امریکی پہاڑی سلسلے پر رنگین پلاسٹک کی بارش ہوتی ہے، نئی تحقیق

سائنس دان کہتے ہیں کہ بارش کے پانی میں پلاسٹک کی موجودگی کا مطلب ہے کہ ’پانی میں پلاسٹک کا پایا جانا ہر جگہ ہے۔ یہ حالت شہروں تک محدود نہیں ہے۔‘

راکی ماؤنٹین نیشنل پارک (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ایک تازہ تحقیق کے مطابق امریکی ریاست کولوراڈو میں واقع راکی ماؤنٹین نیشنل پارک میں رنگین پلاسٹک کی بارش ہوتی ہے جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پلاسٹک کے ذرات ہمارے سیارے کے دور افتادہ حصوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔

امریکی جیولوجیکل سروے سے تعلق رکھنے والے محققین کے مطابق تین ہزار میٹر بلند راکی ماؤنٹین نیشنل پارک سمیت پوری ریاست کولوراڈو سے بارش کے پانی کے نمونے اکٹھے کئے گئے۔ بارش کے اس پانی میں پلاسٹک کے ٹکڑوں، موتیوں اور ریشوں کی شناخت ہوئی۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق، سائنس دان کہتے ہیں کہ بارش کے پانی میں پلاسٹک کی موجودگی کا مطلب ہے کہ ’پانی میں پلاسٹک کا پایا جانا ہر جگہ ہے۔ یہ حالت شہروں تک محدود نہیں ہے۔‘

جیولوجیکل سروے کے سرکردہ محقق گریگری ویدربی نے برطانوی اخبار ’دا گارڈین‘ کو بتایا: ’میرے خیال میں اس تحقیق کا سب سے اہم نتیجہ جو ہم امریکی عوام کو بتا سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ پلاسٹک اس مقدار سے کہیں زیادہ پھیلا ہوا جو اصل میں آنکھوں کو دکھائی دیتی ہے۔ یہ پلاسٹک بارش کے پانی اور برف باری میں ہے اور اب یہ ہمارے ماحول کا حصہ بن گیا ہے۔‘

اس تحقیق میں شامل سائنس دان نائیٹروجن کی وجہ سے پیدا ہونے والی آلودگی کا مطالعہ کر رہے تھے جس کے لیے انہوں نے کولوراڈو کے مختلف حصوں سے بارش کے پانی کے نمونے اکٹھے کر کے ان کا خوردبین کے ذریعے تجزیہ کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سائنس دانوں کے خیال میں ماحول میں مختلف مقامات پر ڈالا جانے والا کوڑا کرکٹ انتہائی باریک ذرات کی شکل میں پائے جانے والے پلاسٹک کا بڑا ذریعہ ہے۔ مصنوعی ریشوں سے تیار ہونے والے کپڑوں سے نکلنے والے پلاسٹک کے ریشے بھی اس کا اہم ذریعہ ہیں۔

اس سے قبل جریدے نیچر جیوسائنس میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اپریل میں تحقیق کاروں کی ایک اور ٹیم نے فرانس میں پائرینیس نام کے پہاڑوں میں واقع دوردراز کے علاقے میں پلاسٹک کے فضلے کی قابلِ ذکر مقدار دریافت کی تھی۔ انہیں ہر مربع میٹر پر پلاسٹک کے 365 ذرات پڑے ملے۔

سائنس دانوں نے مصنوعی ماحول تیار کیا جس سے انہیں معلوم ہوا کہ پلاسٹک کے ذرات فضا کے ذریعے کم از کم سو کلومیٹرکا فاصلہ طے کرکے ایک سے دوسری جگہ منتقل ہوئے۔

پلاسٹک کے ذرات جنہیں مائیکروپلاسٹک بھی کہتے ہیں سمندری حیات کے لیے خطرہ قرار دیے گئے ہیں۔ یہ دریاؤں، سمندروں اور برف سے ڈھکے قطب شمالی کے علاقوں میں بھی پائے گئے ہیں۔

جون میں ہونے والی ایک اور تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ برطانوی دریا اتنے آلودہ ہو چکے ہیں کہ وہاں سے لیے گئے ہر قسم کے نمونوں میں پلاسٹک کے ذرات پائے گئے۔ ماحول کے تحفظ پر کام کرنے والی تنظیم گرین پیس کی اس تحقیق میں انکشاف ہوا کہ برطانیہ کے 13 دریاؤں کے پانی میں پلاسٹک کے ذرات کی آمیزش پائی گئی ہے۔

گرین پیس کو پلاسٹک کے جو ذرات زیادہ تعداد میں ملے ان میں پولی تھین، پولیسٹرین اور پولی پروپلین کے تھے۔ پلاسٹک کی یہ اقسام خوراک کے پیکٹ بنانے کے سامان، دودھ اور پانی کی بوتلیں اور پلاسٹک بیگز کی تیاری میں استعمال ہوتی ہیں۔

صارفین کی سطح پر ایک ہی بار استعمال ہونے والے پلاسٹک کی مقدار میں اضافے کی وجہ سے دنیا بھر میں پلاسٹک کی وجہ سے پیدا ہونے والی آلودگی بڑھ گئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت سمندروں میں پلاسٹک کے 5.25 کھرب ٹکڑے موجود ہیں۔ ایک تازہ رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2025 تک سمندروں میں پلاسٹک کی مقدار میں تین گنا اضافہ ہو جائے گا۔

خیال ہے کہ جس سال جتنا پلاسٹک تیار کیا جاتا ہے، اُسی سال اس کا 40 فیصد فضلے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات