فتح پوری مسجد جسے ایک ہندو نے خریدا اور دو گاؤں کے عوض چھوڑا

تقریباً 400 سال کا عرصہ گزرنے، زمانہ کے نشیب و فراز اور اداروں کی بے توجہی کی وجہ سے انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں واقع اس مسجد کی دلکشی ماند پڑ گئی ہے، تاہم اس کی سرخی اب بھی قائم ہے۔

انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کے چاندنی چوک میں واقع سرخ پتھروں والی شاہی فتح پوری مسجد کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ یہ شاہ جہان آباد کی دوسری سب سے بڑی اور شاہی جامع مسجد کے بعد درجے میں دوسری شاہی مسجد کہلاتی ہے۔

اس مسجد کی تعمیر مغل حکمران شاہ جہان کی اہلیہ بیگم فتح پوری نے 1650 میں کروائی تھی۔ یہ مسجد لال قلعے کے مینا بازار والے دروازے کے سامنے واقعے ہے، جہاں چاندنی چوک کا مغربی حصہ جہاں ختم ہوتا ہے۔

اس میں دو فلک بوس سرخ مینارے ہیں اور ان کے درمیان ایک گنبد موجود ہے۔ تقریباً 400 سال کا عرصہ گزرنے، زمانہ کے نشیب و فراز اور اداروں کی بے توجہی کی وجہ سے اس مسجد کی دلکشی ماند پڑ گئی ہے، تاہم اس کی سرخی اب بھی قائم ہے۔

اس مسجد کے آس پاس ناجائز قبضوں کی بہار ہے۔ چاروں طرف دکانیں بنی ہوئی ہیں اور محراب کی پشت پر گلوڈیہ حویلی ہے، جو اب مصالحوں کی سب سے بڑی منڈی ہے۔

مسجد کے شاہی امام مفتی مکرم بتاتے ہیں: ’اس مسجد کی تاریخ میں ایک ایسا دور بھی گزرا ہے جب ایک ہندو سیٹھ لالہ چنا مل نے ایک نیلامی میں اس مسجد کو خرید لیا تھا۔ 1857 کی بغاوت کا اثر کم ہونے کے بعد مسلمانوں نے مسجد واپس حاصل کرنے کی کوشش کی۔

’اس وقت کی انگریز حکومت نے لالہ چنا مل کو مسجد واپس کرنے کے عوض دو گاؤں دیے، جس کے بعد یہ مسجد دوبارہ سے مسلمانوں کو ملی۔ لال چنا مل کا خاندان اب بھی چاندنی چوک میں واقع چنا مل حویلی میں رہتا ہے۔‘

برج کشن چاندنی والا کی کتاب ’دہلی کی کھوج‘ (Discovery of Delhi) کے مطابق 1857 کے غدر کے بعد انگریز فوج اسی مسجد میں خیمہ زن تھی۔ مسجد کے صحن میں گھوڑے باندھے جاتے تھے۔ چونکہ غدر میں انگریزوں کا بھاری نقصان ہوا تھا اس لیے بھگتان کے طور پر انگریزوں نے اس مسجد کو 19 ہزار روپے میں نیلام کر دیا، جسے ایک ’نیک دل‘ ہندو لالہ چنا لال نے خرید لیا۔

1873 میں انگریزوں نے مسجد کو مسلمانوں کے حوالے کرنا چاہا اور اس غرض سے ایک لاکھ 20 ہزار روپے ادا کر کے مسجد واپس چاہی، جس پر لالہ نہیں مانے۔ اسی دوران 1876 میں ملکہ برطانیہ نے بھارت کا دورہ کیا اور دہلی میں دربار سجایا، جس میں یہ فیصلہ ہوا کہ مسجد مسلمانوں کو واپس دے دی جائے، اس کے عوض چنا لال کو ہریانہ میں دو گاؤں دیے گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چنا لال سیٹھ کپڑوں کے تاجر تھے۔ ان کی تاریخی حویلی ابھی بھی چاندنی چوک کی سڑک پر کھڑی ہے۔ حویلی کے سامنے دکانوں کا سلسلہ ہے اور وسط میں لوہے کا دروازہ ہے۔ اس حویلی میں اب بھی چنا مل کا خاندان رہتا ہے، مگر عام لوگوں سے زیادہ میل ملاپ نہیں۔

مفتی مکرم بتاتے ہیں کہ ان کے والد کی لالہ چنا مل کے بیٹوں سے اچھی جان پہچان تھی۔ وہ اچھے اخلاق کے لوگ تھے، جو بعد میں ممبئی چلے گئے۔

مسجد کے شاہی امام مفتی ڈاکٹر محمد مکرم مزید بتاتے ہیں کہ لالہ چنا مل ایک نیک دل انسان رہے ہوں گے، تبھی انہوں نے مسجد خریدی اور اسے مسجد ہی رہنے دیا، ورنہ انگریزوں کا منصوبہ کچھ اور تھا۔ اس کے باوجود لالہ نے مسجد کو مسجد ہی رہنے دیا۔

’یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے مسجد پر قبضہ چھوڑنے کا معاوضہ وصول کیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر انہوں نے انگریزوں کو کچھ دیا ہے تو واپسی میں کچھ لیں گے بھی۔‘

شاہی امام کے مطابق اس مسجد نے بڑے نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ 1920 کے آس پاس مسجد کی محراب سے متصل ایک حویلی بنا دی گئی، جو کہ اب گلوڈیہ مارکیٹ کے نام سے مشہور ہے۔ اس کا مقدمہ لاہور کورٹ میں چل رہا تھا اور مسلمان اس مقدمے کو جیتنے والے ہی تھی کہ 1947 میں ہندوستان تقسیم ہوگیا اور یہ معاملہ یوں ہی رہ گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ