کراچی میں جناح ہسپتال کے عقب میں واقع بزرٹہ لائن کالونی کے ایک چھوٹے سے محلے کو مقامی لوگ ’منی مدراس‘ کے نام سے جانتے ہیں، جہاں تامل برادری کے لوگ آباد ہیں۔
انڈیا کی جنوبی ریاست تمل ناڈو کے دارالحکومت چنئی کا سابق نام مدراس ہے۔ کراچی کے اس محلے میں مقیم تمل برادری کے بزرگ جس دور میں نقل مکانی کرکے کراچی آئے تھے، اس وقت چنئی کا نام مدراس تھا اور اس نسبت سے یہ لوگ خود کو مدراسی کہلواتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مدراسی محلے کے ماری ماتا مندر کے پجاری کاری داس نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ کراچی میں تامل بولنے والے مدراسیوں کی اچھی خاصی آبادی مقیم ہے۔ کاری داس کے مطابق صدر، کورنگی میں 15 سے 20 خاندانوں کے علاوہ ڈرگ روڈ اور کینٹ بازار بھی تامل بولنے والے رہتے ہیں۔
انہوں نے بتایا: ’کراچی میں بسنے والے کئی لوگ تمل ناڈو نہیں گئے، مگر اس کے باجود وہ نہ صرف تمل زبان بولنا جانتے ہیں، بلکہ ان کے پسندیدہ کھانے بھی مدراسی ہیں، جن میں تمل لوگوں کی پسندیدہ ڈش اڈلی دوسہ اور وڑے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تہوار پر مختلف سبزیاں کیلے کے پتوں پر پروسنے کا بھی رواج قائم ہے۔‘
بڑے شہروں میں بسنے والے لوگ اپنی مادری زبان کچھ عرصہ بعد بھول جاتے ہیں، مگر حیرت انگیز طور پر کراچی کے تمل لوگوں کی اکثریت آج بھی تامل بولتی ہے۔
کاری داس نے مزید بتایا کہ ’نئی نسل کو زبان سے لگاؤ رکھنے کے لیے ہم منتر، مذہبی گیت اور کتابیں تمل زبان میں ہی پڑھتے ہیں تاکہ نئی پیڑھی تامل زبان سیکھتی رہے۔‘