خیبر پختونخوا کی غیر شادی شدہ حاملہ لڑکی سوشل میڈیا نے بچا لی

اس خصوصی سوشل میڈیا پوسٹ میں ایک غیر شادی شدہ خاتون کی طرف سے اسقاط حمل کی درخواست کی گئی تھی۔

پاکستانی معاشرے میں آج بھی سینکڑوں موضوعات ایسے ہیں جن پر بات کرنا معیوب اور باعث شرم سمجھا جاتا ہے۔ لہذا جوں ہی یہ پوسٹ شئیر ہوئی اعتراضات اٹھنے لگے (سوشل میڈیا)-

وہ غیر شادی شدہ اور حاملہ تھی۔ اس کو  ڈپریشن کے دورے پڑ رہے تھے۔ اگر گھر والے اس کو نہ مارتے تو وہ خود اپنے ہی ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے جارہی تھی۔ لیکن زندگی بہت پیاری چیز ہے۔ انسان جینے کے ہزار طریقے سوچتا ہے اگر دنیا والے ساتھ دیں۔

بالآخر ہمت کرکے اس نے خواتین کے لیے ایک  مخصوص  فیس بک  گروپ میں  اسقاط حمل کے لیے مدد مانگی۔

گروپ کی ایڈمن افراح حسن خان بتاتی ہیں کہ چونکہ ان کی اجازت کے بغیر کوئی بھی پوسٹ گروپ میں شریک نہیں کی جا سکتی لہذا یہ فیصلے کی گھڑی تھی کہ آیا ایسی پوسٹ کو شریک کیا جائے یا نظر انداز کر لیا جائے۔ ’میرے ذہن میں بار بار آرہا تھا کہ کوئی مصیبت میں ہے۔ اور اس کو ہماری مدد کی ضرورت ہے۔ اس وقت گناہ اور ثواب سے زیادہ میرے ذہن پر ایک زندگی بچانے کی سوچ سوار تھی لہذا میں نے پوسٹ گروپ میں شئیر کر دی۔ ‘

’دی پاکستانی سسٹرز‘ نامی اس گروپ  کی میں بھی ممبر ہوں۔ عموماً جو خواتین اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتیں ان کی پوسٹس ایڈمن کی جانب سے ’نامعلوم‘ کے طور پر  شائع کر دی جاتی ہیں۔

اس خصوصی پوسٹ کو میں نے بھی پڑھا تھا لیکن کچھ وقت بعد پوسٹ غائب ہو گئی۔ پوسٹ میں  ایک غیر شادی شدہ خاتون کی طرف سے اسقاط حمل کی درخواست کی گئی تھی۔ ساتھ ہی لکھا گیا تھا کہ چونکہ خاتون پہلے ہی  ڈپریشن کی شکار ہیں لہذا غیر ضروری بحث سے اجتناب کیا جائے۔

پاکستانی معاشرے میں آج بھی سینکڑوں موضوعات ایسے ہیں جن پر بات کرنا معیوب اور باعث شرم سمجھا جاتا ہے۔ لہذا جوں ہی یہ پوسٹ شئیر ہوئی اعتراضات اٹھنے لگے-  ہر کسی کو اخلاقیات کا بھولا درس یاد آیا جو وہاں موجود لوگ خاتون کو ازبر کرانے جانے لگے۔ غرض جتنی انگلیاں موجود تھیں اتنے ہی تلخ جملے لکھے گئے۔

’ارے جب یہ اپنے خاندان کی عزت مٹی میں ملانے جا رہی تھی تو اس وقت کیوں نہ سوچا۔ اب نہ صرف وہ  خدا کے دربار میں گناہگار ہے بلکہ  اپنے خاندان اور معاشرے کی بھی مجرم ہے۔‘

 سب سے زیادہ سخت اور مایوس کن رویہ کٹر مذہبی خواتین کا تھا۔ جنھوں نے اخلاقی درس کے ساتھ  خاتون کو دردناک سزا کا پیغام دیا۔

ایڈمن بتاتی ہیں کہ چونکہ درخواست گزار خود بھی اس گروپ کی ممبر ہیں لہذا وہ یہ تمام تبصرے پڑھ رہی تھیں جس کی وجہ سے وہ مزید ذہنی دباؤ کا شکار ہوتی جا رہی تھیں۔

عین ممکن تھا کہ احساس گناہ  اور ندامت  برداشت نہ کرتے ہوئے وہ خودکشی کر لیتیں۔ ’لیکن میری موڈریٹر جو درخواست گزار کی سہیلی کی دوست ہیں، وہ اس کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھیں۔‘

فیس بک  گروپ میں بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی جب کچھ خواتین نے ہمت کرکے حاملہ خاتون کی طرفداری کی۔ ایک خاتون نے لکھا کہ ’ایک غلطی اور گناہ پر کئی غلطیوں اور گناہوں کو جنم دینے سے اچھا ہے کسی کی مدد کی جائے۔‘ جس کے بعد اُن خواتین میں بھی اپنے مثبت تاثرات لکھنے کی ہمت پیدا ہوئی جو پہلے  تنقید کے خوف سے خاموش تماشائی بنی ہوئی تھیں ۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 گروپ میں موجود کچھ گائناکالوجسٹس اور ڈاکٹرز نے ضروری رہنمائی کے ساتھ ساتھ  مؤثر مانع حمل گولیاں بھی تجویز کیں۔ بلکہ چند ایک نے ان خاتون کو اپنے کلینک آنے کی پیشکش بھی کی۔

یہ سب دیکھ کر مخالف آرا رکھنے والی خواتین نے گروپ ایڈمن سے پوسٹ کو ہٹانے کا مطالبہ شروع کر دیا ۔ کیونکہ ان کے مطابق یہ بےحیائی پھیلانے کے مترادف تھا۔

آخر کار، پُرزور مطالبے پر ایڈمن کو وہ پوسٹ ہٹانا پڑی۔ لیکن انھوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ نوجوان خاتون  کا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ 

انہیں نہ صرف رہنمائی مل گئی تھی بلکہ یہ معاملہ جڑ سے ختم کرنے کے لیے انہیں طریقہ کار بھی سمجھا دیا گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق ان 22 سالہ نوجوان خاتون کا تعلق ایک پسماندہ علاقے کے انتہائی معزز خاندان سے ہے ۔ خاتون کا تعلق خیبر پختونخوا سے اور لڑکے کا تعلق افغانستان سے تھا۔ دونوں خاندان ایک دوسرے کے ساتھ  کسی قسم کی رشتہ داری بڑھانے کے حق میں نہیں تھے۔ لیکن اس کے باوجود وہ دونوں ایک دوسرے کی محبت میں  اس قدر آگے  جا چکے تھے کہ کسی بھی چیز کا ڈر اور خوف نہیں رہا تھا۔

جب لڑکی کو علم ہوا کہ وہ دو ہفتے کی حاملہ ہیں تب انہیں خیال آیا کہ لڑکے نے انہیں اس حال پر پہنچا کر کس قدر زیادتی کی ہے۔ شدید نفرت میں انہوں نے لڑکے سے فوراً تمام روابط ختم کر لیے، حالانکہ لڑکے نے ان سے شادی کرنے کی حامی بھی بھر لی تھی۔

 اب انہیں ندامت کے ساتھ ساتھ ہر طرف ذلت اور خوف کے سائے لہراتے ہوئے نظر آرہے تھے۔ ان کے پاس سوائے پچھتاوے کے اب کچھ باقی نہیں رہا تھا۔ وہ کہاں جاتیں، کس کے پاس جاتیں انہیں کچھ نہیں سوجھ رہا تھا۔

شاید لاکھوں  بدقسمت خواتین کی طرح  ساجدہ (فرضی نام) بھی کسی خوفناک انجام سے دوچار ہو جاتیں ۔ لیکن فیس بک پر ایک پیغام بھیجنے سے ان کی جان بچ گئی۔

اگر وہ  خودکشی کر لیتیں، یا گھر والے انہیں مار دیتے تو یہ ایک گناہ کے اوپر دوسرا بڑا گناہ ہوتا۔ کاش  ہمارے معاشرے میں برداشت اور معاف کرنے کا مادہ ہوتا۔ گناہ اور ثواب سے زیادہ کسی کی زندگی بچانے کا احساس حاوی ہوتا تو شاید کبھی بھی کسی باپ، بیٹے، بھائی اور شوہر کو  اپنی   ماں،  بہن ، بیٹی اور بیوی کو قتل کرنے میں فخر محسوس نہ ہوتا۔

کاش ہم جس طرح اپنے آپ کو غلطیوں اور خطاؤں پر معاف کرتے ہیں اسی طرح دوسروں کو بھی معاف کیا کریں۔ کاش دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے ہر کوئی اپنے گریبان میں جھانک لیا کرے اور اپنی زندگی میں ہونے والی ان خطاؤں  پر غور کرے جو  کسی کے علم میں آئے بغیر ہوئیں لیکن خدا نے پردہ رکھ لیا۔

کاش والدین اپنی بچیوں کو باشعوربنانے کے ساتھ ساتھ ان پر ’غیر ضروری‘ پابندیاں نہ لگائیں کیونکہ انسانی فطرت میں ہمیشہ بغاوت اس وقت جنم لیتی ہے جب اسے دلیل کے بجائے زور زبردستی سے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

کاش اس قسم کے حساس معاملات میں کسی کو برا بھلا کہنے  کے بجائے اس کے حالات سمجھنے کی کوشش کی جائے ۔ تاکہ ہماری وجہ سے کسی کی زندگی کا بار مصائب مزید نہ بڑھ سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ