پاکستان انڈیا کرکٹ: ’بجلی کا بل بھریں یا میچ کے لیے ٹی وی خریدیں‘

پاکستان میں شدید مہنگائی نے دونوں روائتی حریفوں کے درمیان کرکٹ میچ سے لطف اندوز ہونے کو بھی متاثر کیا ہے۔

پاکستان میں رواں مہینوں کے دوران ڈالر کی بڑھتی قدر اور شدید مہنگائی نے نہ صرف روز مرہ کے معمولات بلکہ پاکستان اور انڈیا کے کرکٹ مقابلوں سے لطف اندوز ہونے کو بھی متاثر کیا ہے۔

گذشتہ چند برسوں میں پاکستان کے مختلف شہروں میں بڑے مالز، کاروباری مراکز اور محلوں میں دونوں راویتی حریف ٹیموں کے مقابلے بڑی سکرینز پر دیکھنے کا رجحان بڑھا تھا۔

ان مقابلوں کے لیے خصوصاً بازاروں سے بڑی ٹی وی سکرینز اور سپیکرز وغیرہ خریدے جاتے تھے۔

تاہم مہنگائی کی وجہ سے ان سکرینز کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کے بعد رواں سال ایشیا کپ اور ورلڈ کپ میں پاکستان انڈیا کے میچ دکھانے کا اہتمام شاید ماضی جیسا نظر نہ آئے۔

اسلام آباد کے کاروباری مرکز بلیو ایریا میں الیکٹرانکس مارکیٹ کے دکان داروں کے مطابق مہنگائی اور بجلی کی قیمت میں حالیہ اضافے کے بعد کرکٹ شائقین ٹی وی خریدنے نہیں آ رہے۔

بلیو ایریا میں واقع ایک الیکٹرانکس دکان کے مالک ظہر احمد کا کہنا ہے کہ ’پہلے جب انڈیا پاکستان کا میچ ہوتا تھا تو ہماری ایل ای ڈیز، ٹی وی کی بڑی سکرینز بکتی تھیں۔

’ان دنوں ایسا نہیں ہو رہا کیونکہ مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید ختم ہو چکی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’گذشتہ برسوں میں جب پاکستان اور انڈیا کا میچ ہوتا تو ہم ایل ای ڈیز اور ٹی وی سکرینز پر اضافی سرمایہ کاری کرتے تھے کیونکہ ہم جانتے تھے اس سیزن کے دوران ہماری فروخت میں اضافہ ہو گا لیکن اب تو ہمارا مال ہی نہیں بکتا۔‘

ایک اور دکان دار عابد نصیر نے بتایا کہ ’جب سے اگست کے بجلی کے بل آئے ہیں ہر شخص پریشان ہے کہ ستمبر میں بجلی کا بل کتنا آئے گا۔

’کاروباری حالات بہت برے ہیں اور ایل ای ڈیز تو دور ایک استری تک فروخت نہیں ہو رہی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ لوگ پریشان ہیں کہ بجلی کے بل ادا کریں یا میچ دیکھنے کے لیے ٹی وی خریدیں۔

دکان دار تعظیم احمد نے بتایا کہ ’موجودہ حالات میں کسٹمر بہت کم چکے ہیں۔ صرف ٹی وی کی بات نہیں تقریباً تمام مصنوعات کے کسٹمر کم چکے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’پہلے کرکٹ میچز کے دوران لوگ ٹی وی خریدتے تھے لیکن اب ان کی تعداد بہت کم ہو چکی ہے، لیکن میچ تو لوگ دیکھتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت