ارینج میرج: ٹینشن سے ایکسٹینشن تک

پچیس جولائی کی منگنی کے بعد 18 اگست کو ہونے والا ’ارینج میرج‘ تو سبھی کو یاد ہوگا۔ اس نے ’کامیابی‘ سے ایک سال پورا کیا ہے۔

شادی کے دوسرے سال کے پہلے دن ہی مبارک فیصلہ کیا گیا۔ جس پر سب واہ واہ کر رہے ہیں، فیصلہ کرنے والے کی دور اندیشی کو داد دی جا رہی ہے۔

ارینج میرج بھی کمال چیز ہوتی ہے جس میں رشتہ والدین تلاش اور فائنل کرتے ہیں۔ جہیز میں کیا دینا کیا لینا ہے، کھانا کیا پکے گا، قاضی کون ہوگا، بارات کیسے اور کتنے بجے آئے گی، نکاح کب ہو گا، مہر کتنا طے ہو گا، لڑکی کا سر پکڑ کر تین بار کون ہلائے گا اور ’قبول ہے، قبول ہے‘ کہتے ہوئے ہوا میں چھوارے کون اچھالے گا؟ یہ سب دلہن کے بڑے ہی طے کرتے ہیں۔ لڑکے اور لڑکی کو صرف دولھا دلہن کا کردار نبھانا ہوتا ہے۔ لڑکی رشتے سے انکار کرنے کا سوچے بھی تو اسے طرح طرح سے دھمکایا جاتا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں یہ عام رواج ہے۔ کبھی غلطی سے عوام ’لو میرج‘ کر بھی بیٹھے تو سازشی اسے بہت جلد تڑوا دیتے ہیں۔ پچیس جولائی کی منگنی کے بعد 18 اگست کو ہونے والا ’ارینج میرج‘ تو سبھی کو یاد ہوگا۔ اس نے ’کامیابی‘ سے ایک سال پورا کیا ہے۔ اس شادی کے حق میں جو لوگ تھے وہ اب تک ساتھ ہیں لیکن جو مخالف تھے وہ اب تک ماتم کناں ہیں۔

لیکن یہ شادی کتنی کامیاب رہی ہے اس کا اندازہ سسرالیوں اور میکے والوں کی چیخوں سے لگایا جاسکتا ہے۔ حق مہر میں طے پانے والی شرائط پر عمل سے جانچا جاسکتا ہے۔ اس شادی کو کامیاب بنانے کے لیے کیا کیا جتن نہیں کیے گئے۔ کس کس کو جیل میں نہیں ڈالا گیا۔ دولہے کو مہندی لگانے والے، شہہ بالا تک کو نہیں بخشا گیا، بارات پر نوٹ لٹانے والے تک پریشان ہیں۔ پس پردہ نکاح میں ساتھ دینے والا کہتے ہیں کہ ’مجھے جیل والے بہت تنگ کرتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کو مدینے کی طرز پر فلاحی ریاست بنائیں گے، بیوروکریسی کو سیاست سے پاک کیا جائے گا، اداروں میں میرٹ لایا جائے گا، جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنا کر اقتصادی پیکیج دیا جائے گا، ایک کروڑ نئی نوکریاں پیدا کی جائیں گی، خارجہ پالیسی میں اصلاحات لائی جائیں گی، ملک بھر میں درخت لگائے جائیں گے، کراچی میں قبضہ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا، ٹیکس کا بوجھ کم کیا جائے گا، بجلی اور گیس کی قیمت کو کم کیا جائے گا، 50 لاکھ سستے مکان بنائے جائیں گے، نئے سیاحتی مقامات قائم کئے جائیں گے۔ یہ وہ وعدے تھے جو نکاح کے چھوہارے ہوا میں اچھالنے سے قبل کیے گئے تھے۔ان پر کتنا عمل ہوا آپ خود اندازہ لگالیں۔

یہ شادی کتنی مہنگی پڑی ہے؟ کچھ سرکاری اعداد و شمار میں بھی پیش کر دیتا ہوں۔اس وقت مجموعی اندرونی اور بیرونی قرضے 31 ہزار 800 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، 7600 ارب روپے اضافہ ہوا، روپے کی قدر کم ہونے سے 42 فیصد قرضے بڑھے ہیں، ایک سال میں 1200 ارب روپے کے کمرشل بینکوں سے قرضہ لیا گیا ہے، ایک سال پہلے شرح سود 5.75 تھی اب 13.25 فیصد ہوگئی ہے، مہنگائی کی شرح 7 سے بڑھ کر 10 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ 2021 تک حالات ایسے ہی رہیں گے۔

ایک سال مکمل ہونے پر دولہا بظاہر مطمئن نظر آتا ہے، اور اس کے اطمینان کی بڑی وجہ مخالفین میں اتحاد کا فقدان ہے یا دلہن کے مسائل سے عدم دلچسپی ہے۔ زبانی طور پر بڑے بڑے دعوے کرنے والی اپوزیشن میں وقفے وقفے سے اختلاف نظر آتا رہتا ہے۔ چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک اعتماد میں ناکامی میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ ضمیر فروشوں کا سراغ لگانے کی بات کی گئی تھی، اس کاوش کا ابھی تک کوئی نتیجہ نہیں سامنے آیا ہے۔ اے پی سی پر اے پی سی کھیلی جا رہی ہے لیکن اس کا  نتیجہ صفر ہے۔ یہ بیماروں کی فوج اور بکریوں کا ریوڑ بن چکے ہیں۔ کسی کی کمر میں درد ہے تو کسی کا دل خراب ہے۔ دلہن چیختی رہے چلاتی رہے ان کی صحت پر اثر نہیں پڑنے والا۔

بے حسی پر مری وہ خوش تھا کہ پتھر ہی تو ہے

میں بھی چپ تھا کہ چلو سینے میں خنجر ہی تو ہے

بات دلہن کی ٹینشن سے ایکسٹینشن تک پہنچ چکی ہے۔ شادی کے دوسرے سال کے پہلے دن ہی مبارک فیصلہ کیا گیا۔ جس پر سب واہ واہ کر رہے ہیں، فیصلہ کرنے والے کی دور اندیشی کو داد دی جا رہی ہے۔ وہ امریکہ ہو، افغانستان، بھارت، ایران یا مشرق وسطیٰ کے ممالک ہوں سب کو پتہ لگ گیا ہے کہ ’ہم ایک صفحے پر ہیں۔‘ میرے جیسے ہر خیر خواہ کی دعا ہے کہ اللہ کرے یہ رشتہ قائم رہے لیکن کچھ بدخواہ کہتے ہیں کہ ایکسٹینشن کے بعد ’دولہا‘ تبدیل کر دیا جائے گا۔ بدخواہوں کے منہ میں خاک۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ