دو دن، تین حملے اور 18 اموات: ٹیکساس کا المیہ

اس ہفتے ٹیکساس کے ایک شاپنگ مال میں فائرنگ سے آٹھ اموات کے بعد اتوار کو ایک ڈرائیور نے بس سٹاپ پر آٹھ لوگوں کو کچل دیا۔ اس کے آٹھ گھنٹے بعد ڈیلاس میں سٹی لائٹ ریل لائن پر فائرنگ سے ایک شخص مارا گیا۔

ڈیلاس کے ایلن شاپنگ مال میں فائرنگ کے واقعے کے بعد ایک لڑکی بھاگتی ہوئی باہر آ رہی ہے جبکہ مال سے دیگر لوگ بھی باہر آ رہے ہیں (روئٹرز)

امریکی ریاست ٹیکساس پیر کو میکسیکو کی سرحد سے لے کر ڈیلاس کے شمال میں واقع مضافاتی علاقوں تک ناقابل تصور خوف سے دوچار رہی۔

صدمے کا شکار خریدار ٹیکساس کے شہر ایلن میں شاپنگ مال سے اپنی گاڑیاں واپس لینے کے لیے جمع ہو رہے تھے، جہاں ہفتے کو ایک حملہ آور نے آٹھ افراد کو قتل اور سات کو زخمی کر دیا تھا۔

ٹیکساس کے شہر براؤنز ویل میں پولیس اہلکار عوام آگاہ کرنے کی تیاری کر رہے تھے کیوں کہ اتوار کی صبح ایک ڈرائیور نے بس سٹاپ پر کھڑے تارکین وطن کے ایک گروپ کو کچل دیا، جس کے نتیجے میں ایک بار پھر آٹھ افراد مارے گئے اور کم از کم 10 زخمی ہوئے۔

ڈیلاس میں پولیس نے ایک مسلح شخص کو حراست میں بھی لیا، جس نے اتوار کی سہ پہر سٹی لائٹ ریل لائن پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک شخص کی موت اور دو زخمی ہو گئے۔

دوسری جانب پیر کو ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ سرحدوں کے متعلق ٹویٹس میں مصروف تھے۔

رپبلکن رہنما نے اپنے فالورز پر زور دیا کہ وہ ریاست کے دارالحکومت آسٹن سے لائیو اپ ڈیٹ کے لیے ان کے ساتھ جڑے رہیں۔ ’ٹائٹل 42 کے اختتام سے قبل سرحدی سکیورٹی سے متعلق تازہ ترین معلومات فراہم کرنے کے لیے بہت جلد تیار ہوں۔‘

ایک ٹوئٹر صارف فوسٹینا میری نے تبصرہ کیا: ’بارڈر سیکیورٹی اپ ڈیٹ؟‘ 'ٹیکساس کے شہریوں کو ٹیکساس کے دوسرے شہریوں کے ہاتھوں مرنے سے بچانے کے لیے آپ کا کیا پلان ہے؟‘

ذیل میں دی انڈپینڈنٹ نے تشدد کے ایک ہولناک اختتام ہفتہ کو دوبارہ پیش کیا ہے، جس میں 18 اموات اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

ایلن آؤٹ لیٹ مال فائرنگ

ہفتے کے آخر میں ہونے والے پہلے بڑے سانحے کی خبریں ہفتے کی سہ پہر اس وقت آنا شروع ہوئیں جب سوشل میڈیا پر خوف ناک پوسٹس اور تصاویر منظر عام پر آئیں، جن میں ڈیلاس کے شمال میں تقریبا آدھے گھنٹے کے فاصلے پر واقع ایلن پریمیئم آؤٹ لیٹس پر ایک حملہ آور کو دکھایا گیا تھا۔

 قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ سہ پہر ساڑھے تین بجے کے قریب ایک اہلکار، جو قریب ہی سے آنے والی ایک فون کال کے ردعمل میں وہاں گیا تھا، نے مال کے باہر فائرنگ کی آواز سنی اور جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کی شناخت کی اور اسے مار دیا، لیکن حملہ آور پہلے ہی آٹھ افراد کو فائرنگ سے قتل اور نو کو زخمی کرچکا تھا۔

مرنے والوں میں ایک 20 سالہ سکیورٹی گارڈ کرسچن لاکور، انجینیئر ایشوریہ تھاٹی کونڈا (جن کی 28 ویں سالگرہ میں صرف چند دن باقی تھے)، دو بہنیں ڈینیلا اور صوفیہ مینڈوزا (جو بالترتیب چوتھی اور دوسری جماعت میں پڑھتی تھیں) اور اپنے تین سالہ بچے جیمز کے ساتھ والدین سنڈی اور کیو چو شامل ہیں۔

اتوار کی صبح تک ایلن شہر کے حکام کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں زیر علاج تین زخمیوں کی حالت تشویش ناک اور تین کی بہتر ہے جبکہ ایک مریض بچوں کے ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

پولیس نے اتوار کو حملہ آور کی شناخت ڈیلاس سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ موریسیو گارسیا کے طور پر کی۔

 قانون نافذ کرنے والے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ گارسیا کی موت کے بعد جائے وقوعہ سے متعدد ہتھیار برآمد ہوئے ہیں جن میں اے آر 15 طرز کی رائفل اور ایک ہینڈ گن بھی شامل ہے۔

 عہدیدار نے بتایا کہ تفتیش کاروں نے ڈیلاس کے ایک موٹل کی تلاشی لی جہاں گارسیا ٹھہرے ہوئے تھے جبکہ ان سے جڑے ایک گھر کی بھی تلاشی لی گئی۔

فیڈرل ایجنٹوں نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا جائزہ لیا جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ حملہ آور نے سفید فام بالادستی اور نیو نازی خیالات میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے استعمال کیے تھے۔

عہدیدار نے بتایا کہ جب گارسیا پولیس کے ہاتھوں مارا گیا تو اس کے سینے پر ایک پیوند لگا ہوا تھا، جس پر ’آر ڈبلیو ڈی ایس‘ لکھا ہوا تھا، جو رائٹ ونگ ڈیتھ سکواڈ کا مخفف اور دائیں بازو کے انتہا پسندوں اور سفید فام بالادستی گروپوں میں مقبول ہے۔

جیسے ہی سانحے کی خبر پھیلی ڈیلاس کے گرجا گھروں میں اتوار کی رات متاثرین کے لیے دعائیہ تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔

 پیر کو بنائے جانے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی ینگ چو خاندان کے لیے ’گو فنڈ می‘ نامی پیج نے تین لاکھ 80 ہزار ڈالر زیادہ جمع کیے، جو 50 ہزار ڈالر کے ہدف کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔

پیج پر لکھا گیا ہے کہ واقعے میں قتل ہونے والے والدین اور تین سالہ بچہ ہفتے کو بڑے بیٹے ولیم کے ساتھ چار دن پہلے ان کی چھٹی سالگرہ منانے کے لیے مال گئے تھے۔

’گو فنڈ می‘ نامی پیج کے مطابق:  ’ایک سہ پہر جو روشنی، محبت اور جشن سے بھرپور ہونی چاہیے تھی، بدقسمتی سے فائرنگ اور قتل عام کے باعث جلد ختم ہو گئی، جس میں آٹھ افراد مارے گئے۔‘

مزید لکھا گیا: ’سنڈی، کیو اور تین سالہ جیمز ان متاثرین میں شامل تھے جنہوں نے اپنی جانیں گنوائیں اور ان کا خاندان گہرے سوگ میں ہے۔ آئی سی یو سے ڈسچارج ہونے کے بعد ان کا چھ سالہ بیٹا ولیم اس ہولناک واقعے کا واحد زندہ فرد ہے۔‘

اے بی سی سے وابستہ ڈبلیو ایف اے اے کی رپورٹ کے مطابق ویلی انڈپینڈنٹ سکول ڈسٹرکٹ کے حکام نے اہل خانہ کو لکھے گئے ایک خط میں کہا کہ ایک خاتون اور اور ان کی بچیاں بھی اس واقعے کا شکار ہوئیں۔

سپرنٹنڈنٹ ڈیوڈ ونسن نے لکھا کہ مینڈوزا بہنیں، جو ٹیکساس کے شہر ساکس میں کوکس ایلیمنٹری سکول میں تعلیم حاصل کر رہی تھیں، اپنی والدہ ایلڈا کے ساتھ شاپنگ کے دوران فائرنگ میں چل بسیں جبکہ ان کی والدہ شدید زخمی ہو گئیں۔

انہوں نے مزید کہا: ’ڈینیلا اور صوفیہ کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔ اپنے بچوں کو گلے لگائیں، اور انہیں بتائیں کہ آپ ان سے محبت کرتے ہیں۔‘

پریمیئم آؤٹ لیٹس کے ایک ملازم کے والد جو ہفتے کو جائے وقوعہ پر پہنچے تھے، نے اس خوفناک منظر کے بارے میں بتایا اور اپنی ریاست میں اسلحے سے متعلق قوانین میں تبدیلی کا مطالبہ کیا۔

ایک تجربہ کار اور سابق پولیس اہلکار، سٹیون سپین ہور نے ایم ایس این بی سی کو بتایا: ’میں بندوق سے محبت کرتا ہوں۔ میرے پاس بندوقیں ہیں۔ لیکن ایم فور، اے آر-15 کو ہٹانا ہوگا ورنہ ایسا ہوتا رہے گا۔ ہمیں کبھی نہ کبھی اسے روکنا پڑے گا۔ دعائیں اور تعزیت ان لوگوں کو واپس نہیں لائیں گی۔ ہمیں اسلحے کے بہتر کنٹرول کے لیے وفاقی اور ریاستی سطح پر اپنی مقننہ میں کچھ اقدامات کی ضرورت ہے اور میں یہ ایک ایسے شخص کے طور پر کہہ رہا ہوں جو بندوقوں سے محبت کرتا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی اسلحے کے قانون کے خلاف مطالبات کی تائید کی اور قومی پرچم سرنگوں کرنے کا حکم دیا۔

انہوں نے اتوار کو ٹویٹ کی: ’کل اے آر-15 طرز کے ہتھیاروں سے لیس ایک حملہ آور نے ایک شاپنگ مال میں بے گناہ لوگوں کو گولی مار کر قتل کر دیا، یہ پہلی بار نہیں تھا۔ اس طرح کے حملے ہمیں چونکا دیتے ہیں، ہمیں زندگیاں بچانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔‘

براؤنز ویل بس سٹاپ حملہ

اتوار کی صبح جب ٹیکساس کے لوگ گرجا گھروں میں شاپنگ مال کے متاثرین کی روحوں کے لیے دعائیں مانگ رہے تھے تو اس جائے وقوعہ سے 570 میل جنوب میں ایک اور المیہ پیش آیا۔

پولیس نے بتایا کہ ایک 34 سالہ مقامی ڈرائیور کی ایس یو وی صبح ساڑھے آٹھ بجے سے کچھ دیر پہلے براؤنز ویل بس سٹاپ پر انتظار کرنے والے لوگوں کے ایک گروپ سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں آٹھ افراد چل بسے اور دیگر 10 زخمی ہو گئے۔

 پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران چیف فیلکس سوسڈا نے کہا کہ جارج الواریز، جن کے خلاف ریپ کے بہت زیادہ مقدمات ہیں، نے سگنل توڑا تھا اور فرار ہونے سے قبل 18 افراد کو ٹکر مار دی۔

یہ بس سٹاپ اوزانام کی ایک غیر منافع بخش عمارت کے قریب تھا جہاں تارکین وطن کو رہنے میں مدد ملتی ہے۔ جمعرات سے نافذ العمل امیگریشن قوانین میں تبدیلیوں کے بعد ان تارکین کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

چیف سوسڈا نے سرحدی شہر میں اتوار کو ہونے والے واقعے کو ’ایک انتہائی افسوسناک منظر‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’مرنے والوں میں کم از کم کچھ وینزویلا کے باشندے تھے۔‘

انہوں نے کہا کہ حملہ آور الواریز پر قتل کے آٹھ اور مہلک ہتھیار سے حملہ کرنے کے دس الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

چیف نے یہ بھی بتایا کہ تفتیش کار ابھی تک ٹاکسیکولوجی ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار اور محرکات کا تعین کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ آیا ان افراد کو جان بوجھ کر مارا گیا تھا۔

وینزویلا کے ایک تارک وطن، جنہوں نے اپنا نام جیسس بتایا، نے مقامی سٹیشن کے وی ای او کو بتایا کہ وہ اتوار کو حادثے کے وقت اس بس سٹاپ کے قریب تھے۔

 ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے آبائی ملک سے سفر کرنے کے بعد تین دن سے اوزانام سینٹر میں تھے اور ان کے اہل خانہ نے انہیں یوٹاہ کے لیے جہاز کا ٹکٹ خرید کر دیا تھا۔

انہوں نے بتایا: ’ہم وہاں انتظار کر رہے تھے کہ ایک ٹرک سگنل توڑ کر آیا، خدا کے فضل سے ہمیں کچھ نہیں ہوا لیکن وہ ہمارے آس پاس کے دیگر لوگوں سے ٹکرایا۔‘

براؤنز ویل پولیس نے پیر کو کہا کہ انہوں نے الواریز کے خلاف اضافی الزامات سے انکار نہیں کیا ہے اور ایف بی آئی بھی تحقیقات میں مدد کر رہی ہے۔

ٹیکساس سول رائٹس پروجیکٹ کی صدر روشیل گارزا نے اتوار کو ٹویٹ کیا: ’میں آج صبح سے یہ خبر سن کر محسوس ہونے والے دل کے درد کو بیان نہیں کر سکتی، نہ صرف تارکین وطن کے حقوق کی وکیل کے طور پر بلکہ براؤنز ویل کے رہائشی کی حیثیت سے بھی۔ میرا دل ان لوگوں کے ساتھ ہے جو اس سانحے سے متاثر ہوئے ہیں۔‘

ڈیلاس ڈارٹ فائرنگ

براؤنز ویل بس سٹاپ پر ہونے والے قتل عام کے آٹھ گھنٹے بعد ڈیلاس میں سٹی لائٹ ریل لائن پر فائرنگ شروع ہو گئی، جس کے نتیجے میں ایک شخص مارا گیا اور  دو زخمی ہوگئے جبکہ ایک مشتبہ شخص فی الحال فرار ہے۔

ترجمان گورڈن شیٹلز نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ڈیلاس ایریا ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم کے اندر ہیچر سٹیشن کے پاس شام ساڑھے چار بجے کے قریب شمال کی طرف جانے والی گرین لائن ٹرین میں دو افراد کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے۔

 پولیس کا کہنا ہے کہ ایک شخص نے فائرنگ کرکے دوسرے کو شدید زخمی کردیا جبکہ ایک راہ گیر بھی اس واقعے میں زخمی ہوا۔

پولیس نے سی این این کو بتایا کہ تیسرے شخص کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اسے چھرے لگے تھے اور اسے موقعے پر ہی طبی امداد دے دی گئی تھی۔

 فائرنگ کی وجہ سے گرین لائن سروس کئی گھنٹوں تک متاثر رہی۔ پولیس کی تحقیقات کے دوران مسافروں کو بس شٹل کے ذریعے مختلف سٹیشنوں تک پہنچایا گیا۔

شٹلز نے پیر کو کہا کہ ڈارٹ پولیس نے ’ملزم کو گرفتار کرکے واقعے میں استعمال ہونے والا اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔‘

انہوں نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’سرکاری طور پر اس شخص پر قتل کا ایک الزام اور مہلک ہتھیار سے حملہ کرنے کے دو الزامات عائد کیے گئے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈیلاس کے علاقے میں ہونے والے یہ واقعات ڈیلاس پولیس ڈپارٹمنٹ کے لیے ایک خاص طور پر مشکل وقت میں پیش آئے۔ یہ ڈارٹ پولیس سے الگ ادارہ ہے، جسے مال میں فائرنگ سے چند روز قبل رینسم ویئر حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

 خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق رینسم ویئر کی وجہ سے عوامی سروسز اور ویب سائٹس متاثر ہونے کے بعد ایف بی آئی نے جمعے کو کہا تھا کہ وہ شہر کے ساتھ رابطہ کر رہی ہے۔

مال میں فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ کمپیوٹر میں خلل کی وجہ سے ایلن کے مشتبہ شخص کے بارے میں فوری معلومات حاصل کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا ہوئی، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کا تعلق ڈیلاس سے ہے۔

 ڈبلیو ایف اے اے کی رپورٹ کے مطابق ڈیلاس کے سی آئی او نے پیر کو پبلک سیفٹی کمیٹی کو رینسم ویئر حملے کی صورت حال سے آگاہ کرنا تھا۔

دریں اثنا، شمالی ٹیکساس اور وفاقی حکام ہفتے کو ہونے والی فائرنگ کی تفصیلات جمع کرتے رہے جب کہ گورنر ایبٹ پیر کو بھی سرحد کے بارے میں ٹویٹ کرتے رہے۔

ایلن سانحے کے بارے میں ہفتے کے آخر میں کی جانے والی ایک ٹویٹ کے علاوہ، جس میں انہوں نے ایک تقریب میں اپنی شرکت کو اجاگر کیا، رپبلکن رہنما نے اپنے سوشل میڈیا پر ہفتے کے آخر میں ہونے والے قتل عام کا ذکر کرنے سے زیادہ تر گریز کیا۔

انہوں نے پیر کو ٹویٹ کیا: ’ہم غیر قانونی گزرگاہوں کو روکنے کے لیے سرحدی ہاٹ سپاٹس پر نئی ٹیکساس ٹیکٹیکل بارڈر فورس تعینات کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’صدر بائیڈن کی غیر موجودگی میں، ٹیکساس اس بحران سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔'

ان کے بعض حلقوں نے ان پر زور دیا کہ وہ دیگر بحرانوں پر زیادہ توجہ دیں۔

کیری مارشل نے ٹوئٹر پر لکھا: ’ہمیں پتہ تھا کہ آپ اس ہفتے کے آخر میں ٹیکساس میں ہونے والے قتل عام سے توجہ ہٹانے کے لیے پروپیگنڈا کریں گے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ