیں کیونکہ ورلڈ کپ نشر کرنے کا معاہدہ اسی چینل کے پاس ہے۔‘

احمد سلیم نے مزید بتایا کہ افغانستان میں بہترین فٹ بال لیگ ’لیگ برتر‘ کے نام سے ہر سال کھیلی جاتی ہے اور اس میں آٹھ ٹیمیں شرکت کرتی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی فٹ بال