اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کھیل

اپوزیشن پس زنداں ہے۔ کشمیر مودی کی یلغار کے بعد دنیا کا سب سے بڑا عقوبت خانہ بنا ہوا ہے۔ مہنگائی کا اژدھا پھن پھیلائے ہے، مسائل کا انبار ہے۔ فوج اور حکومت ایک صفحے پر ہیں۔

وزیر اعظم اور عسکری قیادت کا امتحان ہے کہ وہ طوفان کے بھنور میں گھرے ملک کو باہر کس تدبر سے نکالتے ہیں۔ اس امتحان میں وزیر اعظم کامیاب ہو گئے بصورت ديگر کسی نئی لیڈر شپ کو تیار کیا جائے گا۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ حمید گل مرحوم سہیل وڑائچ کی کتاب ’جرنیلوں کی سیاست‘ میں فرماتے ہیں کہ عمران خان کو آئیڈیل لیڈر مانتے ہیں۔ ’ضروری ہے کہ نئی قیادت ابھاری جائے کیوں کہ ہماری پرانی قیادت ناکام ہو چکی ہے، پرانے رہنما اپنی تلخیوں کو ختم نہیں کر سکے اور نہ ہی ملک و قوم کے لیے کچھ کر سکے ہیں۔ یہ لوگ ایک ہی چیز کو بار بار پریکٹس کر رہے ہیں جس کی وجہ سے قوم مایوسی کے گڑھے میں گر رہی ہے اس لیے ضروری ہے کہ ہم ایک نئی قیادت کو سامنے لائیں۔‘

عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے ریڈار پر اسی کی دہائی سے ہیں۔ ضیاء الحق ملک کے سیاہ و سفید کے مالک ہوتے ہیں۔ پوری آب و تاب کے ساتھ حکمرانی کر رہے ہوتے ہیں۔ عمران خان بھی کرکٹ کی دنیا کے بےتاج بادشاہ ہوتے ہیں۔ چہار دانگ عالم ان کا شہرہ ہوتا ہے۔ ضیاء الحق انہیں وزیر بننے کی پیشکش کرتے ہیں عمران خان شکریہ کے ساتھ اس پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔

وقت گزرتا ہے۔ ضیاء الحق ملک میں غیرجماعتی بنیادوں پر انتخابات کرواتے ہیں اور ایک بار پھر ان کی نگاہ انتخاب عمران خان پر جا کے ٹھہرتی ہے۔ ایک مقتدر شخصیت عمران خان کے پاس پیامبر بن کے جاتی ہے خان کی طرف سے دوبارہ انکار کا جواب ملتا ہے۔

ضیاءالحق کی عقابی نگاہیں لاہور سے تعلق رکھنے والے میاں نواز شریف سے ٹکرتی ہیں وہ سیاست میں ضیاء الحق کے کندھوں پر سوار ہو کر آ جاتے ہیں۔ وزیر خزانہ سے سفر شروع ہوتا ہے پھر وزارت اعلٰی اور پھر سیاست کی معراج یعنی ملک کے وزیر اعظم بنتے ہیں۔

اردو کا فصیح و بلیغ محاورہ ہے کہ ’نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔‘ پاکستان میں سیاست کا بانس اسٹیبلشمنٹ نے ہر دور میں اپنے پاس رکھا۔ انہوں نے سیاستدانوں کو سیاست کا بانس کبھی نہیں دیا بانس اپنے پاس رکھ کر خود بانسری بجاتے رہے اور بانسری کی دھنوں پر سیاست دان ناچتے رہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نواز شریف کے لیے برگیڈیئر امتیاز کام کرتے رہے اور قاف لیگ اور پیپلز پارٹی کے لیے بریگیڈیئر اعجاز شاہ۔ بریگیڈیئر امتیاز نے بھی سہیل وڑائچ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ نواز شریف کے ساتھ ان کا جذباتی تعلق تھا اور وہ نواز شریف کے ساتھ اس حد تک جڑ چکے تھے کہ انہوں نے اپنی کشتیاں جلا دی تھیں۔ محترمہ بےنظیر بھٹو وزیر اعظم تھی اور بریگیڈیئر حاضر سروس فوجی کی حیثیت سے آئی ایس آئی میں تھے۔ مشہور زمانہ آپریشن مڈنائٹ جیکال کے ذریعے بی بی شہید کی پارٹی کے اراکین اسمبلی توڑنے کی کوشش میں شامل رہے۔ اس الزام پر انہیں فوج سے فارغ کیا گیا۔ نواز شریف جب وزیر اعظم بنے تو بریگیڈیئر امتیاز کو انہوں نے آئی بی کا سربراہ بنا دیا۔

بات کہاں سے کہاں نکل گئی عمران خان 1996 میں اپنی سیاسی جماعت لانچ کرتے ہیں لیکن 1997 کے انتخابات میں انہیں کوئی نشست نہیں ملتی۔ ہر آمر اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے کنگ پارٹی بنا کر انتخابات کا ڈول ڈولتا ہے۔ کنگ پارٹی سے منتخب ہو کر آنے والے ممبران اسمبلی طالع آزما کے اشاروں پر ناچتے ہیں۔ مشرف نے بھی عمران خان کو انتخابات میں کچھ نشستیں دینے کا وعدہ کرتے ہیں عمران ایک بار پھر انکار کرتے ہیں۔ 2002 میں انتخابات ہوتے ہیں اور تحریک انصاف کے مقدر میں ایک نشست آتی ہے۔

سال دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں تحریک انصاف انتخابات کا بائیکاٹ کرتی ہے اور پیپلزپارٹی اور نون لیگ مل کر حکومت بناتے ہیں۔ نون لیگ اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی چاہتی ہے جبکہ پیپلز پارٹی پس و پیش کر رہی ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان میں اختلافات ہو جاتے ہیں۔ نون لیگ حکومت سے علحیدہ ہو جاتی ہے۔

سال 2011 کا ہوتا ہے۔ تحریک انصاف مینار پاکستان لاہور میں تاریخی جلسہ کرتی ہے کہا جاتا ہے جلسے کی کامیابی کے پیچھے مبینہ طور پر اس وقت کے آئی ایس آئی کے چیف شجاع پاشا کا ہاتھ ہوتا ہے۔ 2013 کے انتخابات میں تحریک انصاف 33 نشستیں حاصل کرتی ہے۔ اس کے بعد تحریک انصاف نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ نواز شریف وزیر اعظم بنتے ہیں اور پیپلز پارٹی اپوزیشن میں۔ تحریک انصاف جاندار اپوزیشن کرتی ہے۔ 33 نشستوں کے ساتھ عمران خان وزیراعظم میاں نوازشریف کو تگنی کا ناچ نچاتے ہیں۔

سال دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات میں تحریک انصاف کامیاب ہوتی ہے اور عمران خان وزیراعظم بنتے ہیں وہ اپنی تقریروں میں اکثر فرماتے ہیں کہ 22 سال کی جدوجہد کے بعد انہیں یہ مقام ملا۔ دیکھا جائے تو 22 نہیں بلکہ 35 سال کے بعد اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے ساتھ وہ یہاں تک پہنچے۔

اپوزیشن پس زنداں ہے۔ کشمیر مودی کی یلغار کے بعد دنیا کا سب سے بڑا عقوبت خانہ بنا ہوا ہے۔ مہنگائی کا اژدھا پھن پھیلائے ہے، مسائل کا انبار ہے۔ فوج اور حکومت ایک صفحے پر ہیں۔ سپہ سالار تین سال کی توسیع لے چکے ہیں۔ وزیر اعظم اور عسکری قیادت کا امتحان ہے کہ وہ طوفان کے بھنور میں گھرے ملک کو باہر کس تدبر سے نکالتے ہیں۔ اس امتحان میں وزیر اعظم کامیاب ہو گئے بصورت ديگر کسی نئی لیڈر شپ کو تیار کیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ