مستونگ خودکش حملہ کیس میں آٹھ افراد گرفتار: پولیس

انسداد دہشت گردی پولیس کے ترجمان نے کہا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد کی نشاندہی پر مزید کارروائیاں کی جا رہی ہیں تاہم خودکش حملہ آور کی ’کوئی تفصیل موصول نہیں ہوئی ہے‘۔

مستونگ میں 29 ستمبر 2023 کو دھماکے کے بعد زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے (الخدمت فاؤنڈیشن)

کوئٹہ میں انسداد دہشت گردی کے محکمے کا کہنا ہے کہ اس نے مستونگ میں خودکش حملے میں ملوث ہونے اور اس کی سہولت کاری کے الزام میں آٹھ افراد کو حراست لیا ہے۔

بدھ کو ذرائع ابلاغ کو جاری کیے جانے والے بیان میں انسداد دہشت گردی کے ادارے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’مستونگ میں خودکش دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مختلف آپریشنز کیے جا رہے ہیں۔

ترجمان سی ٹی ڈی نے بیان میں کہا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد کی نشاندہی پر مزید کارروائیاں کی جا رہی ہیں تاہم اب تک خود کش حملہ آور کی ’کوئی تفصیل موصول نہیں ہوئی ہے‘۔

محکمہ انسداد دہشت گردی کا کہنا ہے کہ وہ حملہ آور کی شناخت کے لیے دیگر ذرائع بھی استعمال کر رہا ہے۔

ترجمان سی ٹی ڈی نے بتایا ہے کہ خود کش حملہ آور کے ڈی این اے اور فرانزک کی رپورٹس تاحال موصول نہیں ہوئی ہیں۔

’واقعے کی تحقیقات میں  کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہیں برتی جا رہی تاہم نتائج میں کچھ وقت لگے گا۔‘

بلوچستان کے شہر مستونگ میں عید میلاد النبی کے جلوس اور خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو کی ایک مسجد میں 29 ستمبر 2023 کو خودکش حملے ہوئے تھے جن میں کم از کم 55 اموات ہوئی تھیں اور متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔

مستونگ میں جمعے کو 12 ربیع الاول کے جلوس کے دوران ہونے والے خود کش دھماکے میں جان سے جانے والے افراد میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) محمد نواز گشکوری بھی شامل تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس بلوچستان عبدالخالق شیخ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ ’نواز گشکوری نے خود کش بمبار کو روکنے کی کوشش کی اور اس دوران نشانہ بنے۔‘

اس خود کش حملے کے اگلے روز یعنی 30 ستمبر 2023 کو پاکستان فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر نے کوئٹہ کے دورے کے موقع پر کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن بلا تعطل جاری رہے گا۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ ’12 ربیع الاول کو ہونے والی دہشت گردی اور اس طرح کے واقعات خوارج کے مذموم عزائم کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس دہشت گردی کو بیرونی ریاستی سرپرستوں کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔‘

اس سے قبل نگران وفاقی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ’ریاست نے فیصلہ کیا ہے ’دہشت گردوں کے محفوظ‘ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جائے گا اور ’آخری دہشت گرد‘ تک کارروائی کی جائے گی۔

اس سے قبل 14 ستمبر 2023 کو بھی مستونگ میں کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ایک گاڑی کے قریب دھماکے کے نتیجے میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے مرکزی رہنما حافظ حمد اللہ سمیت 11 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

مقامی تھانے کے ایس ایچ او نے بتایا تھا کہ اس واقعے میں حافظ حمد اللہ سمیت چار افراد زخمی ہوئے، جن میں ان کے دو گن میں اور ڈرائیور شامل ہیں، جبکہ دھماکے سے قریب سے گزرنے والی ایک کوسٹر بھی زد میں آئی، جس میں کچھ افراد زخمی ہوئے، جنہیں نواب غوث بخش ہسپتال مستونگ منتقل کردیا گیا تھا۔

مستونگ اور ہنگو میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری کسی شدت پسند گروپ نے تسلیم نہیں کی بلکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی مذمت کی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان