ایل سی اجرا میں تاخیر: 'پاکستان میں ایکسرے فلمز کی قلت کا خدشہ'

فیوجی فلمز کے سی ای او نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ایل سیز نہ کھلنے کی وجہ سے ایکسرے فلمز کی درآمد رک گئی ہے، اور ملک میں محض 15 دن کا سٹاک موجود ہے۔

ایکسرے فلمز بیماریوں کی تشخیص کے مرحلے میں کلیدی اہمیت رکھتی ہیں (پکسلز) 

جاپانی کمپنی فیوجی فلم کے مطابق پاکستان میں درآمدات کے لیے درکار اہم دستاویز کے اجرا میں تاخیر کے باعث ایکسرے فلمز نہیں پہنچ پا رہیں، جس سے ملک میں ایسی مصنوعات کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔  

ایکسرے فلمز کرونا وائرس، ٹی بی یا تپ دق، ٹوٹی ہڈی، نمونیہ سمیت مختلف بیماریوں کی تشخیص کے لیے ایکسرے، سی ٹی سکین اور ایم آئی آر کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔

یہ فلمز کسی بیماری کا علاج شروع کرنے سے پہلے تشخیص کے مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔  

پاکستان میں فیوجی فلم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) سید حیدر علی نقوی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا اس وقت پاکستان میں صرف 15 دن کا سٹاک موجود ہے، اور اگر اس دوران ایکسرے فلم کی نئی کھیپ درآمد نہ ہو سکی تو قلت پیدا ہو سکتی ہے۔' 

سید حیدر علی نقوی کے مطابق پاکستان بھر میں بیماریوں کی تشخیص کے لیے روزانہ ایکسرے، سی ٹی سکین، ایم آر آئی کے لیے ایک لاکھ فلمز درکار ہوتی ہیں، جن میں اکثر فلمیں چھاتی اور ہڈی کے ایکسرے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ 

انہوں نے بتایا کہ ایکسرے، سی ٹی سکین یا ایم آئی آر کے لیے استعمال ہونے والی فلمیں صرف جاپان اور امریکہ میں ہی تیار کی جاتی ہیں، تاہم کچھ چین سے بھی آتی ہیں۔'  

اس وقت پوری دنیا میں فیوجی، کوڈک اور اگفا سمیت صرف چار کمپنیز یہ فملیں تیار کرتی ہیں۔  

سید حیدر علی نقوی کے مطابق ایکسرے فلم انتہائی نازک ہوتی ہے، جسے روشنی اور گرمی سے محفوظ رکھنے کے لیے کنٹرولڈ درجہ حرارت والی جگہ رکھنا پڑتا ہے۔

'اس لیے ایکسرے فلم بڑی تعداد میں درآمد نہیں کی جاسکتی، ورنہ خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ عام طور ایک مہینے استعمال کے لیے درکار فلمز ہی منگوائی جاتی ہیں۔' 

ایل سی اور اس کا اجرا

ماہر معیشت اور کرنسی ایکسچینج ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ کے مطابق لیٹر آف کریڈٹ یا ایل سی درآمد، برآمد میں استعمال ہونے والا انتہائی اہم دستاویز ہے جو بینک جاری کرتا ہے۔ فرد یا کمپنی بینک سے ایل سی حاصل کر کے بیرون ملک کمپنی کو بھیجتے ہیں، ایل سی میں بینک درآمد ہونے والے اشیا کی رقم کی ادائیگی کی گارنٹی دیتا ہے۔

بیرون ملک کمپنی رقم کی ادائیگی کی بینک کے جانب سے گارنٹی یا ایل سی کو دیکھنے بعد ہی آرڈر کی گئی اشیا بھیجتی ہے۔   

ظفر پراچہ کے مطابق: 'کوئی بھی فرد یا کمپنی جب پاکستان سے بیرون ملک سے اشیا درآمد کرنا چاہے، تو وہ بینک کو پاکستانی روپے دیں گے، مگر بیرون ملک ادائیگی تو امریکی ڈالرز میں ہونا ہے۔ بینک پاکستان روپے لے کر ڈالر میں ادائیگی کی ایل سی دیتا ہے۔ مگر پاکستان میں ڈالر کے بحران کے باعث بینک ایل سی کے اجرا میں تاخیر کرتے ہیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

'کیونکہ جب بینک کے پاس ڈالر نہیں ہیں، تو کیسے امریکی کرنسی میں ادائیگی کی گارنٹی دیں گے۔اس کے علاوہ حال ہی میں درآمد کنندگان کو سٹیٹ بینک آف پاکستان سے ایل سی کے اجرا کی اجازت حاصل کرنے کا پابند بنایا گیا ہے، اور یہ بھی تاخیر کی ایک وجہ ہے۔   

'اس پر کوئی پالیسی بنائی جاتی کہ انتہائی اہم درآمدات جیسے ادویات یا ایکسرے فلمز وغیرہ کو اجازت دی جائے، جبکہ لگژری آئٹمز جیسے مہنگی گاڑیاں وغیرہ کے لیے تاخیر کی جائے۔ مگر اس پر کوئی پالیسی نہیں بنائی گئی، تو اس طرح کے مسائل تو آنا ہیں۔'  

دوسری جانب ترجمان سٹیٹ بینک آف پاکستان عابد قمر نے کہا کہ مرکزی بینک سے اجازت لینا ضروری ہے۔ 'کسی بھی فرد یا کمپنی کے لیٹر آف کریڈت (ایل سی) کے اجرا میں میں مرکزی بینک کوئی تاخیر نہیں کر رہا۔

'سٹیٹ بینک کی اس متعلق کوئی پالسی نہیں ہے، کہ ڈالر کے بحران میں ایل سی کو روکا جائے۔ اگر کسی کی ایل سی رکی ہے تو اس کی کوئی اور وجہ ہو گی۔ سٹیٹ بینک نے کسی بینک پر اس متعلق کوئی پابندی نہیں لگائی۔

'اس وقت بھی درآمد ہو رہی ہے نا؟ تو اس کا مطلب ہے کہ ایل سی کو نہیں روکا گیا ہے۔'  

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت