سارہ قتل کیس: والد، سوتیلی والدہ اور چچا برطانیہ میں گرفتار

برطانیہ میں 10 سالہ بچی سارہ شریف کے قتل میں لندن پولیس کو مطلوب بچی کے والد عرفان شریف، سوتیلی ماں بینش بتول اور چچا فیصل شہزاد بدھ کو سیالکوٹ ایئر پورٹ سے براستہ دبئی لندن روانہ ہوئے تھے۔

چھ ستمبر، 2023 کو لندن میں سرے پولیس کی جانب سے جاری اس تصویر میں (دائیں سے بائیں) بینش بتول، سارہ شریف اور عرفان شریف نظر آ رہے ہیں (اے ایف پی/ سرے پولیس)

برطانوی پولیس نے برطانیہ میں اپنے گھر میں مردہ پائی جانے والی 10 سالہ بچی سارہ شریف کے والد عرفان شریف، سوتیلی والدہ بینش بتول اور چچا فیصل ملک کو برطانیہ میں لینڈ کرتے ہی بدھ کو گرفتار کرلیا۔

یہ تینوں افراد بدھ  کو سیالکوٹ ایئر پورٹ سے براستہ دبئی لندن روانہ ہوئے تھے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بدھ کو سرے پولیس کے تفتیش کار سپرنٹنڈنٹ مارک چیپ مین نے ایک ٹیلی ویژن بیان میں بتایا: ’آج شام گیٹ وک ایئرپورٹ پر تفتیش کے سلسلے میں تین افراد کو گرفتار کیا گیا۔‘

انہوں نے ملزمان کے نام لیے بغیر بتایا: ’دو مردوں، جن کی عمریں 41 سال اور 28 سال ہیں، اور ایک 29 سالہ خاتون کو پرواز سے اترنے کے بعد قتل کے شبے میں گرفتار کیا گیا۔‘

پولیس تفتیش کار نے مزید بتایا کہ ’وہ فی الحال حراست میں ہیں اور مناسب وقت پر ان سے انٹرویو کیا جائے گا۔‘

اس سے قبل پنجاب پولیس کے ترجمان مدثر خان نے اے ایف پی کو تینوں مشتبہ افراد کی لندن روانگی کی تصدیق کی تھی۔

دس سالہ سارہ شریف کی لاش 10 اگست کو سرے کے شہر ووکنگ میں ان کے گھر سے ملی تھی۔

ڈی پی او جہلم ناصر محمود کے مطابق: ’انہیں اگست میں انٹرپول کا ایک خط موصول ہوا جس میں بتایا گیا کہ ایک پاکستانی نژاد 10 سالہ بچی کی لاش اس کے گھر سے برآمد ہوئی ہے، جس کی شناخت سارہ شریف کے نام سے ہوئی اور اس کی موت غیر طبی معلوم ہوتی ہے۔ ‘

انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ بچی کے والدین جہلم آئے ہیں جس پر مقامی پولیس نے ان کی تلاش شروع کر دی۔

جہلم پولیس نے عرفان اور بینش کے اہل خانہ سے بھی تفتیش کی، تاہم وہ مطلوب افراد تک پہنچنے میں ناکام رہی۔

گذشتہ ہفتے بینش بتول نے اپنے شوہر کے ہمراہ ایک نامعلوم مقام سے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’سارہ کی موت معمول کا واقعہ تھا۔ ہماری فیملی کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ہم اس لیے چھپے ہوئے ہیں کہ پولیس ہم پر تشدد کرے گی یا ہمیں مار دے گی۔‘

پولیس نے رواں پیر کی رات سارہ کے دادا محمد شریف کی دکان اور گھر پر چھاپہ مار کر عرفان اور بینش کے ایک سے 13 سال کی عمر کے درمیان پانچ بچے حفاظتی تحویل میں لے لیے تھے۔

محمد شریف نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ’پولیس گذشتہ کئی روز سے سارہ کی موت سے متعلق معلومات لے رہی ہے۔ مجھے جو کچھ معلوم تھا بتا دیا، پولیس کو علم تھا کہ بچے میرے پاس ہیں، لیکن پیر کی رات اچانک دکان اور گھر کے تالے توڑ کر پولیس اندر گھسی اور مجھے اور بچوں کو پکڑ لیا۔‘

ان بچوں کو منگل کو پہلے جہلم ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں پیش کیا گیا جس کے بعد کیس کو علاقہ مجسٹریٹ جاوید اقبال کی عدالت میں منتقل کر دیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مختصر سماعت کے بعد جج نے بچوں کو سرکاری ادارے ’چائلڈ پروٹیکشن بیورو‘ راول پنڈی بھجوانے کا حکم دیا۔

چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی چیئرپرسن سارہ احمد نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’جہلم کی عدالت نے ان پانچوں بچوں کو ہماری تحویل میں دیا ہے، جس کے بعد ہم انہیں لاہور بیورو لے آئے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بچے برطانوی شہری ہیں اور ذہنی الجھن کا شکار ہیں، وہ کسی سے بات کرنے کو تیار نہیں۔

سارہ احمد کے مطابق ان بچوں کی مکمل دیکھ بھال کی جا رہی ہے اور ماہرین نفسیات سے معائنہ بھی کرایا گیا۔

’ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ عدالت کے آئندہ حکم تک یہ بچے ہمارے پاس امانت ہیں اس وقت تک ان کا ہر طرح خیال رکھا جائے گا۔‘

پولیس ریکارڈ کے مطابق جہلم کے علاقہ کڑی جنجیل سے تعلق رکھنے والے ملک عرفان شریف نے 2009 میں برطانیہ میں پولش خاتون اولگا سے شادی کی تھی، جن سے ان کی ایک بیٹی اور بیٹے کی پیدائش ہوئی۔

2017 میں عرفان نے اولگا کو طلاق دے دی، جس کے بعد عدالتی حکم پر دونوں بچوں کو والد کی تحویل میں دے دیا گیا۔

عرفان شریف اپنی دوسری بیوی بینش بتول اور بچوں کے ساتھ سرے کے علاقے میں منتقل ہو گئے تھے جہاں 10گست، 2023 کو سارہ شریف کی موت ہوئی۔  

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان