تقسیم سے پہلے راولپنڈی میں کون کیا تھا؟

طارق اعظم چوہدری ایڈووکیٹ کا ایک نایاب انٹرویو، جسے 80 کی دہائی میں ڈاکٹر کلونت سنگھ سیٹھی نے ریکارڈ کیا۔

راولپنڈی میں پی ڈی بھنڈارا مرحوم کی رہائش گاہ (پبلک ڈومین)

پاکستان اور انڈیا کو قائم ہوئے 75سال بیت چکے ہیں۔ آج سرحد کے دونوں طرف  کے باسی یہ نہیں جانتے کہ تقسیم سے پہلے بڑے بڑے شہروں کی سیاسی و سماجی زندگی کیسی تھی؟

ہندو، مسلمان اور سکھ جب اکٹھے رہتے تھے تو ان کے آپس کے تعلقات کیسے تھے؟ تقسیم نے انہیں کس طرح متاثر کیا اور اس دوران کیا ہوا؟ ان سوالوں کا جواب راولپنڈی شہر کی حد تک ہمیں ایک ایسے انٹرویو میں ملا، جسے 80 کی دہائی میں لندن میں ڈاکٹر کلونت سنگھ سیٹھی نے ریکارڈ کیا۔

ڈاکٹر کلونت سنگھ سیٹھی کے والد ڈاکٹر امر سنگھ سیٹھی راولپنڈی کے باسی تھے۔ یہ انٹرویو  ڈاکٹر امر سنگھ سیٹھی کے مسلمان دوست طارق اعظم چوہدری کا ہے، جو راولپنڈی میں وکیل تھے۔

ان کا تعلق وارث خان فیملی سے ہے جن کے نام پر راولپنڈی کا گنجان آباد محلہ وارث خان ہے۔ وارث خان کے بھائی چوہدری ظفر الحق پاکستان بننے سے پہلے محمڈن لیگ کے ٹکٹ پر راولپنڈی کے ایم پی بھی منتخب ہوئے تھے۔

 طارق اعظم  چوہدری ان کے چھوٹے بھائی چوہدری گل سراج کے نواسے تھے۔ یہ انٹرویو مجھے ان کے بیٹے چوہدری فخرزمان نے بھجوایا۔ اس انٹرویو میں راولپنڈی کی ایک پوری تاریخ اور تہذیب ہے۔

جدید راولپنڈی کے بانی ملکھا سنگھ تھئے پوریہ 

یہ پنڈی جسے آپ لوگ چھوڑ کر گئے اسے ملکھا سنگھ تھئے پوریہ نے 1763میں آباد کیا تھا۔ اس سے پہلے پنڈی پر بھٹیوں اور ان کے بعد گکھڑوں کا راج رہا۔ بھٹیوں کا علاقہ مال روڈ کے ساتھ ساتھ ہے، جسے ٹینچ بھاٹہ کہتے ہیں۔

مال روڈ کا علاقہ وڑائچوں کی ملکیت ہے۔ پنڈی کلب، فلیش مینز ہوٹل، وکٹوریہ گراؤنڈ یہ سب جلال پور جٹاں سے آنے والے وڑائچوں کا علاقہ ہے۔

کچھ گھر ان کے ڈھوک پیراں فقیراں میں تھے، جب  پنڈی کا ایئرپورٹ بنا تو ان کی ڈھوک اجڑ گئی، پھر انہوں نے نیا پیراں فقیراں آباد کیا، جسے نیا محلہ کہتے ہیں۔ یہاں کچھ گھر ناریوں کے بھی ہیں۔

جب ملکھا سنگھ تھئے پوریہ نے شہر آباد کیا تو اس کا نام راولپنڈی برقرار رکھا۔ 1763 میں ملکھا سنگھ نے قلعہ بنایا، جس کے بیچ میں گھر تھے۔ ملکھا سنگھ نے بھیرہ، چکوال، اٹک اور جہلم کے ہنر مندوں کو لاکر یہاں آباد کیا۔

اس کے 36 سال بعد مہاراجہ رنجیت سنگھ کی پنجاب پر حکومت قائم ہوئی۔ ملکھا سنگھ کے آباد کیے ہوئے شہر کے ارد گرد سڑک تھی، جسے آج بھی سرکلر روڈ ہی کہا جاتا ہے اور باقی چاروں طرف چھوٹی چھوٹی ڈھوکیں تھیں۔

جب شہر پھیلنا شروع ہوا تو سب سے پہلے جو آبادی قائم ہوئی، اسے نیا محلہ کہا جاتا تھا، جو امپیریل سینما کے قریب ہے۔

سجھان سنگھ فیملی

یہاں جو بڑی قومیں آباد ہوئیں، ان میں ایک چڈھے ہیں، جو مصریوٹ کے رہنے والے تھے یعنی رائے بہادر کرپال سنگھ، رائے بہادر سجھان سنگھ۔ انگریزوں نے جو پہلا بینچ بنایا، ان میں کرپال سنگھ آنریری مجسٹریٹ تھے۔

کل سات لوگ آنریری مجسٹریٹ بنائے گئے، جن میں تارا سنگھ، ملک خزان سنگھ، حیدر شاہ سنگ جانی والے، پیر صدردین رجوتر والے، سردار جلال دین جو افغان تھے اور ایک ہندو سیوا رام شامل تھے۔

سکھوں کے دور میں آخری تحصیل دار کرپال سنگھ  تھے جو سردار سجھان سنگھ کے چچا تھے۔ یہ پنڈی کے سرداروں کا مشہور خاندان تھا، جن کا گھر قلعے کے باہر شاہ چن چراغ میں تھا۔ اس کے دو پورشن آج بھی موجود ہیں۔ کرپال سنگھ والا پورشن چھوٹی اینٹ کا بنا ہوا ہے، دوسرا پورشن ان کے بھتیجے سجھان سنگھ نے بنایا، جو 1893 میں مکمل ہوا۔

اس میں استعمال ہونے والا تمام لوہا اور جنگلے وغیرہ گلاسکو سے منگوائے گئے تھے۔ یہ گھر سید پوری دروازے کے باہر واقع تھا۔ کرپال سنگھ کی 1888 میں وفات ہوئی۔

سجھان سنگھ فیملی کچھ عرصہ انگریزوں کے زیر عتاب رہی کیونکہ 1857 کی جنگ آزادی میں انہوں نے راجہ نادر خان مندرہ والے کا ساتھ دیا، جس کی وجہ سے ان کی کٹاریاں والی جاگیر ضبط ہو گئی لیکن مصریوٹ والی بچ گئی۔

کرپال سنگھ نے انگریزوں کے ساتھ روابط بہتر کیے، افغان جنگ میں انہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، گھوڑے جانور سپلائی کیے۔ سنگ جانی میں آج بھی سرداروں کی سرائے ہے جو ان کا ٹرانزٹ کیمپ تھا، جہاں سے مال افغانستان جاتا تھا۔

پھر سوہن سنگھ موہن سنگھ وغیرہ تھے۔ پنڈی میں جو عزت اس گھرانے کو ملی، وہ کسی اور کو نہیں ملی۔ سردار سجھان سنگھ اور ان کے چچا کرپال سنگھ نے یہ پیسہ بالخصوص اینگلو افغان جنگ میں کمایا۔

اب سجھان سنگھ نے اپنے چچا کے بالمقابل گھر بنایا تو دونوں گھروں کو ملانے کے لیے گلی پر چھت ڈال دی گئی اور آر پار سے گھر مل  گئے۔ پھر جب 1873 میں ریلوے لائن یہاں بچھائی گئی تو ریلوے کا سارا سلیپر بھی سجھان سنگھ نے سپلائی کیا تھا۔

انہوں نے اس زمانے میں دو لاکھ روپے کی لاگت سے مٹن مارکیٹ بنا کر کنٹونمنٹ کے حوالے کی۔ بنی چوک میں جو میونسپل ڈسپنسری تھی وہ بھی ملکہ وکٹوریہ کی گولڈن جوبلی کے موقعے پر 1899میں بنا کر میونسپل کمیٹی کو دی۔

سجھان سنگھ نے اس زمانے میں میونسپل کمیٹی کو دوائیوں کے لیے 15 ہزار روپے وقف کیے، جس کا چندہ ابھی تک مل رہا ہے۔ پھر انہوں نے باغ سرداراں میں جنج گھر بنایا، جہاں ایک بڑا کلاک ٹاور نصب کیا، جہاں سے گھنٹہ بجنے کی آواز پورے شہر میں سنائی دیتی تھی۔

سجھان سنگھ کی وفات 1901میں ہوئی، جب کشمیر کی پہلی جنگ لگی تو پٹھانوں نے فائر کر کے وہ کلاک ٹاور تباہ کر دیا۔

وہاں عمارتوں کو بھی لوگوں نے آگ لگا دی، جن میں ایک پبلک لائبریری بھی تھی، جو اس وقت کی بڑی لائبریریوں میں سے ایک تھی اور جس کا نام ہردیپ سنگھ لائبریری تھا۔

سجھان سنگھ کے دو بیٹے تھے۔ گردیپ سنگھ اور ہر دیپ سنگھ۔ گردیپ سنگھ نے ایک رقاصہ سے شادی کر لی۔ وہ داڑھی بھی نہیں رکھتے تھے، وہ  رہے بھی ملک سے باہر اور وہیں فوت ہوئے۔

ہردیپ سنگھ کے دو بیٹے تھے سوہن سنگھ اور موہن سنگھ۔ ہر دیپ سنگھ بھی 1904 میں فوت ہو گئے، تب سوہن اور موہن بچے تھے، اس لیے تمام جائیداد کا کورٹ آف وارڈ ہو گیا۔ لالہ رام چند افسر مال کو ان کی جائیداد کا کسٹوڈین مقرر کیا گیا۔ جب کورٹ آف وارڈ ختم ہوا تو یہ دونوں بھائی محلہ چھوڑ گئے۔

انہوں نے گنج تھامس روڈ کے اوپر اپنے ایک اور بڑے بنگلے میں رہائش اختیار کر لی۔ مال روڈ پر ان کا ایک اور بنگلہ تھا، یہ فلیگ سٹاف ہاؤس تھا، جس میں ناردرن کمانڈ کا کمانڈر انچیف رہتا تھا۔

جب 1924 میں بنگلہ خالی ہوا تو موہن سنگھ نے اس کی تعمیر نو کی۔ یہ بہت ہی خوبصورت گھر تھا جو پاکستان بننے کے بعد کافی عرصہ پاکستان کا ایوان صدر رہا۔

سڑک کی دوسری جانب موہن سنگھ کی شہزادہ کوٹھی تھی۔ اس کو شہزادہ اس لیے کہتے تھے کہ وہاں ڈیوک آف کناٹ آ کر رہا، جو ملکہ وکٹوریہ کا داماد تھا۔

پھروالہ کے راجے کی شادی شہزادی منگلا سے

کلر والے بیدی بڑے زمین دار تھے، جو تلونہ شریف سے آ کر یہاں آباد ہوئے۔ ان کی آدھی فیملی کو منٹگمری میں انگریزوں نے مربعے الاٹ کیے۔ تیسرے بڑے زمین دار ساہنی تھے، چوہدری سروپ سنگھ ساہنی، چوہدری گرمکھ سنگھ ساہنی اور چوہدری رام سنگھ ساہنی۔

دھرم سنگھ، حاکم سنگھ، وساوا سنگھ ساہنی وغیرہ تگڑے زمین دار تھے۔ چوتھے الووالیے ملک تھے۔ ملک خزان سنگھ ان کے بانی تھے جو ڈیرہ خالصہ سے  آئے تھے۔ یہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوج میں تھے اور ان کو بعد میں آبکاری کا ٹھیکہ دیا گیا، جس سے انہوں نے بڑا مال بنایا۔

اس خاندان نے پنڈی میں بڑا عروج پایا اور یہاں جائیدادیں خریدیں۔ پھروالہ کے راجہ نے ٹلہ جوگیاں کے قریب ایک شہزادی منگلا سے شادی کی، جس کے ساتھ  الو والیے ذاتی ملازم بن کر آئے تھے۔ ملک مخمین سنگھ وغیرہ یہ سارے الو والیے تھے۔

الووالیوں کی ایک اور شاخ سرائے صالح ہزارہ سے آئی تھی۔ یہ بھگت جواہر مل وغیرہ کی فیملی تھی۔ یہ ہندو تھے اور راولپنڈی میں بھگت کہلاتے تھے۔ بھگت جواہر مل بڑے مشہور وکیل تھے۔لکشمی نارائن، بھگت سائیں داس جو مری میں وکالت کرتے رہے۔ ان کی آپس میں رشتہ داریاں بھی تھیں۔

جواہر لال اور بھگت ہیرانند بھی بڑے لینڈ لارڈ ہوئے ہیں۔ ہمارے گھروں کے قریب ٹپہ بند کی تمام جگہ یاشیخ سعید کی ملکیت تھی۔ پھر آگے باؤ پرتمی چن چڑھے کا بھٹہ آ جاتا تھا، پھر آگے موتی رام کا باغ وغیرہ۔ چڈھوں کی ایک اور فیملی تھی جس کا سجھان سنگھ وغیرہ سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔ چوہدری گرمکھ سنگھ  چڈھا جسے چوہدری مکھا کہتے تھے۔ سٹی صدر روڈ ساری ان کی تھی۔

ہماری زمین کے ساتھ مکھا سنگھ ٹوہا تھا جو آج کل مکھا سنگھ سٹیٹ کہلاتی ہے۔ مکھا سنگھ کی اولاد نہیں تھی۔ انہوں نے سردارنی ہرنام کور کو وارث بنایا، جن کی شادی کیپٹن دھمودر سنگھ سے ہوئی۔ ان کی بھی اولاد نہیں تھی۔ انہوں نے آگے نیامت کور کو وارث بنایا۔ لال سنگھ اور دمودھر سنگھ ادھر نئے محلے میں رہتے تھے۔

اسی طرح ہیرا سنگھ آنند اور تیرا سنگھ بھی زمینداروں کی فیملی ہے لیکن ان کی زمینیں کم تھیں۔ ان کا مقام ان کی اعلیٰ نوکریوں کی وجہ سے تھا بلکہ سردار سوہن سنگھ کی پہلی بیوی سے دوسرا بیٹا چھوندر سنگھ بھی کرنل لال سنگھ کا داماد تھا۔

ان کی یہیں موت ہو گئی تھی۔ بڑے بیٹے شمشیر سنگھ کی مہاراجہ جیند کے گھر شادی ہوئی تھی۔ پنڈی کا پہلا آئی سی ایس (انڈین سول سرونٹ) بھی الو والیہ سکھ تھا، جن کا نام ہردیت سنگھ ملک تھا، جو بعد میں پٹیالہ ریاست کے وزیراعظم بھی بنے اور انڈیا کے فرانس میں سفیر رہے۔

آنند، سہگل، سیٹھی اور ساہنی پنڈی کے ہندوؤں کے نامور خاندان

پنڈی کے ہندوؤں میں آنند، سہگل، سیٹھی اور ساہنی چار قومیں چوٹی کی تھیں۔ لالہ وسطی رام آنند ناولٹی سینیما کے پاس رہتے تھے۔

وہ لالہ دیو راج آنند کے پڑ دادا تھے، جو میونسپل کمیٹی کے صدر بھی رہے، کبھی ان کے مقابلے میں سیتا رام صدر ہو جاتے، کبھی پھر دیوراج ہو جاتے۔ سیتا رام بھیرہ کے ساہنی تھے، پنڈی میں بھیرے والوں نے بڑے کمالات دکھائے اور یہاں آکر بڑا نام کمایا۔

سیتا رام کرپا رام اینڈ برادرز کی اولاد میں سے تھے، جن کے صدر میں سپر سٹور تھے۔ پارسیوں میں مشہور آدمی سیٹھ دھنجی بائی تھے جن کی ٹانگا سروس راولپنڈی سے کشمیر چلتی رہی جو 1919 تک جاری رہی۔

ان کی امپیریل کیرج کمپنی تھی۔ جی پی او کے سامنے سے ٹانگے چلتے تھے جو مری چار گھنٹوں میں پہنچاتے تھے، کشمیر بھی شام تک پہنچا دیتے تھے۔ وہ ہر چوتھے میل پر گھوڑا بدل دیتے تھے، جب ان کا ٹانگہ ختم ہوا تو انہوں نے موٹریں شروع کر دیں۔

موٹروں کے بانی این ڈی رادھا کشن اور ہری رام  سیٹھی تھے۔ لالہ گوند رام سیٹھی ان کے بزرگ تھے۔ کالج روڈ  کے سامنے ان کے گھر تھے۔ راولپنڈی سے موٹروں کی تین کمپنیاں چلتی تھیں۔ بھائی شام سنگھ وغیرہ نے امر موٹرز چلائی۔ یہ سب کاریں تھیں اس زمانے میں بسیں نہیں آئی تھیں۔

این ڈی رادھا کشن وغیرہ کی اوورلینڈ اور ڈاچ کاریں تھیں۔ سیٹھ دنجھی بائی کچھ عرصے بعد فوت ہو گئے اور ان کا بیٹا ہومی کاروبار کو سنبھال نہیں سکا اور کام بند ہو گیا۔

پھر لوگوں نے ذاتی طور پر ایک ایک کار رکھ لی، جن کے ڈرائیور مسلمان بھی تھے۔ لال کڑتی میں ڈاکٹر کپور کی فیملی تھی۔ پھر زلفِ بنگال والے تھے، یہ ایک تیل تھا جو پورے انڈیا میں مشہور تھا۔

صدر میں گپتوں کے گھر تھے۔ پھر یہاں ناریوں کی برادری تھی۔ پنڈی کے موہیال بھی برہمنوں کی ایک بڑی ذات تھی۔ ان کی آگے مزید شاخیں تھیں۔ موہن، بالی، دت، بھیم وال، لیو اور چھبن۔

پنڈی میں موہیالوں کے بڑے بڑے گھر تھے اور ان کی بڑی شخصیات تھیں، مثلاً رائے زادہ یوگ ژان بالی پنڈی کے بڑے با عزت آدمی ہوئے۔ اسی طرح بخشی ابناشی رام، جن کے گھر نہرو آئے، بخشی پرتھمی چند جو ماسٹر تھے، ان کا بیٹا آر ایم بخشی، جو 1926 میں ولایت سے ڈاکٹری کر کے فوج میں ڈاکٹر بن گیا تھا۔

جب تقسیم ہوئی تو تب وہ لیفٹیننٹ کرنل تھے، تقسیم کے بعد بھی پاکستان میں رہے اور 1948میں انہیں کرنل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ مرنے سےقبل وہ انڈیا چلے گئے اور حیدر آباد دکن میں فوت ہوئے۔

اسی طرح نریندر ناتھ موہن تھے جنہوں نے انڈیا جا کر نام کمایا۔ پنڈی کے موہیالوں میں رائے صاحب جمنا داس بھی معزز آدمی تھے۔ موہیالوں کا اپنا گزٹ نکلتا تھا۔ انڈیا کے جنرل زور آور چند  بخشی بھی پنڈی کے موہیال تھے۔

اسی طرح پنڈی میں چھبراں موہیال کی ایک گلی تھی۔ مہیتا شو لال چھبر جو سفیر بنے، وہ بھی میرے دوست تھے کمیٹی چوک کے ساتھ  گلی میں ان کا گھر تھا۔

پنڈی کے مسلمان 

پنڈی کے مسلمان بہت پسماندہ تھے۔ جب ہم  کہتے ہیں تو لوگ ناراض ہو جاتے ہیں۔ لوگ ہمیں کہتے ہیں کہ آپ کے ہندو سکھوں سے تعلقات تھے تو ہم کہتے ہیں کہ اس وقت ہمارے سٹیٹس کے برابر وہی تھے۔

مسلمانوں میں ہمارا واحد خاندان نامی گرامی تھا۔ آج بھی لوگ کہتے ہیں کہ چوہدریوں کی پنڈی۔ چوہدری وارث خان اور ان کے باپ چوہدری مدد خان جو پہلی میونسپل کمیٹی کے رکن بنے۔ صرف ہمارے گھرانے میں میونسپل کمیٹی کے تین چار رکن رہے۔

اس زمانے کا اصول یہ تھا کہ صدر ہندو ہو گا، سینیئر نائب صدر مسلمان اور جونیئر نائب صدر سکھ ہو گا۔ بخشی دلیپ سنگھ بڑا عرصہ جونیئر نائب صدر رہے۔ بھائی شام سنگھ ریڑھے والا بھی نائب صدر رہے۔ ہمارے آپس کے تعلقات بہن بھائیوں والے تھے۔

مسلمان اتنے بھی گئے گزرے نہیں تھے۔ صدر میں بوہرے سیٹھ جو بمبئی وغیرہ کی طرف سے آئے تھے، وہ بہت بڑے کاروباری تھے۔ ان کا سرکردہ آدمی جس نے سیاست اور کاروبار میں نام کمایا، وہ سیٹھ آدم جی تھا۔

اسی طرح وزیر آبادی شیخ  بھی صدر میں مشہور تھے۔ خان بہادر شیخ اسماعیل، جن کا شیخ احمد دین اینڈ برادرز کے نام سے بہت اچھا کاروبار تھا۔ شیخ عبد المجید، شیخ محمد دین اور شیخ نبی  بخش صدر میں مسلمانوں کی  بڑی دکانیں تھیں اور عزت دار سمجھے جاتے تھے۔

شیخ عطا اللہ، شیخ اسماعیل کا بھائی تھا، گجرات کے شیخ عبد الغنی نے سپلائی کا کام کیا۔ وہ ڈھیری حسن آباد میں رہتے تھے اور کافی خیرات کرتے تھے اور اسلامیہ سکول کو فنڈز بھی وہی دیتے تھے۔

لال کڑتی میں بھی مسلمانوں کے کچھ خاندان تھے۔ چھاؤنی کے علاقے میں مسلمان آٹے میں نمک کے برابر ضرور تھے، جن میں خان صاحب شیخ فضل الہیٰ بھی تھے۔

مریڑ والے ملک جو اعوان تھے، کافی جائیداد کے مالک تھے۔ وہ روات کے قریب ایک گاؤں کھائی اعوان کے رہنے والے تھے۔ مریڑ، کمپنی باغ کے سامنے اسلامیہ سکول کا علاقہ، یہاں سے جو سڑک روز سینما  کو جاتی  ہے، یہ تمام علاقہ ان کا تھا۔ 

دوسرے بڑے  مسلمان جاگیردار ڈھوک رتہ امرال کے چوہدری تھے۔  چوہدری بخش خان چونترے کے ایک گاؤں چک امرال کے رہنے والے تھے۔ ان کے بیٹے فتح محمد اور شیر محمد مسلم لیگ کے رکن بھی رہے۔

صدر میں مسلمانوں میں ماموں جی اور لقمان جی وغیرہ کی پراپرٹی تھی۔ کچہری روڈ پر کوٹھیاں ہی تھیں، جو تمام کی تمام ہندو اور سکھوں کی تھیں، مسلمانوں کے ٹاٹوں والے دروازے ہی تھے۔صدرمیں کچھ اچھے گھر مسلمانوں کے ضرور تھے۔

شہر سے باہر پہلا پوش علاقہ اصغر مال تھا

راولپنڈی ایک چھوٹا سا شہر تھا، جو کوہاٹی بازار نو نمبر چونگی تک محدود تھا۔ اس سے آگے صرف پارسیوں کا قبرستان تھا۔ یہاں چوک میں بابے گربخش سنگھ بیدی کی کوٹھی تھی۔ سڑک پار شانتی سروپ بھگت، جس نے کشمیری سلک کی تجارت میں بڑا مال بنایا تھا۔ اس نے کشمیر گیٹ نامی کوٹھی بنائی، جس کے سامنے ہردیت سنگھ بھٹے والے کا گھر تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب ہری پورے، کرتار پورے، بھابڑ خانے کے لوگ امیر ہو گئے تو یہ بڑے گھروں کی تعمیر کے لیے شہر سے باہر نکلنا شروع ہوئے۔ تب اصغر مال روڈ بنی، جو شیخ اصغر علی اس وقت کے کمشنر کے نام پر بنائی گئی۔

جہاں ملک مخمین سنگھ، میجر پریتھی پال سنگھ، رائے بہادر ہری سنگھ، باؤ پرتنی چند کے بیٹے چونی لال کا گھر بھی تھا، جو رائے بہادر ہری سنگھ کا داماد تھا۔ آگے دسہر میدان تک جا کر آبادی ختم ہو جاتی تھی۔

سردار بہادر چوہدری سروپ سنگھ نے یہاں بڑا مکان بنایا۔ رائے بہادر پنڈت چو نارائن داس موہن وغیرہ کا گھر یہاں تھا۔ دوسری ایلیٹ رہائش کالج روڈ کہلاتی تھی، وہ سڑک ڈاکٹروں اور وکیلوں کے گھروں کی تھی۔ وہاں سرجیت سنگھ ، ڈاکٹر بندرا، بھگت لکشمی نارائن کے گھروں کی تو بات ہی اور تھی۔

اسی روڈ پر سردار بہادر بیان سنگھ ، بخشی گل چرن سنگھ  کا گھر تھا۔ وہاں پہلے بخشی دلیپ سنگھ رہتے تھے جنہوں نے وکالت چھوڑ کر ٹھیکے داری شروع کر دی تھی۔ پھر مری روڈ پر بڑے بڑے خوبصورت گھر بننے لگے۔ صاحب سنگھ اور تھاپڑوں کے گھر تھے۔ یہ پانچ سات ہی گھر تھے جو بڑے ہی خوبصورت تھے۔

نالہ لئی شہر اور کینٹ کی حد بندی تھی۔ روز سینما کو جو روڈ جاتی ہے، اسے اس وقت ہنس راج ساہنی کے نام پر ساہنی روڈ کہا جاتا تھا، جو وکیل تھے اور بھیرے کے تھے۔

گورڈن کالج والی سڑک اور مری روڈ پر پوش آبادیاں بننی شروع ہو گئیں لیکن راولپنڈی صدر کا علاقہ پورے ہندوستان میں سب سے صاف ستھرا علاقہ کہلاتا تھا، جو ناردرن کمانڈ کا ہیڈ کوارٹر تھا۔ ہندوستان کی پانچ کمانڈیں تھیں، ایک پنڈی میں تھی۔ صدر میں زیادہ تر پراپرٹی اور بنگلوں کے مالک ہندو اور سکھ تھے۔

پہلی کار نواب محمد حیات نون نے خریدی

راولپنڈی میں کاریں بھی چند لوگوں کے پاس تھیں۔ پہلی کار کسی پرائیویٹ آدمی کے پاس 1919میں آئی۔ وہ نواب محمد حیات نون کی تھی جو سر فیروز خان نون کے باپ تھے۔ وہ راولپنڈی میں  اے ڈی ایم لگے ہوئے تھے۔

سجھان سنگھ کی فیملی اس وقت کورٹ آف وارڈ میں تھی۔ بعد میں ان کے پاس بڑی خوبصورت کاریں آئیں۔ پھر ڈاکٹر بندرا کے پاس بھی اچھی کار تھی۔

شہر بہت  چھوٹا تھا، کار ضرورت نہیں فیشن تھی۔ لوگوں نے گھوڑے ٹانگے اپنے رکھے ہوتے تھے۔ پھر ٹم ٹما اور گگ بھی ہوتی تھی۔ راولپنڈی کے لوگ بہت خوش پوش تھے، بالخصوص باوا سند سنگھ بیدی، جو راولپنڈی کی ایک خوبصورت اور وجیہہ شخصیت تھے۔

باؤ رام نرائن دھوم کا چہرہ بھی آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔ لالہ برکت رام کی صورت بھی آنکھوں کے سامنے آتی ہے، جو ہمارے گھر تقریباً روز شام کو آتے تھے۔

اسی طرح حاکم سنگھ ساہنی بھی خوش پوش تھے۔ پگڑی باندھتے، اونچا لمبا قد لیکن تمباکو والا پان کھاتے تھے۔ ڈاکٹر شکنتلا بھی بہت یاد آتی ہے۔ بہت خوبصورت خاتون تھیں۔ شہر اتنا چھوٹا تھا کہ سبھی لوگ ایک دوسرے کو جانتے تھے کہ یہ کون ہے؟

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ