کراچی: تین بچوں اور خاتون کا قتل، ملزم گرفتار

ملزم کو واقعے کے بعد اقدام خودکشی میں زخمی ہونے پر جناح ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم پرائیویٹ فوڈ کمپنی میں ملازم ہیں۔

گھریلوذرائع کے مطابق فواد نے قتل سے پہلے اپنے بھائی فراز کو فون کیا تھا جو بیرون ملک مقیم ہیں (انڈپینڈنٹ اردو)

کراچی کے علاقے ملیر شمسی سوسائٹی میں ایک شخص نے مبینہ طور پر اپنی تین بچیوں اور اہلیہ کو قتل کر کے خود کشی کرنے کی کوشش کی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق واقعے کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

ایس ایس پی کورنگی ساجد سدوزئی نے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش کی تصدیق کی ہے۔

پولیس کے مطابق 35 برس کے فواد نے مبینہ  طور پر اپنی تین بیٹیوں اور اہلیہ کو تیز دھار چھری سے ذبح کیا۔ یہ واقعہ 29 نومبر کی دوپہر میں پیش آیا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق لاشوں کی شناخت کر لی گئی ہے۔

ساجد سدوزئی کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ واقعہ غیرت کے نام پر قتل کا معلوم ہوتا ہے لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مریض ’نفسیاتی مرض‘ کا شکار بھی معلوم ہوتا ہے۔

ملزم فواد کو اقدام خودکشی میں زخمی ہونے کے بعد جناح ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا جن کا طبی معائنہ مکمل کر لیا گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق فواد پرائیویٹ فوڈ کمپنی میں بطور سیلز مین ملازم ہیں۔

پولیس نے جائے وقوع سے آلہ قتل بھی برآمد کر لیا ہے۔

ایس ایس پی کورنگی ساجد سدوزئی کا کہنا ہے کہ ’اب تک اس واقعے میں کسی اورکے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔ مزید شواہد فرانزک ٹیم اکٹھے کر رہی ہے۔‘

ملزم کی بزرگ والدہ پہلی منزل پر رہائش پذیر ہیں انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’سب اچھا تھا بچوں سے محبت کرتا تھا میرا بیٹا لیکن اچانک دوپہر کے وقت چیخوں کی آوازیں آئیں جس نے دل دہلا دیا۔ بزرگ ہوں سیڑھیاں چڑھنے سے قاصر ہوں لیکن جیسے تیسے اوپری منزل پر پہنچی تو بچے مردہ حالت میں تھے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گھریلوذرائع کے مطابق فواد نے قتل سے پہلے اپنے بھائی فراز کو فون کیا تھا جو بیرون ملک مقیم ہیں۔

فراز کو فون کر کے انہوں نے کہا کہ ’میں اپنے بیوی بچوں سمیت خود کشی کر رہا ہوں۔‘ جس کے بعد فواد نے بیڈرومز کے دروازے اندر سے بند کر لیے تھے۔

سندھ حکومت کے ترجمان و مشیر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ پولیس اس واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کرے گی اور وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کا نوٹس لیا ہے۔

گورنرسندھ کامران خان ٹیسوری نے ایڈیشنل آئی جی کراچی پولیس سے واقعے کی مفصل رپورٹ طلب کرلی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان