لندن کا ’وائٹ ہاؤس‘: دنیا کا مہنگا ترین مکان برائے فروخت

لندن کے قلب میں واقع ریجنٹ پارک میں تقریباً ڈیڑھ ایکڑ اراضی پر واقع اس 40 بیڈ رومز پر مشتمل محل کی قیمت تقریباً 30 کروڑ ڈالر رکھی گئی ہے۔

40 بیڈ رومز پر مشتمل دنیا کا مہنگا ترین مکان (انسٹاگرام/رننگ دی ناردن ہائٹس)

لندن کے ریجنٹ پارک میں 205 سال پرانے ہولم مینشن کو فروخت کے لیے پیش کر دیا گیا ہے، جس کی قیمت تقریباً 30 کروڑ امریکی ڈالر رکھی گئی ہے۔

40 بیڈ رومز پر مشتمل یہ حویلی لندن کے قلب کے قریب واقع ریجنٹ پارک میں 1.6 ایکڑ اراضی پر واقع ہے اور اگر اسے ڈیمانڈ کے مطابق قیمت پر فروخت کیا جائے تو یہ برطانیہ اور ممکنہ طور پر دنیا میں فروخت ہونے والی اب تک کی سب سے مہنگی جائیداد ہو گی۔

لگژری میگزین روب کی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں کہیں بھی فروخت کے لیے درج یہ سب سے مہنگا مکان ہے۔ اس مینشن کے مارکیٹ میں آنے سے پہلے، یہ ریکارڈ نیویارک کے سینٹرل پارک ٹاور میں تین منزلہ پینٹ ہاؤس کے پاس تھا، جو ستمبر میں 250 ملین ڈالر میں مارکیٹ میں آیا تھا۔

اب تک برطانیہ میں سب سے مہنگی حویلی کا ریکارڈ لندن کے ہائیڈ پارک میں 2.8 رٹ لینڈ گیٹ عمارت کے پاس تھا، جسے 2020 میں 23.2 کروڑ ڈالر میں فروخت کیا گیا تھا۔

ہولم منور جارجیائی سٹیٹ ڈویلپر جیمز برٹن نے 1818 میں تعمیر کیا تھا اور بیڈ فورڈ کالج کے حاصل کرنے تک یہ ان کے خاندان کا مکان تھا۔ ایوننگ سٹینڈرڈ کے مطابق اس عمارت کو 1980 کی دہائی میں دوبارہ نجی رہائش گاہ میں تبدیل کر دیا گیا۔

ایوننگ سٹینڈرڈ سے بات کرتے ہوئے ایک گمنام ذریعے نے مینشن کو ’ریجنٹ پارک میں وائٹ ہاؤس‘ کہا اور عمارت کے اگلے حصے اور بڑے پیمانے کا موازنہ واشنگٹن ڈی سی کی تاریخی عمارت سے کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

40 بیڈروم کے علاوہ اس عمارت میں آٹھ گیراج، ٹینس کورٹ، سونا، لائبریری اور ’بڑا کھانے کا کمرہ‘ شامل ہیں۔

بلومبرگ کے مطابق 2022 کے پہلے چھ مہینوں میں لندن کے مہنگے ترین مکانات کے خریداروں میں سے 48 فیصد غیر برطانوی تھے۔

ہولم برٹن خاندان کی لندن رہائش گاہ کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس خاندان کے سرپرست جارجیائی پراپرٹی ڈویلپر جیمز برٹن تھے جنہوں نے ریجنٹ پارک کے ساتھ ساتھ لندن کے مختلف دیگر حصوں میں کئی مکانات کی تعمیر اور مالی اعانت کی۔

ان کے بیٹے ڈیسیمس برٹن بھی جارجیائی لندن کی ایک اہم شخصیت تھے کیونکہ وہ ریجنٹ پارک کی بہت سی تعمیرات کے ساتھ لندن چڑیا گھر، ویلنگٹن آرک، کارلٹن ٹیرس اور لندن کے اندر اور باہر کئی دیگر عمارتوں کے کچھ حصوں کے معمار تھے۔ انہیں ریجنٹ پارک کے مجموعی ڈیزائن کے ذمہ دار معمار جان نیش نے تربیت دی تھی۔ ڈیسیمس نے 18 سال کی کم عمری میں اپنے خاندانی گھر، دی ہولم کو بھی ڈیزائن کیا۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل