سنجیدہ معاملات پر پڑوسی سے بات کرنے کو تیار ہیں: شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو کہا: ’ہم ان (انڈیا) سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ ہمسایہ سنجیدہ معاملات پر بات کرنے کے لیے سنجیدہ ہو۔‘

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان سنگین مسائل پر اپنے ’پڑوسی‘ کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے، کیونکہ جنگیں اب آپشن نہیں ہیں۔

منگل کو اسلام آباد میں معدنی ترقی سے متعلق منعقد تقریب ’منرل سمِٹ‘ سے خطاب میں وزیراعظم نے انڈیا کے حوالے سے کہا: ’ہم ان سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ ہمسایہ سنجیدہ معاملات پر بات کرنے کے لیے سنجیدہ ہو … کیونکہ جنگ اب کوئی آپشن نہیں ہے۔‘

وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ ’پاکستان، خدا کا شکر ہے، ایک جوہری طاقت ہے- ایک جارح کے طور پر نہیں، بلکہ ہمارے دفاعی مقاصد کے لیے ہے۔

اور خدا نہ کرے اگر ایٹمی فلیش پوائنٹ ہوا تو کون زندہ رہے گا جاننے کے لیے کہ کیا ہوا؟ اس لیے جنگ کوئی آپشن نہیں ہے۔‘

انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان نے گزشتہ 75 سالوں میں تین جنگیں لڑیں، جن کے نتیجے میں غربت اور وسائل کی کمی پیدا ہوئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ وسائل عوام کی ترقی اور خوشحالی پر خرچ کیے جا سکتے تھے۔

’کیا یہی طریقہ ہے جسے ہم اپنایا جائےیا معاشی مسابقت کے راستے کو اپنایا جائے؟‘

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا: ’پڑوسی کو یہ سمجھنا ہو گا کہ غیر معمولی چیزوں کو دور کیے بغیر ہم عام پڑوسی نہیں بن سکتے، اور جب تک ہمارے سنگین مسائل کو پرامن اور بامعنی بات چیت کے ذریعے سمجھا اور حل نہیں کیا جاتا۔‘

وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ کے ساتھ بھی دوستانہ تعلقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’ہم امریکہ کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ان کے ساتھ ماضی کی طرح بہترین تعلقات رکھنا چاہتے ہیں، باہمی احترام اور اعتماد کی بنیاد پر (اور جس میں) ہم ایک دوسرے کو دھوکہ دینے کی کوشش نہیں کرتے۔‘

وزیراعظم شہباز شریف نے گذشتہ مہینے قائم ہونے والی اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پہلی بار ایسا قدم اٹھایا گیا ہے، جس کے تحت اسٹیک ہولڈرز تعاون اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں سہولت فراہم کریں گے۔

وزیراعظم نے گزشتہ 75 سالوں کے ’تلخ تجربات‘ سے سبق سیکھنے اور قدرتی معدنیات اور ذخائر سمیت غیر استعمال شدہ وسائل کی تلاش اور زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبوں کو ترقی دے کر سخت کوششوں، تعاون اور لگن کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ گزشتہ 75 سالوں کے دوران پاکستان تقریباً 60 کھرب ڈالر مالیت کے قدرتی ذخائر سے بھرپور استفادہ نہیں کر سکا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ روس کی مدد سے پاکستان اسٹیل ملز 70 کی دہائی میں قائم کی گئی تھی جبکہ ریکوڈک میں پاکستان پر 10 ارب ڈالر کا بھاری جرمانہ عائد کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر جرمانہ نافذ کیا جاتا تو ملک کے تمام غیر ملکی ذخائر ختم ہو چکے ہوتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعض کارٹیلز کی وجہ سے ماضی میں قدرتی وسائل کی تلاش نہیں کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس تلاش میں تاخیر کی ایک وجہ مالی اور سیاسی وجوہات بھی ہیں۔ اس کے لیے ’گہری خود شناسی‘ کی ضرورت ہے۔

آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ’پاکستان منرل سمٹ‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معدنیاتی پروجیکٹس پاکستانی عوام کی ترقی کا زینہ ہیں۔

جنرل عاصم بیرک گولڈ کے سی ای او اور صدر مارک برسٹو، سعودی مائننگ منسٹر انجینیئر خالد بن صالح اور دیگر سرمایہ کاروں کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری سرزمین معدنیات سے مالامال ہے، اور بیرونی ملک سرمایہ کاروں کو دعوت دی کہ وہ پاکستان میں چھپے خزانے دریافت کریں۔

منرل سمِٹ کا پس منظر

گذشتہ مہینے صحافی حامد میر نے شمالی وزیرستان سے ایک پروگرام کیا جس میں انہوں نے عوامی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر علاقے محمد خیل میں جاری کاپر مائننگ پراجیکٹ سے متعلق انکشاف کیا۔ 

حامد میر نے لکھا: ’وہ شمالی وزیرستان جو کبھی بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کی وجہ سے بدنام تھا اب پاکستان کی نئی امیدوں کا مرکز بن رہا ہے کیونکہ دہشت گردی کا مقابلہ صرف بندوق سے نہیں بلکہ لوگوں کو تعلیم اور روزگار دیکر بھی کیا جاتا ہے جس کی ایک بڑی مثال محمد خیل کاپر مائننگ پراجیکٹ بن گیا ہے۔‘

حامد میر کی اس ٹویٹ کے بعد ٹوئٹر پر علاقے کے رہائشیوں کو مائننگ پراجیکٹ میں روزگار کے مواقع اور ٹیلی فون اور انٹرنیٹ سمیت متعدد وسائل کی عدم دستیابی سے متعلق بحث چھڑ گئی اور یہ سوال اٹھایا جانے لگا کہ اس سے رہائشیوں اور ملک کو کس طرح اور کیسے فائدہ ہو سکتا ہے؟

اس حوالے سے اسلام آباد میں پاکستان منرل سمِٹ کا انعقاد کیا گیا، جس میں وزیر اعظم، آرمی چیف، ماہرین معدنیات اور غیر ملکی سرمایہ داروں سمیت 30 ممالک کے نمائندگان نے شرکت کی۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈپینڈنٹ اردو کو وزارت پٹرولیم کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے معدنی وسائل کی تخمینہ قیمت چھ ٹرلین ڈالر سے زیادہ ہے۔

اگر ان معدنی وسائل سے فائدہ اٹھایا جائے تو اس سے روزگار کی تعداد تین لاکھ سے بڑھ کر پانچ لاکھ ہو جائے گا۔ معدنی برآمدات 1.17 بلین ڈالر سے بڑھ کر پانچ بلین ڈالر ہو جائیں گی جبکہ گراس ڈومیسٹک پراڈکٹ (جی ڈی پی) میں معدنی شعبہ کا حصہ جو ایک فیصد ہے، بڑھ کر تین سے پانچ فیصد ہو جائے گا۔ 

وزیر مملکت مصدق ملک نے منرل سمٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا سمٹ کا مقصد براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کو بڑھانا ہے۔ زراعت، لائیو سٹاک، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور معدنیات کے میدان میں جدید ٹیکنالوجی استعمال ہو گی۔ ’معدنیاتی انقلاب سے برآمدات اور شرح نمو میں اضافہ ہوگا۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’معدنی انقلاب کے تین مقاصد ہیں، جن میں چھوٹے بڑے انڈسٹریل زون بنائے جائیں گے، انسانی ماحولیاتی تحفظ کے لیے واضع منصوبہ بندی اور سرمایہ کاروں کے لیے ون ونڈو آپریشن عمل میں لایا جائے گا، جبکہ منصوبے کے دوسرے مرحلہ میں منرل ڈویلپمنٹ کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔‘ 

جیولاجیکل سروے پاکستان کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں جن میں بلوچستان کے مسلم باغ، گردی جنگل اور خیبر پختونخوا کے شانگلہ، چترال، مالاکنڈ اور باجوڑ، چنیوٹ سمیت دیگر علاقے شامل ہیں، جہاں معدنیات کے وسائل موجود ہیں۔ 

تاہم حکومت کے اس ’چھ ٹرلین ڈالر‘ دعوے کی بین الاقوامی جیولاجیکل سروے کے اداروں نے تاحال تصدیق نہیں کی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان