حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ: ایک ناقابلِ اعتبار دستاویز

پاکستان کی ایسٹرن کمانڈ بھارت کی قید میں تھی اور اس کمیشن نے اس کی واپسی کا انتظار کیے بغیر اس کی عدم موجودگی میں، اس کا موقف سنے بغیر سماعت بھی مکمل فرما لی اور رپورٹ بھی جاری کر دی۔

1971 کی پاک بھارت جنگ کے بعد یکم اکتوبر 1973 کو پاکستانی فوجی ملک واپس آرہے ہیں (اے ایف پی)

ہر سال دسمبر میں ہمارے ہاں حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کو تازیانہ بنا لیا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس رپورٹ کا علم، قانون اور حتیٰ کہ اخلاقیات کی دنیا میں بھی کوئی اعتبار نہیں۔
یہ کمیشن بھی ویسا ہی ایک کمیشن تھا جو پاکستان میں بنائے جاتے رہے ہیں تا کہ بات گھما دی جائے، الجھا دی جائے اور ’مٹی پاؤ‘ فارمولے کے تحت حقائق کو زمین میں گاڑ دیا جائے۔

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے کلک کیجیے

یہ کمیشن اس سارے سانحے کی وجوہات تلاش کرنے کے لیے قائم نہیں کیا گیا تھا۔ اسے بنیادی طور پر صرف یہ تلاش کرنا تھا کہ وہ کیا حالات تھے کہ ایسٹرن کمانڈ نے ہتھیار ڈالے۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ کمیشن صرف سرنڈر سے جڑے حالات و واقعات تک محدود تھا، سانحے کا مکمل جائزہ کیوں نہ لیا گیا؟

اس حادثے کے کم از کم تین فریق تھے۔ جرنیل، بھٹو اور شیخ مجیب۔ اس کمیشن نے ایک فریق پر تو خوب طبع آزمائی کی، دوسرے دو کرداروں کے بارے سکوت کیوں؟ یہ انصاف تھا یا آسان ہدف پر چاند ماری تھی؟

پاکستان کی ایسٹرن کمانڈ بھارت کی قید میں تھی اور اس کمیشن نے اس کی واپسی کا انتظار کیے بغیر اس کی عدم موجودگی میں، اس کا موقف سنے بغیر سماعت بھی مکمل فرما لی اور رپورٹ بھی جاری کر دی۔

کیا یہ انصاف تھا یا کسی کی سیاسی ضرورت تھی اور اس ضرورت کو کندھا فراہم کیا گیا تھا؟

اگرچہ قیدیوں کی واپسی کے بعد ایک رسم سی پوری کی گئی اور ان کے بیانات لے کر ایک ضمنی رپورٹ بھی جاری کی گئی لیکن اس وقت تک عبوری رپورٹ سے متعلقہ مقاصد تو حاصل کیے ہی جا چکے تھے۔

سوال یہ ہے اتنی جلدی کیا تھی۔ رپورٹ مکمل کر کے ہی جاری کیوں نہ کی گئی؟ ادھوری رپورٹ جا ری کر کے کس کو خوش کرنا مقصود تھا؟

کمیشن جنگ اور سرنڈر سے متعلق تھا اور اس کے پانچ ممبران ججز تھے۔ صرف ایک مشیر ایسا تھا جو جرنیل تھا۔ کیا ان معزز ججوں نے وار کورس کیے ہوئے تھے اور وہ یہ صلاحیت رکھتے تھے کہ سرنڈر کے اسباب و جوہات پر فیصلہ کر سکیں اور وہ بھی متعلقہ فریق کو سنے بغیر؟

سانحے کا عمومی جائزہ لیتے ہوئے کمیشن کے معزز جج صاحبان نے ملکی تاریخ میں فوج کی مداخلت پر تو لیکچر نما مشورے دیے لیکن چیف جسٹس حمود الرحمٰن نے یہ نہیں بتایا کہ ان مارشل لاؤں کو جواز کون دیتا رہا اور نظریہ ضرورت کس ادارے کی تخلیق تھی؟

کمیشن نے یحییٰ خان پر بہت تنقید کی لیکن یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ جب یحییٰ کو غیر آئینی طریقے سے اقتدار سونپا گیا تو ملک کے چیف جسٹس یہی حمود الرحمٰن خود تھے جو خاموش رہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حمود الرحمٰن کمیشن نے حسب روایت جمہوریت اور آئین کے درس تو دیے لیکن کمیشن نے یہ بھی نہیں بتایا کہ بعد میں جب یحییٰ خان نے آئین پامال کر کے ایل ایف او جاری کیا تو یہی حمود الرحمٰن چیف جسٹس تھے۔ لیکن استعفیٰ دے سکے نہ یحییٰ کے خلاف فیصلہ سنا سکے۔

حتیٰ کہ یحییٰ خان نے جب آئین کی تشریح کا اختیار بھی عدلیہ سے چھین کر خود کو دے دیا تو چیف جسٹس حمود الرحمٰن اس پر بھی بد مزہ نہ ہوئے۔

کمیشن نے یحییٰ خان کو شرابی اور عورتوں کا رسیا قرار دیا لیکن یہ بھی نہیں بتایا کہ یحییٰ خان میں یہ عیب اس وقت بھی تھے جب چیف جسٹس حمود الرحمٰن یحییٰ کے ایل ایف او کے تحت حلف اٹھا رہے تھے سے یا یہ عیب چیف جسٹس صاحب کو اس وقت معلوم ہوئے جب یحییٰ کمزور ہو چکا تھا اور بھٹو کا سورج چمک رہا تھا۔

کمیشن نے 1947 سے 1971 تک کی تاریخ چھاننے کے بعد یہ تو بتایا کہ فوج کے تربیتی نصاب میں تبدیلی کی جائے لیکن یہ نہیں بتایا کہ عدالتوں کے نظریہ ضرورت کے ہاں اولاد نرینہ کے سلسلے کو روکنے کے لیے کس طبیب حاذق سے رجوع کیا جائے؟

کمیشن نے مغربی پاکستان کی غلطیوں کے تو انبار گنوا دیے لیکن یہ نہ بتایا کہ سکندر مرزا کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا۔ ایوب خان کو کابینہ میں شامل کر کے جرنیلوں کو اقتدار کی راہ دکھانے والے وزیر اعظم محمد علی بوگرہ کا تعلق بھی مشرقی پاکستان سے تھا۔

کمیشن نے مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کے مبینہ مظالم پر تو پورا باب بلکہ والیم لکھ مارا لیکن مکتی باہنی کے ہاتھوں ہونے والے غیر بنگالیوں کے قتل عام پر کوئی والیم نہ لکھا جا سکا۔

کمیشن نے سرنڈر کے اسباب میں ایسٹرن کمانڈ کو تو خوب لتاڑا کہ وہ ویسے ہی بھارت کی قید میں پڑی تھی لیکن کمیشن یہ نہ پوچھ سکا کہ ایسٹرن کمانڈ جب محصور ہو چکی تھی، اسلحہ ادویات اور خوراک تک کی ترسیل ممکن نہ تھی تو اس کی مدد کے لیے مغربی پاکستان سے کیا اور کتنی امداد بھیجی گئی؟

اس پر تو خوب بحث ہوئی کہ ایسٹرن کمانڈ اس بے سروسامانی میں مزید کتنے دن لڑ سکتی تھی لیکن یہ نکتہ کہیں نہ اٹھا کہ مغربی پاکستان سے وہاں امداد اور رسد پہنچانے کے لیے کتنے سو سال درکار تھے؟

صاف نظر آ رہا تھا کہ جسٹس حمود الرحمٰن نے یحییٰ خان کے عروج میں اس کی کوزہ گری کی اور اب بھٹو کے عروج میں بھٹو کی خوشنودی کے لیے یک طرفہ رپورٹ تیار کر رہے تھے۔ فریقین کو سنے بغیر، اپنے گریبان میں جھانکے بغیر، سنی سنائی باتوں پر، ادھورے اور یک طرفہ اقوال زریں مرتب کر کے بھٹو صاحب کے حوالے کر دیے گئے کہ لیجیے صاحب رپورٹ تیار ہے۔

بھٹو صاحب نے پھر یہ کہہ کر وہ رپورٹ خفیہ قرار دے دی کہ اس سے افواج کا مورال متاثر ہو گا۔ سوال یہ ہے کہ اتنا ہی احساس تھا تو یکطرفہ اور ادھورے مینڈیٹ کے ساتھ کمیشن بنایا ہی کیوں تھا؟ ایک مکمل مینڈیٹ کے ساتھ با اختیار کمیشن کیوں نہ بنایا گیا جو ہر فریق کا جائزہ لیتا اور یہ بھی بتاتا کہ بھٹو صاحب نے الیکشن میں شکست کے باوجود شیخ مجیب کا اقتدار کیوں گوارا نہ کیا؟

یہ حادثہ بہت بڑا تھا اور کسی بھی فریق کے نامہ اعمال سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی لیکن کسی کی خوشنودی کے لیے صرف کسی ایک فریق کو چن لینا ایک ایسا رویہ ہے جس کا نہ قانون کی دنیا میں کوئی اعتبار ہے نہ اخلاقیات کی دنیا میں۔

مجھے یقین ہے کہ حمود الرحمٰن کمیشن اگر یحییٰ خان نے بنایا ہوتا تو اسی کمیشن نے سارا ملبہ بھٹو پر ڈال دینا تھا۔ حتی کہ اگر ضیا الحق اسی کمیشن کو ایک بار پھر بٹھا دیتے تو اس کمیشن نے کہنا تھا: ’عزیز ہم وطنو نئی خبر آئی ہے یحییٰ ساڈا بھائی ہے اور قصور سارا بھٹو کا ہے۔‘

یہ بد گمانی نہیں ہے، یہ مشاہدے کا جبر ہے۔ یہاں دیے ہواؤں کا رخ دیکھ کر جلتے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ