معاشرے کی بےحسی اور عدم برداشت ہی جان لے گی

مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے والے ایسے تمام واقعات کے اوپر اٹھنے والے بعض سوالات کے جواب صرف ہماری عدلیہ اور پولیس کے پاس ہی ہیں۔

کراچی میں مشتعل ہجوم کی جانب سے لگائی گئی آگ بھجانے کی کوشش۔ (فائل فوٹو۔ اے ایف پی)

برداشت کرنا اور معاف کر دینا کیا ہوتا ہے؟ ان کے معنی سے شاید ہمارا معاشرہ واقف ہی نہیں ہے۔ ہمیں اب عدم برداشت سے متاثرہ اور جان لیوا کئی واقعات کے بعد یہ تسلیم کر لینا چاہیئے کہ ہم ایک بیمار ذہنیت کا معاشرہ ہیں جو نہ صرف ماضی میں کی گئی غلطیوں کو بھلا دیتا ہے بلکہ ایک نئے سرے سے جرم اور بےحسی کے عزم سے پوری تیاری کے ساتھ ایک بار پھر پچھلی غلطیوں کو دہرانے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ زرا دیکھیئے تو جرم کر کون رہا ہے ۔ ایک پڑھا لکھا نوجوان۔

مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے  والے 16 سالہ لڑکے کا کراچی میں واقعہ کیا نیا ہے؟ کیا ماضی میں اس طرح کے کوئی واقعات رونما نہیں ہوئے تھے؟ کیا ماضی میں معاشرے نے کچھ نہیں سیکھا تھا؟ پندرہ اگست 2010 کو ہجوم کے ہاتھوں بیدردی سے قتل ہونے والے سیالکوٹ کے دو بھائیوں منیب اور مغیث کا واقعہ آج بھی سب کے ذہنوں میں محفوظ ہے۔ ابھی تو چوری یا ڈکیتی کے الزام میں دسویں جماعت کے ان دو بچوں پر درندگی، بربریت اور معاشرے کی بےحسی پر ہم آنسو بہا رہے تھے کہ مشعال خان کا مردان یونیورسٹی میں پڑھے لکھے ہجوم کے ہاتھوں اتنی ہی بیدردی سے قتل کا واقعہ رونما ہو جاتا ہے۔ اس کی ویڈیوز بھی ہم سب نے دیکھیں۔ پولیس کو بھی ان واقعات میں کھڑے  بےحسی سے تماشا دیکھتے ہوئے دیکھا گیا۔

ہجوم تماشا دیکھتا ہے، چسکے لیتا ہے ویڈیوز ریکارڈ کرتا ہے لیکن ان میں کسی میں بھی اتنی اخلاقی جرات پیدا نہیں ہوتی کہ مرنے والے کو بچا لے یا کم ازکم پولیس کو ہی فون کر دے یا مارنے والے کو روک لے۔ الٹا مارنے والوں کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں اور مارنے کے زیادہ ازیت ناک  طریقے بتا رہے ہوتے ہیں کہ ایسے نہیں ایسے مارو۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دو مسیحی بھائیوں کا بیدردی سے قتل، چوری کے الزام میں دو عورتوں پر وہ تشدد اور پریڈ کہ روح بھی کانپ جائے۔ ان واقعات میں مردانگی کی اعلی مثالیں قائم کی گئیں۔ کسی کو خیال تک نہ آیا کہ خدا خوفی یا معافی کا مشورہ ہی دے دو۔ چھ سو یا چھ ہزار روپے کی رقم ادا کر کے ان کی جان بخشی کروا دو۔ کہاں ہیں مدینہ کی ریاست کے خواب دیکھنے والے؟

مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل کے ان تمام  واقعات میں ہجوم سمیت اگر کسی کی بےحسی دیکھنے میں آتی ہے تو وہ ہے قانون کی۔ پولیس اپنی موجودگی میں چوری کے الزام پر ہونے والے قتل کی چشم دید گواہ ہوتی ہے۔ پولیس کی موجودگی میں ایک معمولی جرم سے قتل جیسے بڑے جرائم پیدا ہو جاتے ہیں اور پھر سوشل میڈیا پر جب طوفان برپا ہوتا ہے شور اٹھتا ہے تبھی ملزمان بھی گرفتار کئے جاتے ہیں کہ اب بات ملک سے باہر دیگر ممالک تک یا انسانی حقوق کی تنظیموں تک پہچ جائے گی۔ ملزمان گرفتار ہوتے ہیں لیکن عدالتی کارروائیوں میں قتل ہونے والے کی کہانی کہیں دور رہ جاتی ہے اور لوگ بھول بھال جاتے ہیں۔ پھر ایک اور اسی نوعیت کا واقعہ رونما ہوتا ہے تو ہماری یاددشتوں میں چھپے ایسے تکلیف دہ واقعات تازہ ہوجاتے ہیں۔

اگر فوری انصاف ہو فوری سزائیں ہوں تو شاید ایسے واقعات میں کچھ کمی آ جائے۔ مشتعل ہجوم پر اگر فوری طور پر قابو پا لیا جائے یا معاشرے کے زندہ انسانوں میں کسی کا ضمیر زندہ ہو تو شاید ان واقعات کو رونما ہونے سے روکا جا سکے۔ اگر معمولی جرائم میں ملوث لوگوں کو گرفتار کرکے پولیس کے حوالے کر دیا جائے یا ایسا مشورہ ہی ہجوم میں سے کوئی دے دے تو بھی پڑھے لکھے مشتعل ہجوم سے بہت سے لوگوں کی جان بچائی جا سکتی ہے۔ آخر پڑھے لکھے، نیم خواندہ یا مکمل ان پڑھ لوگ ہجوم کی شکل میں کسی ایک مجبور اور لاچار کی معمولی سے جرم میں جان کیوں لے لیتے ہیں؟

اس کا جواب تو ماہر نفسیات یوں دیتے ہیں کہ ایک معاشرے میں بےحسی اور تشدد اس وقت جنم لیتا ہے جب اس معاشرے میں انصاف کا حصول ناممکن، تشدد، عدم برداشت اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی فرسٹریشنز بڑھ جایں تو قتل جیسے جرائم مرتکب ہوتے ہیں۔

لیکن مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے والے ایسے تمام واقعات کے اوپر اٹھنے والے بعض سوالات کے جواب صرف ہماری عدلیہ اور پولیس کے پاس ہی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ