ترکی زلزلہ: ’ایک ہی رات میں قبرستان کی گنجائش ختم ہوگئی تھی‘

گذشتہ 23 سال سے سماندھا قبرستان کے نگران موسیٰ کے مطابق زلزلے کے پہلے دن کے بعد قبرستان میں دفنانے کے لیے لائی جانے والے لاشوں کی تعداد اتنی تھی کہ اب قبرستان کی گنجائش مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔

حالیہ زلزلے کی وجہ سے ترکی کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے حتائی کے شہر سماندھا کے مرکزی قبرستان میں مزید میتوں کو دفنانے کی گنجائش نہیں رہی۔

گذشتہ 23 سال سے قبرستان کے نگران موسیٰ کے مطابق زلزلے کے پہلے دن کے بعد قبرستان میں دفنانے کے لیے لائی جانے والے لاشوں کی تعداد اتنی تھی کہ اب قبرستان کی گنجائش مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔

مرکزی قبرستان میں گنجائش نہ ہونے کے باعث سماندھان کی مقامی بلدیہ نے نئے قبرستان کے لیے زمین الاٹ کی ہے اور اب لائی جانے والی لاشوں کو  نئی جگہ دفنایا جا رہا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے موسی نے بتایا: ’یہ بڑا قبرستان ہے اور عام حالات میں یہاں دو سے ڈھائی سال تک مزید میتیں دفنانے کی گنجائش موجود تھی۔

’مگر زلزلے بعد یہ گنجائش ایک رات میں ختم ہو گئی تھی۔‘

سماندھان کے مرکزی قبرستان میں پانچ ہزار قبریں موجود ہیں، مگر کوئی اندازہ نہیں کہ زلزلے کے بعد کتنی لاشوں کو یہاں دفنایا گیا یا کتنی نئی قبریں بنائی گئیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

موسیٰ کا کہنا تھا کہ زلزلے کے باعث مرنے والوں کی تعداد اتنی تھی کہ ان کا ریکارڈ رکھنا ناممکن تھا۔

’حتیٰ کہ ایک سادہ فارم، جو ہر نئی میت کو دفنانے کے لیے داخل کرنا ضروری ہوتا ہے، رش کے باعث وہ بھی بھرا نہیں جا سکا۔‘

موسیٰ نے نئی بنی ہوئی کچھ قبروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک ہی خاندان کے چھ افراد ہیں، جو عمارت گرنے سے جاں سے گئے تھے۔ ’اس سے یہاں کے حالات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔‘

موسی کے مطابق: ’میں نے 23 سالہ نوکری کے دوران کبھی اتنی بڑی تعداد میں میتیں نہیں دیکھیں۔‘

انہوں نے کہا کہ سماندھا قبرستان کے ایک حصے میں انتہائی قدیم قبروں کو کھود کر ان میں نئی لاشیں دفنائی گئیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا